امریکہ اسرائیلی جال میں پھنس کر جنگ میں ملوث ہؤا ہے!
- تحریر خالد محمود اوسلو
- اتوار 22 / جون / 2025
جمعہ 13 جون کو اسرائیل نے بڑے گھمنڈ و غرور کے ساتھ ایران پر حملہ کرتے ہوئے اپنے حلیف یورپی ممالک اور مغربی دنیا کو یہ باور کروانا چاہا تھا کہ اس کا یہ اقدام ایران کو جوہری ہتھیار کو حاصل کرنے سے محروم رکھنا ہے۔
اسرائیل کے اس غیرقانونی اور غیراخلاقی اقدام کو ملی جُلی حمایت حاصل ہوئی اور چند یورپی ممالک کے علاوہ اکثریت نے اس پر خوشی کے شادیانے بجانے سے گریز کیا۔ البتہ حسب توقع امریکہ نے کھل کر اسرائیل کی کمر تھپکی۔ حالانکہ امریکہ ایران کے ساتھ اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھا تھا۔ امریکہ کے اس رویہ پر اقوام عالم کی اکثریت حیران تھی۔ لیکن اقوام متحدہ کےمعرض وجود میں آنے سے لے کر دنیا اس بات کا تجربہ کر چکی تھی کہ بین الاقوامی قوانین طاقتور ممالک کا ایک ایسا اوزار ہے جو ان کی مرضی اور منشا کے تابع ہے۔ جس کو مخصوص مقاصد کے لیے بروئےکار لایا جاتا ہے۔ جب ا سکی خلاف ورزی درکار ہو تو کہا جاتا ہے کہ بین الاقوامی قانون معاملے کو حل کرنے میں ناکام ہے لہذا طاقت کا میدان سجا دیا جاتا ہے۔
ماضی قریب میں اس کی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔ جہاں یہ مثالیں ان شتربے مہار طاقتور ممالک کے ہاتھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگی ہوئی ہیں، وہیں ان طاقت کے اندھوں کے گھمنڈ کے مٹی میں ملنے کی داستان بھی سناتی ہیں۔ لیکن لگتا یہی ہے کہ ہر طاقتور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں تاریخ کو نظرانداز کرتے ہوئے، ان غلطیوں کو دہرانے سے باز نہیں رہ پاتا۔ اسرائیل نے ایران پر حملہ پچھلے ڈیڑھ سال سے غزہ میں جاری بربریت اور خون ریزی سے توجہ ہٹانے کے لیے کیاہے۔ تاکہ انسانیت سوزجرائم پر پردہ ڈالا جا سکے۔ دنیا کا ہر ذی شعور اسرائیل کی اس چال سے آگاہ ہے۔ لیکن امریکہ اور صدر ٹرمپ کی اسرائیل کے اس جھانسہ میں خوشی خوشی سے آنے کی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ امید لگا بیٹھا تھا کہ اسرائیل کے ہاتھوں نقصان اُٹھانے پر ایران آسانی سے شاید امریکی شرائط پر اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ جیسے ملک کی قیادت ایسے ہاتھوں میں ہے جو حقیقت کا ادراک نہیں رکھتے۔ اور تاریخ سے چشم پوشی برت رہے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ میں اپنے مظالم پر پردہ پوشی کے لیے ایران کا انتخاب یہ سمجھ کر کیا ہے کہ مغربی ممالک اور خاص کر یورپ میں ایران کے خلاف ایک ناپسندیدگی اور خوف کے عنصر کی موجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے، یورپ کے اندر غزہ میں اسرائیلی مظالم پر بڑھتی ہوئی عوامی مخالفت کو روکا جا سکے۔ اور یورپ کو یہ باور کرایا جائے کہ اسرائیل ان کی خاطر یہ جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران سے تصادم کی دوسری وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ اسرائیل کے نزدیک لبنان میں حزب اللہ اور شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران خطے میں تنہا اور کمزور ہو چکا ہے۔ لہذا یہی مناسب وقت ہے، ایران پر کاری ضرب لگا کر مشرق وسطیٰ میں آخری اسرائیل مخالف قوت کا قلع قمع کردیا جائے۔
