پاکستان کو بدنام کیوں کرتے ہو؟

پاکستان ایک بہترین ملک ہے۔ اس لیے نہیں کہ یہ ہمارا وطن بلکہ اس کا محل وقوع، اس زمین کی ساخت، اس کے موسم، اس کے نباتات اور اس کے قدرتی حسن کی وجہ سے یہ ملک دنیا کا بہترین ملک ہے۔

لیکن اس دنیا میں کسی ملک کا جو وقار بنتا ہے، وہ اس ملک کے باسی بناتے ہیں۔ جس طرح ایک انسان ظاہری شکل و صورت میں بہت بھلا لگتا ہے لیکن اس کی پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک ملک کی پہچان بھی اس ملک کے رہنے والوں کے کردار سے ہوتی ہے۔ ہم دنیا میں اپنے ملک کو ایک خوبصورت ملک کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔ اپنے ملک کی خوبصورت تصاویر کا اشتراک کرتے ہیں اور جب بیرون ملک سے لوگ ہمارے ملک کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں تو انہیں ایئرپورٹ پر ہی انسانوں کے برے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہیں تو انہیں سڑکوں پر جا بجا گندگی نظر آتی ہے، بے ہنگم ٹریفک نظر آتی ہے، لوگوں کی بے حسی کو دیکھتے ہیں۔ کوئی کسی کو راستہ دیتا، کوئی کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرتا دکھائی نہیں دیتا، دکاندار بے ایمانی کرتے ہیں۔ ہر جگہ جھوٹ، دھوکہ اور فراڈ نظر آئے گا تو پھر کوئی اس ملک کو اچھا کہے گا۔ نہ اس کی خوبصورتی کہیں نظر آئے گی۔ مزید یہ کہ اگر لوگ اس ملک میں عدم تحفظ کا شکار ہوں گے تو پھر بالکل ہی کوئی ادھر کا رخ نہیں کرے گا۔

ہمارے وطن کو اس وقت 35 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ پہلی یہ کہ ہم ایک ایسی قوم کا روپ دھار چکے ہیں جو محنت کی بجائے ہیرا پھیری سے جلد امیر ہونے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ہماری ایجادات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور دوسری بڑی وجہ کاروبار میں بے ایمانی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ یہ خاکسار بیرونی دنیا میں بارہا یہ سن یا دیکھ چکا ہے کہ پاکستان کے تاجر ایک بار اچھا مال بھیج کر اپنے گاہک یا مارکیٹ بناتے ہیں اور پھر دو نمبری شروع کر دیتے ہیں۔ اور اپنی مصنوعات کا معیار بہت زیادہ گرا دیتے ہیں۔ اس طرح دنیا میں ایک تاجر کا نہیں ملک کا امیج خراب ہو جاتا ہے۔ کچھ تو طاقتور ممالک نے پاکستان جیسے ممالک کے خلاف سازشوں کے جال بن رکھے ہیں۔ اوپر سے ہم اپنے ذاتی لالچ میں ملک کو بدنام کر دیتے ہیں۔ باہر لوگ ہمارے اوپر اعتبار کیسے کر سکتے ہیں، جب ہم خود ہی اپنے ملک کی کسی چیز پر اعتبار نہیں کرتے؟ ہمارے ملک کے تاجر اور کاروباری اداروں نے اپنے گاہکوں کو اس قدر زیادہ دھوکے دئیے ہیں کہ لوگ اپنے ملک کی بجائے غیر ملکی مصنوعات کو ترجیح دیتے ہیں
راقم کے ساتھ کئی بار دھوکے ہوئے ہیں لیکن میں نے بھی قسم کھائی ہوئی ہے کہ دوسروں پر اعتماد کرنا ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بطور قوم اپنا اعتبار اور اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ ہم سچ بولیں، وعدے کی پاسداری کریں، کاروبار ایمانداری سے کریں اور ایک دوسرے پر اعتبار کیا کریں۔ میری اس سوچ پر اکثر لوگ مجھے سادہ کہتے ہیں اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ بھولے ہو۔ تھوڑا ہوشیار ہو جاؤ، ہر کسی پر اعتبار نہ کر لیا کرو۔ ابھی حال ہی میں میرے ساتھ پاکستان کے ایک بڑے کاروباری ادارے نے فراڈ کیا ہے۔ ڈاولنس پاکستان الیکٹرانکس کا سامان بنانے والا بڑا ادارہ ہے۔ ہم بہت پہلے سے ان کے فریج اور ڈیپ فریزر استعمال کرتے آئے ہیں۔ پچھلے برس میں نے  ڈیلر سے ائیرکنڈیشنڈ اور ایک ریفریجیٹر خریدا۔ جن کے ساتھ گارنٹی اور وارنٹی دی گئی تھی۔ پہلا فراڈ یہ کیا گیا کہ ہمیں کہا گیا کہ کپمنی کے لوگ مفت میں اے سی لگا کر دیں گے۔ لیکن جب لگ گئے تو کام کرنے والوں نے ہم سے مزدوری کا معاوضہ طلب کر لیا۔ پوچھنے پر جواب ملا کہ چونکہ آپ نے جلدی لگوانا تھا، اس لیے کمپنی کے پاس ابھی وقت نہیں تھا۔ میں نے خاموشی سے 500 روپے فالتو کے ساتھ ساری ادائیگی کر دی۔

