ایران: ہمیشہ خواہیم وطن را از دل و جانان

’ایران، ہمارے وطن، تو ہمیں دل و جان سے پیارا ہے‘ ۔ یہ مصرع ایران کے اس قومی ترانے میں شامل تھا جو 1933 سے 1979 تک ایران میں رائج رہا۔ قومی ترانے کی روایت قومی ریاست کے ارتقا سے جڑی ہے۔ قومی ترانہ دراصل مقتدر بندوبست کی عکاسی کرتا ہے۔

1873 میں دودمان قاجار کے فرماں روا ناصر الدین شاہ نے فرانسیسی موسیقار Alfred Jean Baptiste Lemaire سے ایران کے قومی ترانے کی دھن مرتب کرائی۔ سلام شاہی (Royal Salute) کے عنوان سے اس سازینے میں فارسی زبان کے کسی لفظ کو زحمت نہیں دی گئی تھی۔ طوائف الملوکی، قحط اور جنگوں کے ایک پیچیدہ سلسلے کے بعد 1921 سے 1925 کے درمیانی برسوں میں رضا شاہ پہلوی نے حکومت سنبھالی۔ اس دوران سلطنت برطانیہ ایران میں تیل اور گیس کے ذخائر کی صورت میں ایک ایسا خزانہ دریافت کر چکی تھی جو بھلے اہل ایران کے حیطہ خیال سے ماورا تھا لیکن مستقبل پر آنکھ رکھنے والی عالمی طاقتوں سے پوشیدہ نہیں تھا۔

برطانوی حکومت کے ایما پر انگریز سرمایہ کار William Knox D ’Arcy نے ایرانی حکومت سے تیل پر اجارے کے لئے معاملت شروع کی اور بالآخر 1908 میں اینگلو پرشین آئل کمپنی کے نام پر محمد علی شاہ قاجار سے ایران میں تیل اور گیس پر ساٹھ برس کے لئے ملکیتی حقوق حاصل کر لیے۔ اس سودے میں ایرانی حکمران کو بیس ہزار پاؤنڈ اور اتنی ہی ملکیت کے حصص ملے نیز آئندہ منافع میں 16 فیصد حصہ دینے کا وعدہ کیا گیا۔

1925 میں رضا شاہ نے پہلوی خاندان کی حکومت قائم کی۔ اس نے 1933 میں داؤد نجمی مقدم سے سرود شہنشاہی کے عنوان سے ایران کا نیا ترانہ لکھوایا۔ اس ترانے کی موسیقی محمد ہاشم افسر نے مرتب کی۔ پہلا مصرع ہی اعلان کرتا تھا، ’شاھنشاہ ما زندہ بادا‘۔ ’ہمیشہ خواہیم وطن را از دل و جانان‘ ترانے کا آخری حصہ تھا۔ رضا شاہ پہلوی کی ابدیت کا راز اگست 1941 میں کھلا۔ ایک صبح اہل تہران بیدار ہوئے تو برطانوی اور روسی ٹینک شاہی محل کے دروازے پر کھڑے تھے۔ انہیں روس کو فوجی امداد پہنچانے کے لئے ’غیر جانبدار‘ ایران سے راستہ درکار تھا لیکن رضا شاہ پہلوی کو مطلع کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ بلکہ انہیں معزول کر کے ان کے 22 سالہ صاحبزادے محمد رضا پہلوی کو تخت نشین کر دیا گیا۔ یہ قبضہ مارچ 1946 تک قائم رہا۔

اس دوران ڈاکٹر محمد مصدق جولائی 1952 میں ایران کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ انہوں نے ایرانی وسائل پر بیرونی قبضے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تیل اور گیس کو قومیانے کا اعلان کر دیا۔ محمد رضا پہلوی ایران سے اٹلی فرار ہو گئے۔ تاہم برطانیہ سمیت مغربی اقوام کے لئے تیل قومیانے کا اقدام ناقابل قبول تھا۔ امریکی سی آئی اے اور برطانوی خفیہ اداروں نے ایرانی وطن فروشوں سے سازباز کر کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف بغاوت کروا دی۔ چرچل، امریکی وزیر خارجہ جان فاسٹر ڈلس اور ڈائریکٹر سی آئی اے ایلن ڈلس کی یہ سازش اب امریکی تاریخ میں نصابی طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ استعماری طاقتوں کے اسی ساز باز اور ریاستی تشدد کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے لئے فیض صاحب نے جیل میں ’ایرانی طلبا کے نام‘ اپنے معروف نظم لکھی تھی جسے وہ اپنی بہترین تخلیقات میں شمار کرتے تھے۔

