ماں بولی کے ساتھ پنجابیوں کا سوتیلی ماں جیسا سلوک
- تحریر ارشد رضوی
- سوموار 23 / جون / 2025
مجھے نہیں معلوم کہ لغت کو پنجابی زبان میں کیا کہتے ہیں چنانچہ میں نے ایک پنجابی پیارے سے پوچھا اُنہوں نے جواب میں ’پنجابی اُردو لُغات‘ کے مُر تّب جمیل احمد پال کی لُغات کا وہ صفحہ وٹس ایپ کیا جس صفحے میں لفظ ’لغت‘ کے سامنے ’ڈکشنری‘ لکھا ہوا تھا!(ڈکشنری انگریزی زبان کا لفظ ہے نہ کہ پنجابی زبان کا)۔
ایک تنظیم جو پنجابی زبان کی ترقی وترویج کی کوششوں میں مصروفِ پیکار ہے اُ ن سے یہی گزارش کی، ان کے کسی ممبر یا مطیع/پیروکار کا جواب ملا ’ارتھ شاستر‘۔ کچھ عجیب لگا۔۔۔بلکہ خاصاعجیب --- چنانچہ کھوج شروع کی تو معلوم ہوا کہ ارتھ شاستر کے بارے میں مصنفین و محققین کا کہنا ہے یہ ’سیاسیات کی سائنس‘ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ’مقاصد کے حصول کا علم‘ ہے۔ کچھ کا کہنا ہے یہ ’سیاسی معیشت کی سائنس‘ ہے جبکہ ایک صاحب کا کہنا ہے ارتھ شاستر کا ترجمہ ’خوشحالی کا علم‘ ہے۔ٹیکسلا یونیورسٹی کے استاد کوٹلیہ چانکیہ کی یہ مشہور عالم کتاب ارتھ شاستر پولیٹیکل سائنس کی ایک اہم کتاب ہے۔ لہذا ’ لُغت‘ کو پنجابی زبان میں ’ارتھ شاستر‘ کیسے کہا جا سکتا ہے۔ میرے جاننے والے ایک پنجابی سوجھوان سے یہی پوچھا اُن کا جواب تھا ’ شُبد کوش‘ اور ارتھالی۔ لُغت میں دیکھا تو ارتھالی لفظ نہیں ملا البتہ شُبد کوش(و مجہول) کا معنی قاموس، ڈکشنری، فرہنگ ملا۔
پنجاب کے چھتیس 36))اضلاع ہیں۔ شمال مشرق میں اٹک اور جنوب مغرب میں آخری ضلع رحیم یار خان ہے۔ پنجاب میں رہنے والوں کو پنجابی کہا جا تا ہے۔ پنجابیوں کے علاوہ کردستانی، بلوچ، اور عربی نژادوں کی کا فی تعداد بھی یہاں بستی ہے۔(ویکیپیڈیا) پنجاب میں پنجابی کے علاوہ سرائیکی اور اردو زبان بولی جاتی ہے۔ پنجابی زبان کے کئی لہجے ہیں جن میں ماجھی لہجہ معیاری سمجھا جاتا ہے۔ بعض پنجابی دانشور سرائیکی کو پنجابی ہی کا ایک لہجہ قرار دیتے ہیں جبکہ سرائیکی دانشوروں کا کہنا ہے کہ سرائیکی زبان کی اپنی ایک الگ لسانی ساخت، قواعد و ضوابط اور الفاظ کا ذخیرہ ہے، اپنا رسم الخط ہے، گرائمر ہے، لٹریچر ہے، لہجہ بھی پنجابی زبان سے مختلف ہے، چنانچہ سرائیکی کو پنجابی زبان کا ایک لہجہ کہنا کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ سرائیکی زبان ہند آریائی ز بانوں سے تعلق رکھتی ہے۔جنوبی پنجاب، جنوبی خیبر پختونخواہ اور شمالی سندھ میں بولی جاتی ہے۔
