امریکہ کا ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر حملہ
امریکا نے ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں فردو، نطنز اوراصفہان میں جوہری اہداف پر بھاری بم پھینکے گئے۔امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے فردو جوہری سائٹ پر 30 ٹن بارود گرایا اور فردو ایٹمی پلانٹ کو مکمل تباہ کردیا۔تمام طیارے یہ حملے کرکے بحفاظت واپس آ گئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی آبدوزوں ایران میں جوہری مقامات اصفہان اور نطنز کو ٹام کروز میزائیلوں سےنشانہ بنایا جبکہ فردو پر بی 2 بمبار طیاروں سے بم گرائے گئے۔ حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آج رات ہمیں بہت بڑی کامیابی ملی ، اسرائیل اب بہت زیادہ محفوظ ہے۔ یہ ریاست ہائے متحدہ امریکا، اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ ایران اب اس جنگ کے خاتمے پر رضامند ہونا ہو جائے گا۔
دوسری طرف ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی مشن نے امریکی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ایران نے سلامتی کونسل سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت تمام ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئےجوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ تھوڑا انتظار کرے، حملوں کی سزا بھگتے گا۔پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران مشرق وسطی میں تمام امریکی اثاثوں کو نشانہ بنائے گا۔ اب ہمارے لیے جنگ شروع ہو چکی ہے، خطے میں موجود ہر امریکی شہری یا فوجی اب ہدف ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا ہے کہ امریکا جنگ میں اپنے نقصان کیلئےداخل ہوگیا۔ امریکا کو پہنچنے والا نقصان ایران سے کہیں زیادہ ہوگا۔ یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں سے جنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دشمنی ہی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیب کو تباہ کرنا جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ یہ ایک آغاز ہے، اب مار کے بھاگ جانے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس نے امریکی حملوں پر شدید مذمت کرتے ہوئےکہا کہ یہ وحشیانہ جارحیت کشیدگی میں خطرناک اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ایران پر امریکی حملہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایران پر امریکی حملہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
ایک ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکی حملے سے قبل تینوں جوہری تنصیبات کو خالی کرا لیا گیا تھا۔ نشانہ بنائی گئی تنصیبات میں کوئی مواد نہیں تھا جو تابکاری اخراج کا باعث بنے۔ دشمن کے فضائی حملوں میں فردو جوہری سائٹ کو نشانہ بنایا گیا، اصفہان اور نطنز جوہری سائٹس کے قریب بھی حملے کئے گئے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق فردونیوکلیئر سائٹ کی صرف داخلی اور خارجی سرنگوں کو نقصان پہنچا۔
ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے بھی جوہری سائٹس پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دشمن نے فردو، نطنز اور اصفہان جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا، جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو میں رابطہ ہوا جس میں ٹرمپ نے امید کا اظہار کیا کہ یہ حملے نئی سفارت کاری کی راہ ہموار کریں گے۔امریکی ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدرفی الحال مزید حملوں کا منصوبہ نہیں بنارہے ہیں، ایران پر حملے کے دوران اسرائیل امریکا سے مکمل رابطے میں تھا۔انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا اور اسرائیل کے لیے بدترین خطرے کو مٹا دیا۔
سعودی حکام نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد کسی قسم کی تابکاری نہ پھیلنے کی تصدیق کی ہے۔الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب کے نیوکلیئر اور ریڈیولوجیکل ریگولیٹری کمیشن کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ماحول میں کسی قسم کی تابکار ی اثرات کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی فضائی حملے کے بعد قم شہر اور اردگرد کے علاقوں کے مکینوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔ فردو کی جوہری تنصیب کے آس پاس تابکاری کے پھیلاؤ کے کوئی شواہد نہیں ملے۔قم میں کرائسز مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کیلئے قائم فردو تنصیب کے آس پاس کے علاقوں میں شہریوں کو کسی بھی قسم کے خطرے کا سامنا نہیں۔ ایران کے قومی جوہری سلامتی کے مرکز نے جو ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے تحت کام کرتا ہے، بھی تصدیق کی ہے کہ تابکاری کے اثرات کی کوئی علامات ریکارڈ پر نہیں آئیں، اس لیے آس پاس کے رہائشیوں کو کسی خطرے کا سامنا نہیں۔
دریں اثنا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد باہر کی سطح پر تابکاری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف طاقت کے استعمال پر مجھے شدید تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار خطے میں خطرناک اضافہ ہے اور عالمی امن و سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ اس تنازعے کے تیزی سے بے قابو ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، جس کے شہریوں، خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی کم کریں اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے دیگر اصولوں کی پاسداری کریں، اس نازک گھڑی میں افراتفری سے بچنا نہایت ضروری ہے۔اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، آگے بڑھنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے، واحد امید امن ہے۔