جنگیں تو ہوں گی!
- تحریر خالد محمود رسول
- اتوار 22 / جون / 2025
لگ بھگ سات آٹھ سال پرانی بات ہے۔ امریکی ریاست جارجیا جانے کا اتفاق ہوا ۔ ایک قریبی عزیز کی وساطت سے جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی پولیٹیکل سائنس کے چند پروفیسرز سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔
ان ملاقاتوں اور مشاہدات سے اس امر اندازہ ہوا کہ امریکہ کی ٹاپ یونیورسٹیز اپنے اپنے شعبے میں کس طرح دنیا بھر کے موضوعات پر ریسرچ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ بعد ازاں منظم انداز میں ان نتائج کو مقالات، کتابوں اور کانفرنسز کی شکل میں دوسروں سے شیئر کرتے ہیں۔ اسی دوران ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ تقابل ادیان اور تاریخ کے پروفیسر تھے۔ ان کا تعلق بھارت کی ریاست بہار سے تھا ۔ پی ایچ ڈی کرنے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ آئے اور پھر یہیں بس گئے۔ ان سے ملاقات اور مختلف موضوعات پر گفتگو انتہائی دلچسپ اور چشم کشا تھی۔ درخواست کی کہ ایک تفصیلی نشست اور ہو جائے، انہوں نے کمال مہربانی سے اسی شام یونیورسٹی بلڈنگ کے نیچے ایک معروف کافی شاپ کا وقت طے کرلیا۔
طے شدہ وقت پر ہم وہاں پہنچے تو کافی شاپ کا منظر قابل دید تھا ۔ ماحول انتہائی آسودہ اور خوشگوار ، کافی شاپس کلچر کے مطابق چھت سے لٹکی ہوئی روشنیاں مختلف انداز اور شیڈ سے ماحول کو پرفسوں بنا رہی تھیں۔ دیواروں پر مختلف طرح کے امیجز اور میورلز کئی داستانیں سنا رہے تھے ۔ لگ بھگ شام چھ بجے کا وقت تھا ، کافی شاپ میں بارونق اور تقریباً ہر میز پر یونیورسٹی سٹوڈنٹس کو کتابوں ، گفتگو یا لیپ ٹاپس پر مصروف پایا ۔ یونیورسٹی بلڈنگ کے نیچے واقع ہونے کے سبب ہمارے سوا تقریباً باقی سب یونیورسٹی سٹوڈنٹس ہی لگے ۔ اس ماحول میں اپنے آپ کو پا کر ایک خوشگوار تازگی کا احساس ہوا جو عموما لگے بندھے ماحول/ روٹین سے نکلنے پر ہوتا ہے ۔
گفتگو ہلکے پھلکے موضوعات سے ہوتی ہوئی گمبھیر عالمی مسائل اور اقوام عالم کے تضادات کی طرف چلی گئی۔ سوال کیا کہ میڈیا اور اکیڈیمیا سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تاریخ کی تیز ترین صنعتی اور پوسٹ انڈسٹریل ترقی، گلوبلائزیشن ، سمٹتے فاصلوں اور بڑھتے رابطوں کے سبب شاید ایک محفوظ دنیا تشکیل پا رہی ہے ۔ تاہم ایک کے بعد ایک، دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں تنازعات یا روایتی دشمنیاں جنگ یا تشدد کی صورت میں ہی نمٹانے کا روایتی چلن جاری ہے۔ آپ کے خیال میں دنیا میں امن کا مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے؟ سوال سن کر وہ گہری سوچ میں پڑ گئے ۔چند ثانیے سوچنے کے بعد نظر اٹھائی ،سامنے دیوار پر لٹکے ہوئے دنیا کے نقشے پر نظر ڈالتے ہوئے بولے کہ دنیا ایک تیسری جنگ عظیم کے لیے تڑپ رہی ہے یعنی World is craving for 3rd world war !