اسرائیل کے مقاصد تو سب کے سامنے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کے اسرائیل کے حمایتی اس غیر حقیقی بیانیہ کو سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں۔ اور خود کو غیر حقیقی خواہشات کے تابع کیوں کر چکے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل بڑی رعونت سے ایران کے خلاف آغاز کی جانے والی جارحیت کا بھانڈہ بیچ چوراہا ایسے پھوٹا کہ ایران کا جُکھنا تو کجا اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکہ کو میدان میں خود اترنا پڑا۔ وہ اسرائیل جو امریکہ اور اپنے یورپی حلیفوں پر ایران کے خلاف جارحیت کرکے احسان جتا رہا تھا، خود اپنی بقا اور رسوائی سے بچنے کے لیے امریکہ کی امداد کا محتاج بن بیٹھا۔ کیونکہ ایران کو حربی ہتھیاروں اور جنگی سامان کی تنگ دستی اور اسرائیل کی ظاہری فنی ہتھیاروں کی برتری کے باوجود جاری اس معرکہ میں ایران نے اسرائیل کو غیر متوقع طور پر لوہے کے چنے چبوائے۔ اس پر مجبور ہو کر امریکہ کو خود میدان میں اُترنا پڑا۔ اس طرح امریکہ جو ابھی افغانستان سے بے آبرو ہوکر نکلنے کے زخم چاٹ رہا تھا، اسرائیل جیسے نادان دوست کی نادانی یا مکاری کے باعث ایک بار پھر جنگ میں کود پڑا ہے۔ جس کے اہداف بظاہر واضع نظر نہیں آتے۔
کیونکہ اگر ہدف ایران کو جوہری ہتھیاروں سے محروم رکھنا ہے تو اس کے لیے کسی جنگ کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے عزائم کی بارہا نفی کی ہے۔ اور اس کے لیے اس نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدہ پر دستخط کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے اس معاملہ پر باضابطہ معاہدہ کے لیے مذاکرات میں مصروف بھی تھا۔ اگر یاد کیا جائے تو ایران اس سے پہلے صدر اوبامہ کے وقت ایک ایسا بین الاقوامی معاہدہ بھی کر چکا تھا جسے اقوام متحد اور یورپ بشمول چین اور روس مان چکے تھے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دور اقتدار میں اس کو یکطرفہ طور پہ منسوخ کر دیا تھا۔ لہذا کسی ہدف سے خالی اس جنگ میں امریکہ کو ملوث کرنا اسرائیل اور خاص کر وزیراعظم نیتن ہاہو کی چال کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس ’کامیابی‘ سے اسرائیل سمجھ رہا ہے کہ اس طرح شاید غزہ کے بےگناہوں کے خون سے رنگے اپنے ہاتھوں کو دھو سکے۔ جس بے بنیاد جنگ کو شروع کر کے اس نے غلطی کی تھی، اس میں امریکہ کو ملوث کر کے سارا بوجھ امریکہ پر ڈال دے۔ کیونکہ اب یہ بات ساری دنیا کے لیے اظہر من الشمس ہے کہ اسرائیل صرف انسانیت کے مقام سے ہی نہیں گر چکا بلکہ اس کو تاریخ میں پہلی بار سفارتی تنہائی کا خطرہ لاحق ہے۔ انٹرنیشنل کورٹ میں جنگی جرائم کا مقدمہ قائم ہو چکا ہے۔ اسرائیل اقتصادی طور پر بھی متاثر ہو رہا ہے اور ایران کے ساتھ تصادم میں اس کا عسکری برتری کا زعم بھی ٹوٹتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اسے اب امریکہ کے سہارے کی ضرورت ہے۔
امریکہ کا اسرائیل کے ہاتھوں مجبور ہونا کوئی راز نہیں۔ لیکن امریکہ ا سقدر بے بس ہے کہ وہ ایک ایسی جنگ میں ملوث ہورہا ہے جس کے نتائج قابل تعریف دکھائی نہیں دے رہے۔ ایک بات سمجھ سے باہر ہے کہ ویتنام سے لے کر افغانستان، عراق اور اب ایران تک کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو اس میں حملہ آوروں کی پسپائی ہی لکھی ہوئی پڑھنے کو ملتی ہے۔ ایران کی تاریخ دیکھی جائے تو اس ملک کی تاریخ ہر دکھ تکلیف کو برداشت کرنے سے بھری ہے جو ہر زحمت کو برداشت کر لیتی ہے۔ لیکن جھکتی نہیں۔
اب یہ جنگ کن تباہیوں کے بعد اختتام پذیر ہوگی معلوم نہیں۔ البتہ اس کے نتیجہ میں دنیا میں اقتصادی وعسکری توازن کے تغیر کا ظہور دکھائی دے رہا ہے۔ اور امریکہ نہ چاہتے ہوئے بھی خسارے سے دوچار ہو سکتا ہے۔