ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی تجویز
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 21 / جون / 2025
حکومت پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان نے کم از کم ٹرمپ کے اس ’احسان‘ کا فوری بدلہ چکا دیا ہے کہ انہوں نے بدھ کو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وہائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کرکے اعزاز دیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بدھ ہی کو میڈیا کو بتایا تھا کہ پاکستانی آرمی چیف نے صدر ٹرمپ کے لیے نوبل امن انعام کی بات کی ہے۔ اب اس ’وعدے‘ کو پورا کردیا گیا ہے۔
اس نامزدگی کے بارے میں ہرطرح کی رائے کا اظہار ہورہا ہے لیکن ممتاز سیاست دان اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین نے کہا ہے کہ ’ٹرمپ کو امن انعام کے لیے نامزد کرنا جائز ہے۔ ٹرمپ پاکستان کے لیے اچھے ہیں‘۔ رائٹرز نے ان کے حوالے سے کہا ہےکہ’ اگر یہ اقدام ٹرمپ کی انا کو مطمئن کرتا ہے تو ایسا کرنا مناسب ہے۔ تمام یورپی رہنما بھی ایسی ہی پالیسی پر عمل پیرا ہیں‘۔ تاہم امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر اور ممتاز تجزیہ نگار ملیحہ لودھی اس فیصلے کو ’قومی عزت نفس کے لیے نقصان دہ‘ کہتی ہیں۔ ’ایکس ‘ پر ایک پیغام میں انہوں نے اس حکومتی فیصلے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ’ایک شخص کیسے اس انعام کا مستحق ہوسکتا ہے جو غزہ میں اسرائیلی نسل کشی پر مبنی جنگ کی حمایت کرتا ہے اور ایران پر اسرائیل کے حملے کو ’عمدہ‘ کہتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ اقدام پاکستان کے عوام کے احساسات کی عکاسی نہیں کرتا‘۔
اس بارے میں کوئی بات حتمی طور سے نہیں کی جاسکتی کہ کون سا حکومتی اقدام پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ پاکستان میں عام طور سے لوگوں کو ہر وہ حکومتی اقدام نقصان دہ اور ناگوار لگتا ہے، جس سے انہیں براہ راست کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو۔ ٹرمپ کی نامزدگی کے معاملے کا تعلق چونکہ عام لوگوں کے مالی حالات سے نہیں ہے ، اس لیے سوشل میڈیا پر یہ مباحث دیکھے جاسکتے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی اور ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کی حمایت کرنے والے شخص کو نامزد کرکے غلط اقدام کیا ہے۔ تاہم اس معاملہ پر ناروے کی نوبل کمیٹی زیادہ بہتر طور سے فیصلہ کرسکتی ہے جس کے سامنے سینکڑوں نامزدگیاں ہوتی ہیں۔ اور ان میں کسی ایسے شخص کو ہی ہر سال امن انعام کا مستحق سمجھا جاتا ہے جس نے سال بھر کے دوران واقعی الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق دنیا میں امن کے لیے کام کیا ہو۔
الفریڈ نوبل کا انتقال دسمبر 1896 میں ہؤا تھا۔ انتقال سے لگ بھگ ایک سال پہلے انہوں نے اپنی آخری وصیت میں امن انعام کے بارے میں یہ کہا تھا کہ ’ اس امن انعام کو خاص طور پر اس شخص یا ادارے کو دیا جائے گا جس نے قوموں کے درمیان بھائی چارے کے فروغ، مستقل فوجوں کے خاتمے یا ان میں کمی، اور امن کانگریسوں کے قیام و فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو‘۔ اس وصیت کی روشنی میں دیکھا جائے تو دنیا کی دو جوہری ہتھیاروں کی حامل قوتوں کے درمیان جنگ رکوانا واقعی اس شرط کو پورا کرتا ہے کہ انعام لینے کا مستحق وہ شخص ہوگا جس نے جنگ کو پھیلنے سے روکا ہو اور امن کے لیے کوشش کی ہو۔ البتہ اس حوالے سے یہ قباحت موجود رہے گی کہ گو اس کا دعویٰ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بارہا کیا جاچکا ہے اور پاکستان بھی ان کے اس بیان کی تصدیق کرتا ہے لیکن نئی دہلی کی حکومت ٹرمپ کے اس کردار کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس لیے نوبل کمیٹی نے اگر واقعی ٹرمپ کے نام پر سنجیدگی سے غور کیا تو اسے اس معاملہ پر تحقیق کرنا پڑے گی کہ صدر ٹرمپ نے واقعی یہ جنگ رکوائی ہے یا بھارت کا یہ مؤقف درست ہے کہ پاکستان اور بھارت نے چار روز ایک دوسرے کو آزما کر خود ہی جنگ بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اس نامزدگی یا نوبل امن انعام کے لیے ٹرمپ کی ااہلیت کے حوالے سے البتہ غزہ میں تسلسل سے ہونے والی خوں ریزی اور ایران پر اسرائیلی حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں امریکی صدر کا کردار ضرور سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود تو پاک بھارت جنگ کے علاوہ متعدد دیگر تنازعات ختم کرانے کا کریڈٹ لیتے ہیں اور یوکرین جنگ ختم کرانے میں بھی مستعد ہیں۔ تاہم وہ یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ’وہ تو امن کے لیے کوشش کرتے ہیں لیکن دوسرے انہیں کریڈٹ نہیں دیتے‘۔ پاک بھارت تنازعہ ختم کرانے میں بھی انہیں یہی شکوہ ہے اور انہوں نے مایوسی کے عالم میں حال ہی میں کہا ہے کہ ’ مجھے نوبل امن انعام نہیں ملے گا‘۔ البتہ پاکستان کی طرف سے اس اہم عالمی انعام کے لیے صدر ٹرمپ کی نامزدگی کے بعد ان کی یہ مایوسی شاید کم ہوئی ہو کہ کوئی ان کی امن پسندی کا تذکرہ ہی نہیں کرتا۔ پاکستان نے اس حوالے سے تجویز دیتے ہوئے ٹرمپ کو وقت کا سب سے بڑا امن پسند قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کی حکومت نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ہےکہ ’بین الاقوامی برادری نے ’بلا اشتعال اور غیر قانونی بھارتی جارحییت‘ کا مشاہدہ کیا جو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ اس کے نتیجے میں معصوم جانوں کا قیمتی نقصان ہوا، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے لمحے میں صدر ٹرمپ نے عظیم حکمت عملی، بصیرت اور شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کے ساتھ مضبوط سفارتی روابط کے ذریعے تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کو کم کیا۔ بالآخر فائر بندی کو یقینی بنایا اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان وسیع تر تصادم کو روکا، جو علاقے اور اس سے باہر لاکھوں افراد کے لیے تباہ کن کا حامل ہوسکتا تھا۔ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ امن کے حقیقی سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا طرز عمل تنازعات حل کرانے میں ان کی کمٹمنٹ کا مظہر ہے‘۔
حکومت نے صدر ٹرمپ کی اس پر خلوص پیشکش کا بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ کشمیر کا دیرینہ تنازعہ حل کرانے میں ثالثی پر تیار ہیں۔ پاکستان کے مطابق یہ مسئلہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ ہے۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اس وقت تک مشکل رہے گا جب تک کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔
حکومت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 2025 کے پاک بھارت بحران کے دوران صدر ٹرمپ کی قیادت عملی سفارتکاری اور مؤثر امن سازی کے طور پر اجاگر ہوئی۔ پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کی ’خلوص سے کی جانے والی کوششیں‘خاص طور مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں کے تناظر میں، علاقے اور عالمی سطح پر استحکام کے لیے جاری رہیں گی۔ بیان میں بطور خاص غزہ میں رونما ہونے والے انسانی المیے اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیا گیاہے۔
اس حوالے سے ٹرمپ کے طرز عمل کا جائزہ لیتے ہوئے اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ نوبل امن انعام کسی ایک سال کے دوران امن کے لیے کی جانے والی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ ابھی 2025 کی نصف مدت باقی ہے۔ امریکہ نے ابھی تک ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اگر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ امریکہ ایران و اسرائیل میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم کرانے کی کوئی کوشش بارآور ہوتی ہے ۔ اور روس و یوکرین جنگ کی بجائے امن کے زیادہ قریب ہوجاتے ہیں تو ٹرمپ کی شخصیت سے وابستہ تنازعات سے قطع نظر یہ کہنا مشکل ہوگا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبل امن انعام کے مستحق نہیں ہیں۔ اگر وہ سال کی باقی ماندہ مدت میں ایران اسرائیل و غزہ کی جنگ اور یوکرین تنازعہ حل کرنے میں پیش قدمی کا سبب بنتے ہیں تو وہ بلاشبہ 2026 میں نوبل امن انعام کے سب سے زیادہ مستحق ہوں گے۔
تاہم جیسا کہ سب جانتے ہیں ابھی غزہ، ایران اسرائیل تنازعہ یا یوکرین جنگ ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ امریکہ کی ابھی تک یہی پوزیشن ہے کہ صدر ٹرمپ آئیندہ دو ہفتے کے دوران ایران پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ اگر امریکہ ایران پر حملوں کی صورت میں جنگ میں براہ راست ملوث ہوجاتا ہے تو ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کا ہر جواز ختم ہوجائے گا۔ اس پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت پاکستان نے ٹرمپ کا نام تجویز کرنے میں عجلت سے کام لیا کیوں کہ وہ بہر حال کسی بھی صورت امریکہ کے ساتھ مستحکم ہوتے سفارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے مشاہد حسین کے الفاظ میں اگر پاکستان نے ’ٹرمپ کی انا‘ کی تسکین کے لیے یہ تجویز دی ہےتو کوئی حرج نہیں ہے کیوں کہ تمام یورپی حکومتیں بھی تو تمام اصول پس پشت ڈال کر یہی کچھ کررہی ہیں۔
فیلڈمارشل عاصم منیر سے صدر ٹرمپ کی ملاقات کے بارے میں آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز یا ٹرمپ کے چند جملوں کے علاوہ کوئی معلومات سامنے نہیں ہیں۔ لیکن اس ملاقات میں ایران پر اسرائیلی حملہ زیر بحث آیا تھا اور ٹرمپ نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ ’پاکستان ایران کو بہت بہتر طور سے جانتا ہے‘۔ اس ملاقات کے تناظر میں پاکستان اگر ایران پر اسرائیلی حملہ رکوانے یا امریکہ کی براہ راست شمولیت کے حوالے سے کوئی کردار ادا کرتا ہے تو یہ یقیناً عالمی امن کے لیے اہم پیش رفت ہوگی۔
سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا حکومت پاکستان نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی تجویز اسی تناظر میں امریکی صدر کو خوش کرنے اور انہیں تحمل سے کام لینے پر آمادہ کرنے کے لیے دی ہے؟ اس قیاس آرائی کا جواب شہباز شریف کے علاوہ صرف عاصم منیر دے سکتے ہیں۔