ایمان مجھے ر وکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر

انہی کالموں میں یہ عرض کی تھی کہ دنیا اِس وقت ایک غیر مستقل مزاج شخص کے ہاتھوں میں آیا ہوا کھلونا بن گئی ہے۔”ٹرمپ کی دنیا“ کے عنوان سے لکھے گئے کالم میں ایسے کئی اقدامات کا ذکر کیا تھا، جن کی وجہ سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جو خود امریکیوں کو بھی سمجھ نہیں آ رہا۔

امریکہ میں لاکھوں افراد اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کر رہے ہیں،امریکہ کو اِس جنگ سے دور رہنے کی تلقین اور مطالبے کر رہے ہیں،مگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔اتوار کو ایران کے تین ایٹمی مراکز پر فضائی حملے کا ڈونلڈ ٹرمپ نے جو ٹویٹ کیا ہے وہ بھی اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ دنیا کو اپنی مرضی سے چلانا چاہتے ہیں،یعنی ایران کی خود مختاری پر حملہ کرنے کے بعد وہ اُسے مشورہ دے رہے ہیں کہ اب امن کا آغاز کرے۔یہ بدمعاشوں والا رویہ ہے، جو مارتے بھی ہیں اور آگے سے بولنے بھی نہیں دیتے۔

یہ وہی ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جن کا نام ہم نے نوبل امن ایوارڈ کے لئے نامزد کیا تھا۔ مقصد شاید یہ تھا کہ اس سے ٹرمپ اپنی جارحانہ پالیسیوں سے باز آ کر دُنیا میں امن کی راہ استوار کریں گے،پھر وائٹ ہاس کی طرف سے یہ خبر آئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ دو ہفتوں کے لئے موخر کر دیا ہے۔ اس سے یہی تاثر لیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری آنکھ سے دوسری طرف بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ہم بھی بہت خوش تھے کہ ہماری ایک بروقت حکمت عملی کے باعث فی الوقت جنگ کے بادل ٹل گئے ہیں،مگر خوش فہمی کا یہ غبار اُس وقت چھٹ گیا جب امریکہ نے اپنے جدید ترین طیاروں بی ٹو سپرنٹ کے ذریعے ایران کی تین جوہری سائٹس پر حملہ کر دیا۔

اِن حملوں کا انکشاف خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا اِن حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔پوری دنیا میں اُن کے اِس ٹویٹ سے ایک اضطراب پھیل گیا۔ ایران نے امریکی اڈوں اور تنصیبات پر جوابی حملے کرنے کا اعلان کر دیا۔اُدھر اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے فخریہ اعلان کیا آج ہم نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کا قلع قمع کر دیا۔ہم اپنے اصل مقصد میں کامیاب ہو گئے۔دوسری طرف ایران کی طرف سے اعلان کیا گیا،جن تین جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا گیا،وہاں سے جوہری مواد پہلے ہی نکال لیا گیا تھا،اِس لئے ہمارے جوہری اثاثے محفوظ ہیں۔

 یہاں یہ امر بھی قابل ِ ذکر ہے کہ ایران کے جوہری اثاثوں کے بارے میں عالمی ایجنسیاں یہ پہلے ہی رپورٹ دے چکی ہیں کہ وہ صرف توانائی کے مقاصد کے لئے ہیں،اِس سے آگے اُن کی افزدوگی کا کوئی ثبوت یا شواہد نہیں ملے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بعدازاں ایک بیان دیتے ہوئے کہا ایران پچھلے چالیس برسوں سے امریکہ مردہ باد کے نعرے لگا رہا ہے،آج ہم نے اُسے سبق سکھا دیا ہے،انہوں نے چالیس سال کی مدت تو تسلیم کر لی،لیکن یہ تسلیم نہیں کیا کہ امریکہ نے بھی ان چالیس برسوں میں ایران کو نقصان پہنچانے اور اُسے معاشی طور پر برباد کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں چھوڑی۔

