امریکی صدر کی گفتنی اور غزہ کا چینلج
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 28 / جون / 2025
عربی ادب کا معروف محاورہ ہے ”من کثرکلامہ کثر خطاؤہ“ جو جتنا زیادہ باتونی ہوگا اتنی ہی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی۔ جو جتنی اہم یا حساس ذمہ داری پر فائز ہوتا ہے، اُسے اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے۔
ہم نے امریکی صدور کو ہمیشہ نپی تلی ذمہ دارانہ گفتگو کرتے دیکھا سنا ہے لیکن پریذیڈنت ٹرمپ انوکھے صدر ہیں جو کسی بھی ایشو پر بے تحاشا بولتے ہیں۔ بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن پھر ٹھس ہوجاتے ہیں، یوں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی دعویٰ کیا کہ میں رشیا یوکرین جنگ فوری طور پر ختم کراؤں گا، زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس بلاکر جس طرح ذلیل کیا اس کا اثر الٹا نکلا۔ پیوٹن امریکا و یورپ کے خلاف مزید شیر ہوگیا۔ اس سے بھی پہلے ٹرمپ نے حماس کو دھمکی لگائی کہ میرے حلف اٹھانے سے پہلے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردو، نہیں تو میں غزہ کو تمہارے لیے جہنم بنادوں گا۔ لیکن حماس کے شدت پسندوں نے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کو بھی بھاری وصولیوں کے ساتھ بیچا اور آج بھی 7اکتوبر 2023 کے یہ یرغمالی حماس کی قید میں سڑرہے ہیں لیکن امریکی صدر نوبل پرائز کے چکر میں اپنی کامیابیاں بڑھا چڑھا کر بیان کررہے ہیں۔
ابھی ٹرمپ نے ایرانی ملاؤں کو دھمکی دی کہ غیر مشروط سرنڈر کردو نہیں تو میں تمہارا حشر نشر کردوں گا۔ لیکن انہوں نے اسرائیل میں امریکی لاڈلے بچوں کی وہ دھنائی کی کہ ٹرمپ کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ فردو کی ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنا اسرائیل کے بس میں نہیں تھا۔ اس پرٹرمپ کو اپنے بھاری بمبار بمبربسٹر کا استعمال کرنا پڑا۔ اور ہیگ کی نیٹو سمٹ میں یہ بھی کہنا پڑا کہ جس طرح ہم نے ناگاساکی اور ہیروشیما میں بم گراتے ہوئے عالمی جنگ رکوائی تھی، اسی طرح میں نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کرواتے ہوئے ایران اسرائیل جنگ رکوائی ہے۔ اب اس کا اپنے میڈیا سے جھگڑا چل رہا ہے کہ ایرانی ایٹمی تباہی پوری ہوئی ہے یا ادھوری؟
امریکی میڈیا جو ٹرمپ کو بالکل پسند نہیں کرتا، اس نے پینٹاگان کی لیک ہونے والی رپورٹس سے یہ واضح کیا ہے کہ ٹرمپ ایرانی ایٹمی پروگرام کی کلی تباہی کا جتنا بڑا دعویٰ کررہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ ایٹمی تنصیبات کی تباہی ضرور ہوئی ہے لیکن ان حملوں سے پہلے خود امریکیوں نے ایرانیوں کو آگاہ کردیا تھا جس پر وہ اپنے چار سو کلو افزودہ یورینیم کو نکال کر محفوظ مقام پر لے گئے۔ امریکی میڈیا کے بالمقابل امریکی سیکرٹری دفاع اپنے اس دعوے پر تلے بیٹھے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے ہیگ میں طویل پریس کانفرنس بھی کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے تو اپنے میڈیا کے خلاف قابلِ اعتراض زبان بھی استعمال کی، جو دودھ میں مینگنیاں ڈال کر ان کی کامیابیوں کو دھندلانے میں لگارہتا ہے۔