پنجاب واحد صوبہ ہے جو اپنی زبان(پنجابی) کی سرکاری حیثیت منوانے کے لئے جدو جہد کر رہا ہے۔ پاکستان کے باقی صوبوں میں ان کی ماں بولی ہی بولی جاتی ہے اور اس پر وہاں کے لوگ فخر بھی کرتے ہیں۔خیبر پختونخواہ میں پشتو زبان بولی جاتی ہے جو وہاں کی سرکاری اور قومی زبان ہے۔ سندھ میں سندھی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے مگر قومی درجہ نہیں دیا گیا۔ بلوچستان میں بلوچی اور براہوی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر انہیں سرکاری اور قومی زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے۔جس طرح باقی صوبوں میں وہاں کی مقامی(ماں بولی) زبان وہاں کے رہنے والوں کے لئے فخر کی بات ہے پنجاب (خصوصاًشہری حلقوں میں) اس کے برعکس صورتِ حال ہے۔ ایک بلوچ فیڈرل منسٹر کے آفس، اسلام آباد، میں اس کے گاؤں سے ملنے کچھ لوگ آتے ہیں وہ ان کے استقبال کے لئے آفس کے دروازے پہ جاتا ہے اور واپسی پر بھی دروازے تک خدا حافظ کہنے جاتا ہے۔
پنجابی زبان بولنے والا اردو زبان کا ایک شاعر اور نثر نگار پنجابی زبان کے بارے کہتا ہے یہ تو صرف گالیوں کی زبان ہے اس میں گالی دینے سے دل کی بھڑاس نکلتی ہے۔ پنجاب کے شہروں کے گلی محلوں کے سکولوں میں پڑھنے والے لوئر مڈل کلاس کے بچوں کے والدین بھی اپنے بچوں کے ساتھ ’ٹوٹی پھوٹی‘ اردو میں بات چیت کرنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں اس لئے کہ اسکول میں بچوں کو اردو میں تعلیم دی جاتی ہے۔ مزدور کسان پارٹی کے رہنما اور دانشور میجر اسحاق(جنہوں نے فیض احمد فیض کی کتاب ’زنداں نامہ‘ کا مقبولِ عام دیباچہ رودادِ قفس کے عنوان سے لکھا ہے) زبان کے مسئلے پر ساہیوال میں بات کر رہے تھے۔انہوں نے ایک واقعہ (یا من گھڑت لطیفہ) سُنایا۔ کسی گاؤں کے پرائمری اسکول میں ماسٹر صاحب نے بچوں کو ہجوں کے ساتھ پڑھاتے ہوئے کہا ”الف مد آ۔۔۔م ساکن۔۔۔آم“ ایک بچے نے صحیح ہجے کرنے کے بعد لفظ آم کی بجائے ’انب‘ بولا اس لئے کہ گھر میں ہمیشہ انب ہی بولا جاتا تھا۔اس مثال سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم ان کی ماں بولی میں دینا کیوں ضروری ہے۔ اس حقیقت اور اس کی ضرورت و اہمیت کو آج تمام ترقی یافتہ ممالک تسلیم کرتے ہیں: ”جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے“
سیاسی یا علمی تحریکیں ہمیشہ شہروں سے ہی چلتی ہیں جنہیں چلانے والے دانشور، دانا،فہیم اور عالم فاضل لوگ ہوتے ہیں۔ پنجاب میں دانشوروں کی کمی ہے نہ تدّبر و استدلال کی۔ ایک عرصے سے پنجاب کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں سے پنجابی زبان کے حق کے لئے آوازیں اُٹھتی رہی ہیں۔ پنجابی کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے حق میں، پنجابی زبان میں ابتدائی تعلیم دینے کے حق میں، پنجابی زبان کو قومی زبان قرار دینے کے حق میں۔کیاوجہ ہے کہ پنجاب سے پنجابی زبان کے حق میں اُٹھنے والی یہ آوازیں مؤثر ثابت نہ ہوئیں!پہلی وجہ تو پنجابی دانشوروں کی اس آواز کے پیچھے پنجابیوں کی وہ قوت کبھی بھی نہیں رہی جو حکمران طبقے اس تحریک بارے کسی خطرے کو محسوس کرتے۔ یہ تحریک(اگر اسے تحریک کہا جا سکے) چند ’پنجابی پیاروں‘ کی کمزور آواز کے سوا کچھ نہیں۔ ان پنجابی پیاروں نے کوئی ایسی حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جس کے نتیجے میں پنجاب میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان کے عام بولنے والے اس آواز میں اپنی آواز شامل کرتے۔لہذا یہ عوامی تحریک بننے کے بجائے چند دانشوروں کی ہٹی(دکان) سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہ کر سکی۔ ان دانشوروں نے عام پنجابی کے لئے ایسا ابتدائی لٹریچر بھی نہیں بنایا جسے سمجھ کر پڑھنا اردو پڑھنے لکھنے والے پنجابی کی قابلیت کو چھو بھی سکے۔ پنجابی کا اخبار ’سجن‘ جس کے منیجنگ ایڈیٹر حسین نقی خود اردو سپیکنگ تھے،عام پنجابی کو بھی سمجھ آتا تھا جبکہ کوئی رسالہ (استثنا کے ساتھ)میں نے ایسا نہیں دیکھا جس کی زبان پڑھے لکھے پنجابی کو بھی سمجھ آ سکے۔
دوسری وجہ سیاسی ہے۔ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ قومی اسمبلی میں پنجاب سے 148 نشستیں ہیں جس کامطلب ہے کہ کوئی بھی صوبہ پنجاب کی شراکت کے بغیر حکومت سازی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کی اشرافیہ (سیاسی یا غیر سیاسی) خود کو ہی پاکستان سمجھتی ہے۔ ’بڑے بھائی‘ کی اصطلاح چھوٹے صوبوں نے پنجاب کے لئے اس کی فیصلہ سازی کی حیثیت کے پیشِ نظر بنائی تھی۔ اب اگر پنجابیوں کا مطالبہ اشرافیہ مانتی ہے تو پنجاب کی پاکستان اور بڑے بھائی والی حیثیت چیلنج ہوتی ہے۔
تیسری وجہ معاشی ہے۔ پنجابی زبان کا پاکستان یا پنجاب کی سرکاری معیشت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پاکستان غریب ملک ہے۔ ہمارے ہاں عموماً تعلیم کے حصول کا بڑا مقصد سرکاری ملازمت اختیار کرنا ہوتاہے۔ پنجابی مضمون میں ماسٹرز یا پی ایچ ڈی کرنے کے بعد کسی کالج یا یونیورسٹی میں لیکچرار /پروفیسر کی جاب کا ملنا ہی واحد سرکاری ملازمت کا امکان ہے جبکہ ہر کالج میں پنجابی زبان کی سیٹ نہیں ہوتی۔ انگلش اور اردو کے بعد فارسی اور عربی کو بطور زبان تو پڑھا جاتا ہے اس لئے کہ ان مضامین کی مارکیٹ پورا پاکستان ہے۔ پنجابی پڑھنے والے طلبا کی تعداد پنجاب تک محدود ہے۔چونکہ پنجا بی زبان ہمارے ہاں معیشت سے جُڑی ہوئی نہیں ہے اس لئے پنجا بی زبان کی تر قی و ترویج کی مخلصانہ کوششیں بھی نتیجہ خیز نہیں ہو رہی ہیں۔
آخری اور اہم ترین وجہ پنجابیوں کا اپنی ماں بولی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے۔ ہم اپنی ماں بولی پر فخر کرنے کے بجائے ہمارا روّیہ معذرت خواہانہ ہوتا ہے۔ دو پڑھے لکھے پنجابی باہمی گفتگو اردو یا انگلش میں کرتے ہیں۔ محلے کے دوکاندار سے مکالمہ اردو میں ہوگا جبکہ دوکاندار پنجابی زبان میں بات کر رہا ہوتا ہے۔ریستوران اور شاپنگ مال میں تو گلابی انگریزی ہی چلتی ہے۔ ایسے میں پنجابی زبان کی ترقی و ترویج خاصامشکل نظر آتا ہے خصوصاً گلوبل ولیج کے پس منظر میں۔