اس قدر خوفناک اور بے باک اسٹیٹمنٹ سن کر ہم چونک گئے ۔وضاحت مانگی تو گفتگو کا سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں کے تاریخی معاملات، مسائل اور جنگوں کی طرف مڑ گیا۔ اختلاف کے باوجود ان کی رائے میں وزن سے انکار نہ تھا ۔ وہ اپنے مطالعے، تجربے اور مشاہدے پر استوار تاریخی شعور کی بنا پر یہ سمجھتے تھے کہ انسان نے گزشتہ کئی صدیوں کی مارا ماری، جنگ و جدل اور خون آشامیوں کے باوجود بالعموم اپنی جبلت کو نہیں چھوڑا ۔ صنعتی ترقی نے بے شمار سماجی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ مجموعی طور پر بہت سی قوموں نے تاریخ سے سبق سیکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ 60 /70 سالوں میں مجموعی طور پر دنیا میں جنگ عظیم جیسی صورت پیدا نہیں ہوئی، اسی لئے بہت سے خطوں میں امن رہا ہے ۔ ان ممالک کے عوام نے Peace dividend یعنی امن کے ثمرات سماجی اور معاشی ترقی کی صورت میں حاصل کیے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں معاشی و سماجی ترقی اور عالمگیریت یعنی گلوبلائزیشن کے سبب سیاسیات اور تنازعات سے نمٹنے کا انداز عمومی طور پر بیسویں صدی کے اغاز جیسا نہیں رہا۔
تاہم گلوبلائزیشن اور صنعتی ترقی کے عمل میں بہت سی قوموں کی ترتیب اوپر نیچے ہوئی ہے۔ گزشتہ چار پانچ سو سالوں کے فاتحین یا کولونیل پاورز میں سے کئی ایک کمزور ہو چکیں۔ امریکہ واحد سپر پاور کے طور پہ ابھرا اور نہ صرف عسکری بلکہ ٹیکنالوجی اور تجارت اور عالمی سیاست میں اپنا سکہ چلایا، دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک ورلڈ آرڈر بنایا اور اب تک اسے دھڑلے سے چلایا۔ تاہم سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کی یونی پولر دنیا دھیرے دھیرے اب کثیر القطبی دنیا بنتی جا رہی ہے۔ روس نے حیرت انگیز طور پر اپنی معاشی ،سیاسی اور عسکری قوت کو دوبارہ سے منوایا ہے۔ چین ایک نئی سپر پاور کے طور پر نمودار ہوا ہے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا آبادی والا ملک تو تھا ہی، چین کا پھیلاؤ بھی ایک وسیع خطے پر ہے۔ سوویت یونین کے انہدام اور مغربی طاقتوں نے جو سلوک روس کی شکستگی کے دوران اور بعد میں اس سے کیا، چین نے اسے انتہائی غور سے دیکھا ، سمجھا اور سبق سیکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے گزشتہ چار دہائیوں سے اپنی تمام تر توجہ ٹیکنالوجی، ٹریڈ، تعلیم اور سماجی ترقی پر مرکوز رکھی ہے۔ تاہم مجموعی طور پر چین نے تائیوان اور ساؤتھ چائنا سمندر کے تنازعات کے باوجود، اپنے آپ کو کسی بھی جنگ میں الجھنے سے اب تک بچائے رکھا ہے ۔
معروف امریکی پروفیسر ٹموتھی شنائڈر کے بقول 20ویں صدی کے شروع میں جنم لینے والے فاشزم کے ظہور میں ایک اہم عنصر یہ بھی رہا کہ بیسویں صدی کے شروع میں گلوبلائزیشن کے نتیجے میں معاملات ان کی منشا کے مطابق شکل اختیار نہ کر سکے۔ پروفیسر شنائیڈر نے امریکہ میں جمہوریت کو درپیش خطرات کے پیش نظر 20ویں صدی سے 20 سبق پر مشتمل ایک مختصر کتاب بھی لکھی۔ خلاصہ جس کا یہ ہے کہ جمہوریت کو ارسطو کے زمانے سے لے کر زمانہ حال تک مہم جوئوں کا سامنا رہا ہے۔ بیانیے کی بنیاد پر عوام کو بھڑکا کر اپنی سیاست چمکانے والوں کی کل کوئی کمی تھی اور نہ آج کوئی قلت ہے۔
سات آٹھ سال قبل ہوئی اس ملاقات کے بعد دنیا کو ہر نئے سال نئے نئے تنازعات میں الجھتے دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ سالوں میں روس یوکرائن جنگ، اسرائیل غزہ جنگ، سوڈان ، ایتھوپیا اور میانمار کی خانہ جنگیاں ، کونگو اور افریقہ میں جنگیں، لیبیا ، یمن، شام۔۔۔۔ پاکستان بھارت کی پانچ روزہ جنگ۔۔۔ اور اب اسرائیل ایران جنگ۔ تمام دنیا کی نظریں اسرائیل ایران جنگ میں امریکہ کے کردار اور اگلے قدم پر ہیں۔۔۔۔۔
طاقت کا نشہ اندھا اور تاریخ سے سبق سیکھنے سے منکر ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تاریخ کے قبرستانوں میں بے شمار طاقت ور گم ہو گئے۔ لیکن جب تک انسان اپنی جبلت پر قائم ہے جنگیں تو ہوں گی!