اداروں کی زبوں حالی کا حل

ہر بجٹ سے پہلے اور اس کے بعد ملک میں رائٹ سائزنگ اور ڈاون سائزنگ کی باتیں سامنے اتی ہیں۔ ابھی تو بیچارے عوام بجٹ کے اعدادوشمار کی بھول بھلیوں میں کھو کر اس کے عوام دوست ہونے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

حکومت کی طرف سے 45 اداروں کے مستقبل کے حوالے سے خبریں گرم ہونے کے بعد بھی کافی ہلچل مچی نظر آ رہی ہے۔ ابھی تک کالا باغ ڈیم پی آ ئی اے اور اسٹیل مل کی حالت زار کو بہتر بنانے کے اسباب پیدا نہیں ہو سکے اور اب ادارہ فروغ زبان اکادمی ادبیات پاکستان اردو سائنس بورڈ نیشنل بک فاؤنڈیشن اور چند دیگر اداروں کے انضمام یا انہیں سرے سے ختم کرنے کی تجاویز۔ پیش کی گئی ہیں۔ ہمارے ہاں شروع سے Right man for the Right job کے فارمولے پر عمل پیرا ہونے کی بجائے ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا، کے نعرہ مستانہ کو فروغ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ملکی اداروں کے کرتا دھرتا اداروں کو بنانے سنوارنے اور منابع بخش بنانے کی بجائے ان کا بیڑہ غرق کرنے میں ید طولی رکھتے ہیں اور جب یہ ادارے سفید ہاتھی بن کر حکومت پر اپنا بوجھ ڈالنے لگتے ہیں تو پھر ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کے لئے اضافی بوجھ اتارنے کے جتن کئے جاتے ہیں۔

 ہونا تو یہ چاہیے کہ ان اداروں کا دھڑن تختہ کرنے والوں سے حساب لیا جائے۔ ان کی متعلقہ وزارتوں اور وزیروں مشیروں کا محاسبہ کیا جائے مگر:
برق گرتی ہے بیچارے مسلمانوں پر
کے مصداق پھندا بیچارے ملازمین کے گلے میں ہی ڈالا جاتا ہے۔ اداروں کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے اور اداروں کی کارکردگی کو جانچنے کی کوئی مثبت اور واضح حکمت عملی وضع نہ ہونے کی وجہ سے ہی ان اداروں کی زبوں حالی سامنے آ ئی یے۔ حالانکہ اس زبوں حالی کا بھی حل ہے۔ جو ادارے یا وزارتیں اضافی ہیں ان کا انضمام تو سمجھ آ تا ہے لیکن جو ادارے اپنے اخراجات کا بوجھ حکومت پر نہیں ڈال رہے، ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ مناسب نہیں لگتی۔

ہمارے ملک میں بیوروکریسی اور منافع بخش عہدوں پر فائز افراد ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کسی نہ کسی ادارے کے منفعت بخش عہدے پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ان اداروں کی حالت بدلنے کی بجائے اپنے حالات مزید بہتر بنانے کی تگ و دو نیں لگتے ہیں۔ جب سے حکومتی سطح پر اداروں کو ذاتی اور سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے، اداروں کی افادیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ اور وہ مزید زبوں حالی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کا ادارہ قومی سطح پر یک جہتی کے فروغ کے ساتھ ساتھ صوبوں کے درمیان علمی ادبی یکانگت اور زبانوں کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہزاروں مستحق اہل قلم کی مالی امداد کر رہا ہے۔ جدید اور قومی ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ مشاہیر کے ادبی کارناموں کو نمایاں کر رہا ہے۔ پاکستانیت اور قومی یک جہتی کے فروغ کے لئے اس ادارے کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

پریشان خان خٹک، فخر زمان، افتخار عارف، نذیر ناجی، قاسم بھوگیو اور ڈاکٹر خشک نے اس ادارے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب معروف ادیبہ اور ماہر تعلیم محترمہ ڈاکٹر نجیبہ عارف اس ادارے کی صدر نشین کی حیثیت سے اس ادارے کو ادیبوں شاعروں کی آ نکھ کا تارہ اور ملک کا ایک اہم علمی اور ٹقافتی ادارہ بنانے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کر رہی ہیں۔ نظم کے خوب صورت شاعر سلطان محمد نواز ناصر بھی اس ادارے کو اہنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے اپنی انتظامی مہارت کا ثبوت دے رہے ہیں۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن کتاب کلچر کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کر سکتی ہے قومی ترقی کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ نسل نو کو موبائل کے مقابلے میں کتاب دوست بنانا، اس ادارے کا ماٹو قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اردو سائنس بورڈ اور مقتدرہ قومی زبان کے اداروں کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ہی قلم و کتاب اور اس سے وابستہ اداروں کو اس طرح فراموش کیا جا سکتا ہے۔ اب مجلس ترقی ادب بھی اپنی ایک شناخت رکھتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان اداروں کے لئے اضافی فنڈز فراہم کئے جاتے تاکہ یہ ادارے نظریاتی فکرو سوچ کے در مزید وا کرتے علم وادب کے چراغ جلتے اور یوں قلم و کتاب کے ذریعے شعور کو عام کرتے ہوئے اسے انقلاب کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

