پاکستان کی ترقی میں بدعنوانی بڑی رکاوٹ ہے

عمران خان جب سے سیاست میں آیا، اس نے ایک بات پر سب سے زیادہ زور دیا کہ پاکستان سے بدعنوانی ختم کی جائے۔ خان صاحب نے پرانے سیاستدانوں پر بدعنوانی کے بڑے بھاری الزامات لگائے، انہیں چور کہا، ان کو سزائیں دینے کے مطالبات کیے۔

نواز شریف کی حکومت میں کئی بار دھرنے دئیے، عدالتوں میں مقدمات قائم کیے، نیب میں ریفرنس دائر ہوئے اور آخرکار نواز شریف کو اقتدار سے نکال کر جیل میں بھی بھیجا گیا۔ اور 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ اب عوام کو یہ امید لگی کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہو گا اور جن سیاستدانوں اور سابقہ حکومتوں کے اہلکاروں نے جو پیسہ چوری کر رکھا ہے، وہ واپس قومی خزانے میں آئے گا۔ اور ملک تیزی سے ترقی کرے گا۔ لیکن عمران خان کی قیادت میں بننے والی حکومت نہ تو قومی اداروں سے بدعنوانی کو ختم کر سکی اور نہ ہی پرانے سیاستدانوں سے کچھ برآمد کروا سکی۔ بلکہ نواز شریف اور مریم نواز سمیت جتنے بھی لوگ بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار اور سزا یافتہ تھے انہیں بھی رہائی ملنے لگی۔

میاں نواز شریف جیل سے سیدھا لندن سدھار گئے اور مریم نواز تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد حکومت کو للکارنے لگیں۔ اس کے علاوہ عمران خان کے دور میں کوویڈ کی وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا کی معیشت کو بہت بری طرح متاثر کیا۔ عالمی منڈیوں میں تیل، گیس، سونے اور دوسری تمام اشیا کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا جس سے پاکستان بھی متاثر ہوا اور ملک میں مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کا عمران خان پر سے اعتماد کمزور کیا۔ پھر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا پرانا کھیل شروع کیا اور اپنے مہروں کے ذریعے قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کروا کر عمران خان کو اقتدار سے باہر کیا۔ پھر انہی سیاستدانوں کو واپس اقتدار میں لے آئے جن کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں تحریکیں اور دھرنے کروا کر انہیں نکالا گیا تھا۔

اب میں اپنے اصل موضوع "بدعنوانی " کی طرف آتا ہوں اور بدعنوانی کی وجوہات اور طریقوں پر غور کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بدعنوانی کیوں اور کیسے ہوتی ہے؟ ایک بات تو سب باخبر حلقوں کے علم میں ہے کہ ہماری قومی خفیہ ایجنسیوں کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ہماری یہ ایجنسیاں بیرونی سازشوں اور اندرونی حرکات پر خوب نظر رکھتی ہیں، جس جس نے بھی بدعنوانی کی ہے سب کا ریکارڈ ہماری ایجنسیوں کے پاس موجود ہوتا ہے۔ اور وہ اس ریکارڈ کو بوقت ضرورت سامنے بھی لاتی ہیں۔ جب ان کی نظروں سے لوگوں کی خواب گاہیں نہیں بچیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بدعنوانی کرنے والے ان کی نظروں سے بچ نکلیں؟

پاکستان کی 77 سالہ تاریخ اور بالخصوص 70 کی دہائی سے جو کچھ ہوتا آ رہا ہے، یہ سب پاکستان کے طاقتور حلقوں اور ان کی ایجنسیوں سے پوشیدہ ہو سکتا ہے۔ نہ ان کی ایما کے بغیر ممکن ہو سکتا ہے اس کے بعد نتیجہ یہی سامنے آتا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کرنے کے لیے طاقتور حلقوں کی نظر کرم پہلی شرط ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے اور اقتدار میں ٹھہرنے کے لیے بھی انہی کی مدد چاہیے ہوتی ہے اور وہ خود کیا چاہتے ہیں؟ ان کی بس یہ چھوٹی سی منشا ہوتی ہے کہ ملک کا نظام اور بیرونی دنیا سے تمام لین دین ہماری مرضی سے ہوگا۔ اس طرح وہ خود سودے طے کرتے ہیں اور ان کے معاملات میں کسی کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔

