ایران نے امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے: آیت اللہ خامنہ ای
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ امریکہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے کوئی اہم مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہؤا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے بارے میں ’غیر معمولی طور پر مبالغہ آمیز‘ بیان دیا ہے۔
خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح تھا کہ انہیں ایسا کرنے کی ضرورت ہے اور جو کوئی بھی سن رہا ہے وہ امریکہ کو بتا سکتا ہے کہ وہ سچائی کو مسخ کرنے کے لیے چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ ہم نے خطے میں امریکہ کے اہم اڈوں میں سے ایک پر حملہ کیا اور یہاں انہوں نے اسے کم اہمیت دینے کی کوشش کی۔
آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ایران سے ’ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ تو کیا تھا مگر امریکی صدر کا یہ بیان نا مناسب تھا۔ ’ایران جیسے عظیم ملک اور قوم کے لیے ہتھیار ڈالنے کا ذکر ہی توہین ہے۔
ایران کے رہبر اعلیٰ نے کہا ہے کہ امریکہ کی فوجی کارروائی جوہری معاملات یا جوہری افزودگی کے بارے میں نہیں تھی بلکہ ’ہتھیار ڈالنے‘ کے بارے میں تھی۔ ’ایک دن یہ انسانی حقوق کے بارے میں ہے، دوسرے دن یہ خواتین کے حقوق کے بارے میں ہے، پھر یہ جوہری مسئلے کے بارے میں ہے، پھر میزائلوں کے بارے میں ہے۔ درحقیقت اس کی اصل وجہ ایک ہی ہے کہ اور وہ یہ کہ امریکی صدر چاہتے ہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے‘۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ میں ایک بار پھر اپنے ملک کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ ’امریکہ نے براہ راست جنگ میں اس لیے قدم رکھا کیونکہ اسے لگا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا ہوتا تو صیہونی حکومت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ امریکہ کو اس جنگ سے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور ایران 'فاتح' بن کر اُبھرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس نے 'امریکہ کے منہ پر ایک سخت طمانچہ مارا ہے'۔
ایرنی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری تنصیبات کے تباہ ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے صیہونی حکومت کو عملی طور پر کچل دیا ہے۔ امریکہ نے براہ راست اس جنگ میں اس لیے قدم رکھا کیونکہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو صیہونی حکومت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اس بار اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر فارسی زبان میں ایک اور پیغام پوسٹ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’تیسری مبارکباد، ایرانی قوم کے اتحاد پر۔ تقریباً نو کروڑ کی آبادی والا ملک مسلح افواج کی حمایت میں ایک آواز کے ساتھ، کندھے سے کندھا ملا کر متحد ہے۔ ایرانی قوم نے اپنے ممتاز کردار کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ ضرورت پڑنے پر اس قوم کی طرف سے ایک ہی آواز سنی جائے گی‘۔