مغربی مدد سے دوبارہ اقتدار میں آنے والا محمد رضا پہلوی خطے میں امریکا اور سرمایہ دار دنیا کا کوتوال ٹھہرا۔ اس کے خفیہ ادارے ساواک نے ایرانی عوام پر عقوبت خانوں کے دروازے کھول دیے۔ ایران کا تعلیم یافتہ اور روشن خیال طبقہ اشتراکی جماعت تودہ پارٹی کا حامی تھا لیکن ان کی تعداد بہت کم تھی۔ ایران کا مراعات یافتہ طبقہ شہنشاہیت کا حامی تھا۔ ناخواندہ عوام کی اکثریت قدامت پسند ملاؤں کی حلقہ بگوش تھی۔ محمد رضا پہلوی کے مستبد طرز حکومت کے باوجود ایران مشرق وسطیٰ میں معاشی ترقی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 1959 سے 1970 کے عشرے میں ایرانی معیشت کا حجم 3.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10.6 ارب ڈالر کو جا پہنچا۔ بیرونی سرمایہ کار قطار بنائے ایران کا رخ کر رہے تھے۔ تاہم معاشی ترقی کے اس پردے کی اوٹ میں سیاسی بے چینی پھیل رہی تھی۔ ترقی پسند طبقہ شاہ ایران کو مغرب کی کٹھ پتلی سمجھتا تھا جب کہ قدامت پسند طبقے کو ایرانی معاشرت کی جدید روش سے نفرت تھی۔ ایرانی حکومت کے خفیہ اداروں اور محلاتی سازشوں کے ستائے عوام بادشاہت کو مسلط کردہ آمریت سمجھتے تھے۔

1977 کے موسم خزاں میں یہ لاوا پھوٹ بہا۔ چند سو افراد کے احتجاج سے شروع ہونے والی تحریک شہر شہر پھیل گئی۔ ترقی پسند طبقہ اپنے بہتر سیاسی شعور کے باوجود اس تنظیمی بست و در سے محروم تھا جو ملاؤں کو مساجد اور مدارس کی صورت میں دستیاب تھا۔ 1963 میں جلاوطن کیے جانے والی ایک مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی نے کیسٹ ریکارڈ تقریروں سے ایران کے کونے کونے میں آتش بغاوت بھڑکا دی۔ محمد رضا اس عوامی سیلاب کی قوت سمجھنے میں ناکام رہا اور اسے 11 فروری 1979 کو ایران سے فرار ہونا پڑا۔ 28 فروری 1979 کو تہران پہنچنے پر آیت اللہ خمینی کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ جلد ہی واضح ہو گیا کہ ایرانی عوام شہنشاہیت کے پنجہ استبداد سے نکل کر ملاؤں کی آمریت میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ ترقی پسند عناصر کو چن چن کر ہلاک کیا گیا۔

ایران پر ایک سخت گیر ملائیت نافذ کر دی گئی۔ عورتیں، طالب علم اور محنت کش اپنے رہے سہے حقوق سے بھی محروم ہو گئے۔ ہزاروں سیاسی کارکن قتل کر دیے گئے۔ ایرانی انقلاب کے ابتدائی برس قتل و غارت سے عبارت تھے۔ ایران کی نوآمدہ حکومت اپنے انقلاب کو مشرق وسطیٰ اور دوسرے خطوں میں برآمد کرنا چاہتی تھی جس سے مشرق وسطیٰ کی موروثی حکومتوں میں بے چینی پھیل گئی۔ ایرانی ملائیت نے مغربی ممالک سے مخاصمت اختیار کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اپنے پروردہ مسلح گروہوں کا جال بچھا دیا۔ اکتوبر 2023 سے جون 2025 تک کا تصادم اسی چالیس سالہ کشمکش کا منطقی انجام ہے۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ ایران کی حکومت حالیہ جنگ میں اپنی واضح جنگی شکست کے بعد کیا راستہ اختیار کرتی ہے۔ ایران دنیا کے ساتھ سفارتی معاملت کا راستہ بھی اپنا سکتا ہے اور درپردہ مسلح مزاحمت کا امکان بھی موجود ہے۔ ہمارے ملک کے ایران سے قدیم تاریخی، ثقافتی اور لسانی تعلقات ہیں اور ہمیں اہل ایران کی سلامتی عزیز ہے۔ تاہم آئندہ لائحہ عمل بہر صورت ایرانی قیادت ہی کو طے کرنا ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)