جو بھی حکومت اس فارمولے پر رہ کر کام کرتی رہے گی، اسے قبول کیا جائے گا اور جب کسی نے ان کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کی کوشش کی پھر وہ ان کے عتاب کی تاب نہیں لا سکے گا۔ اب واضح ہوا کہ اس ملک کو چلانے والے اپنے ذاتی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں اور ان کے دیکھا دیکھی سب نے یہی روش اپنا لی ہے۔  ملک کے تمام طبقے انہی کے ساتھ علیک سلیک رکھتے ہیں کیونکہ سب یہ جان چکے کہ اس ملک میں ایک چھتری کی چھاؤں میں تحفظ ہے۔ پاکستان کے سرمایہ دار، جاگیردار، مذہبی راہنما، سماجی تنظیمیں، صحافی اور سول بیروکریٹس سب انہی کی شفقت کے طلبگار اور انہی کے اشاروں پر کام کرنے کو تیار۔ کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو انہی کی ایما پر نہ بنی ہو اور ہر جماعت کے سرکردہ لوگوں کی اکثریت انہی کے اشاروں پر چلتی ہے۔

اب تو ملک میں ایک ایسا ادارہ اسپیشل انویسٹمنٹ فزیلیٹیشن کونسل کے نام سے بنایا گیا ہے جس کی بظاہر قیادت وزیراعظم پاکستان کے پاس ہے لیکن سپہ سالار اصل فگر ہیں۔ اور اس کی باڈی میں تمام غیر منتخب لوگ ہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرتا ہے۔ بلکہ ملک کے اندر تمام بڑے پراجیکٹس (سرکاری یا پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ اور نجی) کی منظوری بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ ایم 12 موٹروے سمبڑیال سے کھاریاں اور ایم 13 موٹروے کھاریاں سے راولپنڈی کے پراجیکٹس کو اس ادارے کی منظوری سے نئے سرے سے مرتب کیا گیا ہے۔ ان موٹرویز کو چار سے بڑھا کر 6 لین کیا گیا ہے۔ اور ان کے بجٹ کئی سو گنا بڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہ دونوں پراجیکٹس عمران خان کی حکومت میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کی بنیاد پر شروع کیے گئے تھے جو بہترین منصوبے تھے۔

سمبڑیال کھاریاں موٹروے کا ٹینڈر کے ذریعے 42 ارب روپے میں ٹھیکہ دے دیا گیا تھا اور اس کی تکمیل کی مدت 30 ماہ رکھی گئی تھی۔ کھاریاں راولپنڈی موٹروے کا پی سی ون بن چکا تھا۔ اس کی لاگت بھی 42 ارب ہی تھی۔ کیونکہ ان دونوں کا فاصلہ بھی تقریبآ برابر ہی ہے۔ لیکن عمران خان کی حکومت کے بعد دونوں منصوبے کھٹائی میں پڑ گئے۔ کیونکہ پرائیویٹ پارٹنرشپ والے منصوبوں سے سرکار کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچتا۔ اس لیے سرکار نے ان منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ کہیں زمین کی خریداری میں رکاوٹ، کہیں نقشے میں۔ اس طرح یہ منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے اور ٹھیکیدار نے رقم بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔ اب ایس آئی ایف سی نے ان منصوبوں کو نئے سرے سے مرتب کر کے ان کی منظوری دی ہے۔ مگر اب ان کی نئی لاگت بالترتیب 71 ارب اور 82 ارب بتائی جا رہی ہے۔

اس طرح کے تمام بڑے منصوبوں میں اربوں کی بدعنوانی ہوتی ہے اور ہمارا نظام ایسا ہے کہ ایمانداری سے کام کرنے والوں کو ہمیشہ ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم بھی وہی قبول کیا جاتا ہے جو کسی معاملے میں ٹانگ نہ اڑانے اور خود بھی ’کانا‘ ہو۔ اب ہمیں سمجھ آ جانی چاہیے کہ اصل بدعنوانی کا منبع کہاں ہے؟