سمجھ نہیں آ تی کس قسم کے حکومتی مشیر حکومت کو ایسے فعال اور کار آ مد اداروں کی بندش کا مشورہ دیتے ہیں۔ اداروں کی زبوں حالی پر ادارے بند کرنے کی تجویز دینے والوں کا کہنا ہے کہ ان تمام بڑے اداروں کو ایک چھوٹے ادارے کے تسلط میں دے دیا جائے جو اب تک ملک میں اُردو کو قومی زبان کا درجہ نہیں دلوا سکا اور جس کا اپنا مستقبل کسی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی تجویز ہے، جن کی اپنی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے۔ بصورت دیگر اس ادارے کو بھی بند کرنے کے احکامات ہیں۔

اس وقت چاروں صوبوں آزاد کشمیر اور جنوبی پنجاب کے مرکز ملتان میں اکادمی کے دفاتر موجود ہیں اور فعال ہیں۔ جہاں اہل قلم کی فکر و سوچ سے نہ صرف فائدہ اٹھایا جا رہا ہے بلکہ نسل نو کی ذہنی اور فکری بالیدگی کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ پاکستان لیڑییری فورم کے زیر اہتمام راقم کی دعوت پر ایر یونیورسٹی ملتان میں ااکادمی کے اس وقت کے چئیر مین ڈاکٹر قاسم بھوگیو  نے اہل قلم کے پر زور مطالبے پر ملتان میں اکادمی کے دفتر کے دیرینہ مطالبہ پر دفتر کے قیام میں خاصا کردار ادا کیا۔ اس وقت کے گورنر پنجاب محمد رفیق رجوانہ نے بھی اس حوالے سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

سرائیکستان کونسل کے چیئرمین ظہور دھریجہ نے اس تقریب میں بھی الگ صوبہ کے قیام کے مطالبے کو دہرایا تھا، اس لئے ملتان میں اکادمی کے دفتر کے قیام کی خبر دیتے ہوئے سابق چیئرمین قاسم بھوگیو  نے کہا تھا کہ الگ صوبے کا قیام تو ہمارے بس اور دائرہ اختیار میں نہیں ہے مگر ہم نے اس خطے  کے اکادمی کا دفتر بنا کر یہاں کے اہل قلم کو قومی دھارے میں شامل کر دیا ہے۔ اس وقت سے ملتان سمیت دیگر صوبائی اور علاقائی دفاتر بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اسلم انصاری جیسی نابغہ روزگار شخصیت سمیت مختلف اہل قلم کی شخصیت اور فن کی پزیرائی کی تقاریب کا انعقاد ہو چکا ہے۔

حکومتی بے حسی اور بے اعتنائی کی وجہ سے نیشنل سنٹر جیسے فعال ادارے ختم ہوئے۔ اب آرٹس کونسل، ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور یہ ادارے فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے زبوب حالی کا شکار ہیں۔ پی ٹی وی کے پاس جدید آ لات کی خریداری اور نئے پروگراموں اور آ رٹسوں کی ادائیگی کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ ریڈیو ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کا مسئلہ بھی حل طلب ہے۔ اب ان اداروں کی بندش یا انضمام  نے ان اداروں کے ملازمین اور ان سے جڑے خاندانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں اور ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور کماؤ پوت بنانے کی مثبت حکمت عملی وضع کی جائے۔ ان تمام اداروں میں مارکیٹنگ کے شعبے کو فعال کیا جائے۔ ملازمین کو جدید ٹیکنالوجی اور کمپویٹر کے استعمال سے روشناس کرایا جائے۔ بے جا غیر تخلیقی اخراجات اور فضول خرچیوں کی بجائے تعمیری اور منفعت منصوبوں کا اجرا کیا جائے۔ ہمارے ملک کے بہت سے اداروں میں افسر شاہی اور پروٹوکول کلجر سے کنارہ کشی کی جائے کہ کچھ اداروں میں عہدوں کا حصول کچھ اس شعر کی طرح ہوتا ہے کہ:
جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے ادھر نکلے
اس نکلنے ابھرنے اور ڈوبنے کے کھیل میں ادارے ڈوب جاتے ہیں۔ پھر انہیں اونے پونے بیچنے اور ان سے جان چھڑانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔

ان مختلف تعلیمی اور ثقافتی اداروں کو فعال رکھنے کے لئے تاریخی ورثہ کے نام سے ادارہ بھی بنایا گیا تھا۔ مگر وہ بھی جلد اپنی افادیت کھو گیا۔ سینٹر اور وزیراعظم کے مشیر محترم عرفان صدیقی ایک اچھے کالم نگار اور اعلی پایہ کے ادیب ہیں۔ ان اداروں کے ساتھ ان کا قریبی تعلق بھی رہا یے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ حکومت ان کی مشاورت سے ان اداروں کو بند یا کسی اور ادارے میں ضم کرنے کی بجائے، ان کی خود مختاری قائم رکھے اور ان کی زبوں حالی کا کوئی مجرب حل تلاش کرے۔ ان کی سربراہی میں کوئی مشاورتی کمیٹی بنا کر ان اداروں کو فعال کرے۔

ہمارے کتاب دوست قلم فاؤنڈیشن کے روح رواں علامہ عبدالستار کے بقول پاکستان اور پاکستان سے باہر ایسے علم پرور لوگ ہیں جو ان اداروں کے سالانہ اخراجات کے لئے اپنا تعاون پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ ادارے اپنی کارکردگی بھی بہتر بنائیں، کچھ کر کے دکھائیں۔ سرکاری اداروں کو ہر قسم کے تعصب، لابی سسٹم اور گروہ بندی سے بھی آ ذاد ہونا چاہیے۔ تاکہ ان کا وجود اور جُداگانہ تشخص برقرار رہے۔