ہمارے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل اتنی آسانی سے ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر سکتے ہیں،اُس کے جوہری مراکز کو نشانہ بنا سکتے ہیں تو نیتن یاہو کی اس دھمکی کو کیسے آسانی سے ہضم کیا جائے جو اُس نے برسوں پہلے دی تھی اور کہا تھا ایران کے بعد پاکستان کے جوہری اثاثوں کو نشانہ بنائیں گے۔اگر ہم ایران پر ان حملوں کی مذمت نہیں کرتے اور دوسری راہ اختیار کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دِلانے کی راہ اختیار کرتے ہیں تو کیا ہماری یہ سکیم کامیاب ہو گی۔کیا اسرائیل ،جو ہمارا نظریاتی اور ازلی دشمن ہے اور جس نے کبھی ہماری نظریاتی، اسلامی اساس کو ہضم نہیں کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کی اِس بات سے قائل ہو جائے گا کہ پاکستان ایک اچھا ملک ہے اور آئی لو پاکستان کہہ کر نیتن یاہو کو چپ کرا دیں گے۔

میری رائے میں ایسا سوچنا بھی پرلے درجے کی خوش فہمی نہیں،بلکہ حماقت ہو گی۔پاکستان کا واحد اسلامی طاقت ہونا نہ صرف امریکہ،بلکہ اسرائیل کی نظر میں بھی شروع دن سے کھٹک رہا ہے۔اُن کا بس نہیں چل رہا کہ اس صلاحیت کو کیسے ختم کیا جائے۔کہتے ہیں کہ سانپ سے دوستی نہیں ہو سکتی،دنیا کے تین ممالک ایسے ہیں جو ہمارے لئے اِس بات پر پورا اُترتے ہیں:بھارت،اسرائیل اور امریکہ۔امریکہ اس لئے ہماری تمامتر کوششوں کے باوجود عین موقع پر ہمارا ساتھ نہیں دیتا کہ وہ اسرائیل کو راضی رکھنا چاہتا ہے۔بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ امریکہ ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل کے لئے اتنا آگے کیوں چلا جاتا ہے؟انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اسرائیل ہی ہے، جس کے ذریعے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں قدم جمائے ہیں۔گرم پانیوں تک رسائی حاصل کی ہے۔ پھر یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ میں یہودیوں کا معیشت پر قبضہ ہے۔کوئی امریکی صدر اُن کی آشیر باد کے بغیر چل نہیں سکتا۔ کیا یہ بات اظہر من الشمس نہیں کہ کتنے ہی لبرل اور ڈیمو کریٹک صدور آ ئے گئے،  اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی میں سرِ مو فرق نہیں آیا۔سب نے اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف قتل، غارت گری کی حمایت کی اور خطے کے اسلامی ممالک کو مجبور کیا وہ اسرائیل کے لئے نرم گوشہ رکھیں۔

اِس وقت پاکستان کی صورت حال بہت نازک ہے۔ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑے گا۔ غالب  نے اس صورت حال کے بارے میں کیا خوبصورت اور بامعنی شعر کہا ہے:

ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسیا مرے آگے

اِس بات میں کسی قسم کی اگر مگر کی گنجائش نہیں کہ ہم نے ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونا۔یہ ایک طرح سے خود کش حملہ ہو گا جو ہم اپنے پر کریں گے۔ تاہم دوسری طرف ہمیں ایران کی سفارتی حمایت کے سوا عملی حمایت نہیں کرنی۔اس جنگ کا ایندھن نہیں بننا جو اِس وقت جاری ہے اور جس کے بڑھنے کی باتیں ہر طرف ہو رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں امریکی آئین کو بھی نہیں مان رہے۔امریکی سینیٹرز بار بار دہائی دے رہے ہیں کہ امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کا اعلان نہیں کر سکتے، مگر وہ کسی کی سننے کو تیار نہیں۔

ایسے ہی اگر ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نوبل امن انعام کے لئے بھیجا ہے تو اسے بدمعاش کے شر سے بچنے کی ایک کوشش سمجھا جائے۔ایران پر حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکہ کے سوا کسی کے پاس اتنی طاقتور آرمی نہیں،اُن کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان ہٹلر یا چنگیز خان کو اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہےجو بہت خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ  پاکستان)