ویسے دیکھا جائے تو یہ چپقلش اتنے تناؤ والی ہے نہیں، سیدھی بات تھی یہ کہتے کہ اگر تباہی میں کوئی کمی یا کسر رہ گئی ہے تو وہ کسی اگلے مرحلے میں پوری کردی جائے گی۔ یا سفارت کاری سے قابو پالیا جائے گا۔ اس ساری بحث میں جائزہ لیا جائے تو امریکیوں کا اصل ایشو خمینی یا خامنائی رجیم سے ہے ورنہ ایران تو وہی ہے جسے شاہ کے دور میں خود امریکی صدر آئزن ہاور نے جوہری ٹیکنالوجی مہیا کی تھی۔ جوہری تحقیقی ری ایکٹر اور افزودہ یورینیم فراہم کرتے ہوئے تہران نیوکلیئر ریسرچ سنٹر کی بنیاد رکھی تھی۔ اس لیے حوصلے سے کام لیں اگر حالات پہلے والے نہیں رہے تو موجودہ والے بھی نہیں رہیں گے۔
پریذیڈنٹ ٹرمپ تو ویسے بھی جنگوں کے خلاف ہیں یا پھر فرینڈلی وار پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایران پر حملوں سے قبل ایرانیوں کو آگاہ کر دیا، پھر قطر کے ذریعے خود ایرانیوں سے معاملات طے کیے۔ انہیں اپنا غصہ، بھڑاس نکالنے یا فیس سیونگ کا پورا موقع دیا کہ وہ دوحا میں امریکی فوجی اڈے پر اتنے ہی میزائل پھینکیں جتنے امریکیوں نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بم مارے۔ پھر ان چودہ میں سے تیرہ کو رکوادیا، ایک کو گرنے دیا۔ یہ بھی طے شدہ تھا کہ میزائل ہلکی کوالٹی کے ہوں گے تاکہ کوئی نقصان نہ ہو۔ اس کے بعد قطر ہی کو آگے کرتے ہوئے ایران کی اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ جنگ بندی کروائی، جس کی اسرائیلیوں نے خلاف ورزی کی تو انہیں ڈانٹا۔ اسرائیل کے ایران پر حملہ کے لیےگئے ہوئے ستر پچھتر جہازوں کو نیتن یاہو پر شدید دبا ڈالتے ہوئے واپس بلوایا۔ ایرانی آئل ریفائنریوں پر حملے نہیں ہونے دیے، اسرائیلی دیگر سائنسدانوں اور جرنیلوں کی طرح سپریم لیڈر خامنہ ای کو بھی مارنا چاہتے تھے، ٹرمپ نے خفیہ ٹھکانہ معلوم ہونے کے باوجود ایسا کوئی بھی اقدام ہونے سے روک دیا۔ بلکہ کھلے الفاظ میں اسرائیل کی مذمت کی کہ میں ایرانیوں سے بھی ناراض ہوں لیکن اسرائیلیوں سے زیادہ ناراض ہوں۔
ہیگ میں تو ایرانیوں کی تعریف کرتے ہوئے یہاں تک چلے گئے کہ وہ عظیم قوم ہیں، تیل کی دولت سے مالامال ہیں۔ تہران جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے اپنا تیل نہ صرف چائینا کو بلکہ جسے چاہے برآمد کرسکے گا۔ ہم ایران پر عائد پابندیاں نرم کردیں گے۔ ہمارا ایران سے جھگڑا صرف ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے ہے۔ ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے اس کے علاوہ کوئی ایشو نہیں۔ اگلے ہفتے ایران سے مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔ ایران میں رجیم چینج کے سوال پر بھی ٹرمپ کا جواب مثبت تھا کہ ایسا کرنے سے ایران میں تشدد اور انارکی شروع ہوسکتی تھی۔ لہٰذا اس کی ضرورت نہیں تھی۔ ٹرمپ نے جس طرح اسرائیل کے بالمقابل ایران کی دلجوئی کی اسی طرح پاک ہند وار میں اپنے اصل اتحادی نریندرامودی کے بالمقابل پاکستانی آرمی چیف کی تعریفیں شروع کردیں۔ اور ایران کی طرح پاکستانیوں کو بھی بہتر مستقبل کی امیدیں دلائیں۔
آج نتیجہ یہ ہے کہ ہر دوخطوں میں کم از کم وقتی طور پر جنگیں ٹل گئی ہیں۔ بلکہ ہر فریق خود کو جیتا ہوا محسوس کررہا ہے۔ اگرچہ ایران کی جیت بھی ایسی ہی ہوئی ہے جیسی پاکستان کی تھی۔ مگر سپریم لیڈر علی خامنہ ای حفاظتی بنکر میں چھپے رہنے کے بعد، باہر آکر جو فاتحانہ تقاریر کررہے ہیں، تماتر نقصانات کے علی الرغم ان کی خوشی قابلِ دید ہے۔ کیونکہ بصورتِ دیگر ان کا حشر صدام اور قذافی جیسا ہوسکتا تھا۔ یہ ویسی ہی فتوحات ہیں جیسی فتح کا جشن غزہ میں حماس نے منایا تھا۔ خامنہ ای فرمارہے ہیں کہ ہم نے واشنگٹن کے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی نیوزپیپر کے حوالے سے انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹ ہے کہ پریذیڈنٹ ٹرمپ اور پرائم منسٹر نیتن یاہو کے بیچ اگلے دو ہفتوں کے اندر غزہ جنگ بندی کے حوالے سے اتفاق ہوگیا ہے۔ یہ واقعی بڑی اہم اور مثبت رپورٹ ہے کیونکہ ہمارے لوگ غزہ جنگ کے حوالے سے ایرانی قیادت پر یہ تنقید کررہے تھے کہ انہوں نے امریکی صدر کی تجویز پر جنگ بندی قبول کرتے ہوئے اسے غزہ کے ساتھ نتھی کیوں نہیں کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق چار عرب ممالک جن میں متحدہ عرب امارات اور مصر بھی شامل ہیں، حماس کی جگہ غزہ میں مشترکہ کنٹرول سنبھالیں گے۔ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرواتے ہوئے حماس قیادت کو جلاوطن کردیا جائے گا۔ غزہ سے نکلنے والے فلسطینیوں کو کچھ نامعلوم ممالک میں بسایا جائے گا۔ سعودی عرب اور شام اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کریں گے۔ دیگر عرب ممالک بھی ان کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔ امریکا ویسٹ بنک کے کچھ حصوں پر اسرائیلی اختیار تسلیم کرلے گا۔
درویش کی نظر میں معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں جس طرح اس مبینہ رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں۔ حماس کو ہٹا کر غزہ کا کنٹرول کس کے حوالے کیا جائے؟ عرب ممالک عمومی طور پر اس حوالے سے محمود عباس کی قیادت میں قائم ویسٹ بنک کی فلسطینی اتھارٹی کا نام پیش کرتے رہے ہیں۔ الفتح اور حماس کی اندرونی لڑائی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ حماس نے تو ایک موقع پر فلسطینی صدر یاسرعرفات کو مارنے کی کوشش بھی کی تھی۔ یہی معاملہ محمود عباس کے ساتھ بھی ہے اور خود محمود عباس حماس کے حوالے سے جو شدید ترین زبان استعمال کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کی بربادی کا اصل ذمہ دار قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اسرائیل غزہ کوفلسطینی اتھارٹی کی بجائے ہمسایہ عرب ممالک کی نگرانی میں دیتے ہوئے معاملہ آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ دیکھا جائے تو اس سلسلے میں مصر کے ساتھ اردن اور سیریا کو شامل کیاجاسکتا ہے۔ رہ گیا ابراہم اکارڈ کے تحت سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال، اس حوالے سے سعودی کراؤن پرنس کو تیل اور تیل کی دھار دیکھتے ہوئے زیادہ شتابی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں او آئی سی کے دیگر ممالک کو بھی ساتھ لے کر چلنا سعودیوں کیلیےمناسب ہوگا۔
حماس کو محمود عباس سانپ سے تشبیہ دیں یا کسی اور موذی جانور سے، لیکن اپنی جگہ یہ حقیقت ہے کہ اتنی بربادیوں کے باوجود ہنوز غزہ میں حماس کی طاقت کا کلی خاتمہ نہیں ہوسکا اور تمام عالمی کاوشوں کے باوجود 7اکتوبر 2023 کے اسرائیلی یرغمالی اس کی حراست سے پورے نہیں چھڑوائے جاسکے ۔ صدر ٹرمپ کے سامنے اس وقت کا چیلنج یہ ہے کہ وہ عرب ممالک کو آگے کرتے ہوئے غزہ ایشو کو جیسے تیسے حل کروائیں۔ اب تو حماس کو ایران کی وہ مدد بھی حاصل نہیں رہی، نہ حزب اللہ کی کوئی ایسی پوزیشن رہی ہے۔ لہذا یہ مناسب وقت ہے کہ غزہ سے تشدد کا خاتمہ کرتے ہوئے یہاں کے باشندوں کی زندگیوں سے دکھوں کا مداوا کیاجاسکے۔