اے سی کو ہم نے گرمیوں میں ایک ماہ استعمال کیا، اس کے بعد دسمبر میں اسے ہیٹ پر چلایا تو آدھے گھنٹے بعد بہت بڑا دھماکہ ہوا۔ ہم سارے گھر والے سہم گئے کہ شاید کسی نے بم پھینکا ہے۔ صبح دیکھا تو اے سی کا پائپ پھٹا ہوا تھا، دو ماہ سے زائد کی بھاگ دوڑ کے بعد ہم سے آدھی رقم لے کر مرمت کی گئی۔ وجہ یہ بتائی کہ چونکہ اے سی کمپنی کے بندوں نے انسٹال نہیں کیا تھا، اس لیے خراب ہوا ہے۔ لیکن اب ہم ذمہ دار ہیں کوئی بھی خرابی ہوئی تو برائے راست ہم سے رابطہ کریں۔ اس مرمت کے دو ماہ بعد ہم نے پہلی بار اے سی کو آن کیا تو وہ ٹھنڈا نہیں کر رہا تھا۔ ہم نے ایک دو دن میں بار بار کوشش کی مگر کچھ نہیں ہوا۔ اس کے بعد ہم نے کمپنی کے بندوں سے رابطہ کیا تین دن تک ہمیں یہی لارے لگاتے کہ بندے آ رہے ہیں اس کے بعد فون اٹینڈ کرنا چھوڑ دیا۔ میں نے ایک ماہ کے دوران 33 بار کال کی اور اسی دوران ہم لاہور چلے گئے کیونکہ گرمی اس قدر ہو گئی تھی کہ اے سی کے بغیر بچے سو نہیں سکتے تھے۔ چند دن پہلے میں نے لاہور سے واپس آ کر ڈیلر اعوان برادرز سے بات کی۔ انہوں نے ہماری کمپلین بھیج دی۔ ساتھ ہی تین چار جگہوں پر کال کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ مجھے بھی ان کے مختلف نمبر دئیے اور کہا کہ ایک دن میں اے سی ٹھیک ہو جائے گا۔ مجھے کمپنی کے مرکزی دفتر کراچی سے پیغام ملا کہ 20 جون تک کام ہو جائے گا۔ ایک میکینک سے بھی رابطہ ہوا جس
 نے ایک دن ہمیں سارا دن انتظار میں رکھا کہ میں بس آ رہا ہوں، پھر دوسرے دن بھی انتظار کرایا۔ ہم اپنے معمول کے کئی کام چھوڑ کر ان کا انتظار کرتے رہے۔ اس دوران بچوں کو اپنے آبائی گھر شفٹ کیے رکھا۔ 21 جون کو دوبارہ گجرات ڈویژن کے سپروائزر اور ایک میکینک سے رابطہ ہوا جس نے ایک گھنٹے میں پہنچنے کا کہا۔ میں 40 کلومیٹر کا سفر کر کے گھر پہنچا اور 5 گھنٹے انتظار کیا اس دوران لگ بھگ 15 بار کراچی، گجرات اور میکینک کو فون کیا۔ ہر بار منٹوں کا وعدہ کیا گیا مگر کوئی نہیں آیا آخر میں نے ایک نجی میکینک کی مدد لے کر اپنے پیسوں سے اے سی ٹھیک کروا لیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ جب کمپنی والے ٹھیک کر کے گئے تو ایک پائپ کو صیح بند نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے گیس لیک ہو گئی تھی۔

یہ ساری بپتا لکھنے کا مقصد اپنی تکلیف بتانا اور یہ سمجھانے کی کوشش کرنا ہے کہ ہم اپنی حرکتوں سے پاکستان کو بدنام نہ کریں۔ ہم اپنے اعتبار کو خراب نہ کریں، کاروبار ایمانداری سے کریں۔ دنیا کے کاروبار میں سب سے بڑا نام یہودیوں کا ہے یعنی سب سے کامیاب کاروبار یہودی کر رہے ہیں۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ وہ کاروبار میں غلط بیانی اور دھوکہ نہیں کرتے۔