جمہوریت مایوسی کا نام نہیں

حالات اب اس نہج پر ہیں کہ کچھ بھی لکھتے ہوئے سو بار سوچنا پڑتا ہے،کہیں کوئی بات کسی کی طبع ناز پر گراں نہ گزرے اور عبیر ابو ذری کے بقول پچھوں کروا ندا  پھراں ٹکور تے فیدہ کی،والی صورتحال پیدا ہو جائے۔

 جہاں جمہوریت، آئین، بنیادی حقوق اور انصاف کے حوالے سے ہر روز سوال اُٹھ رہے ہوں، وہاں بندہ کنفیوژ تو ہو ہی جاتا ہے۔ میں کل مسلم لیگ(ن) کی ایک خاتون کے اسمبلی میں خیالاتِ عالیشان سن رہا تھا جو پنجابی زبان میں تھے تو مجھے تحریک انصاف کے وہ26 ارکان یاد آ گئے جنہیں پندرہ اجلاسوں کے لئے معطل کر دیاگیا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر اس اجلاس کی صدارت بھی سپیکر محمد احمد خان کر رہے ہوتے جس میں خاتون رکن پنجابی میں صریحاً گالیاں دے رہی تھی تو شاید اس کی رکنیت بھی معطل ہو جاتی۔ یہ میری خوش گمانی ہے لیکن چونکہ صدارت ایک رکن اسمبلی کر رہے تھے، اِس لئے وہ بار بار اُن الفاظ کوحذف کراتے رہے جو اُس خاتون رکن اسمبلی  کے منہ سے جھڑ رہے تھے۔

یہاں سے میری سوچ پھر اُس نکتے کی طرف گئی کہ کڑوا کڑوا تھو اور میٹھا میٹھا ہپ کرنے کی جو روایت ہم نے ہمیشہ سے  ڈال رکھی ہے کیا وہ اس سارے فساد کی جڑ نہیں۔ سیاسی جماعتیں خود کیوں نوٹس نہیں لیتیں، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی تقریر کے دوران سپیکر کا گھیراؤ کئے رکھا اور شور شرابہ جاری رہا۔ بات ہاتھا پائی تک بھی پہنچ گئی، اس سے کیا ملا؟ ہمارا مسئلہ یہ ہے اسمبلیوں میں ایک دوسرے کا نقطہ نظر ہی سننے کو تیار نہیں ہوتے۔یہی حال قومی اسمبلی کا ہے۔وہاں بھی ہر اجلاس ہنگامے سے شروع ہو کر اُسی پر ختم ہو جاتا ہے۔ اس بار تو عوام بجٹ پر کوئی مدلل بحث ہی سننے سے محروم رہ گئے اور بجٹ پاس ہو گیا۔جب اپوزیشن کو پتہ ہے اُن کے شور مچانے پر ہنگامہ کرنے سے کارروائی رُک نہیں جاتی تو پھر انہیں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہئے۔ بجٹ کا تفصیلی مطالعہ کر کے اپوزیشن اپنا موقف سامنے لاتی تو اس سے اُسے زیادہ فائدہ ملتا۔ اب یہ بات بہت پرانی ہو گئی ہے کہ اسمبلی کو چلنے نہیں دینا۔ اسمبلی تو چل رہی ہوتی ہے، اُس میں کارروائی بھی جاری  رہتی ہے۔ یہ اور بات کہ عوام کو کچھ پتہ چلتا ہے اور نہ حکومت کے کاموں پر کوئی مثبت تنقید ہوتی ہے۔

دیکھا یہی گیا ہے کہ ایسے تمام اسمبلی اجلاسوں کے دوران دونوں طرف حوصلے کا فقدان ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دونوں ہی طرف سے ایک دوسرے کو چور، چور کہنے کی روایت بڑی ذمہ داری سے قائم رکھی جاتی ہے۔ ہماری اسمبلیوں میں ہمیشہ یہ دیکھا گیا ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بہت کم جاتے ہیں ،ہر دور کا ماجرا ہے۔اس کے پیچھے کوئی خوف ہوتا ہے یا کچھ اور، اس پر عمل ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا  یہ ہے کہ اپوزیشن اس موقع  کے انتظار  میں ہوتی ہے کہ کب وزیراعظم یا وزیراعلیٰ اسمبلی میں آئیں اور کب وہ اپنی بھڑاس نکالیں۔ایسے موقع پر جو حزبِ اقتدار میں ہوتے ہیں انہیں بھی وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی اسمبلی میں آمد کا بے تابی سے انتظار ہوتا ہے تاکہ وہ آسانی سے اُن کی نشست پر جا کے مل سکیں اور کوئی درخواست دے سکیں۔ یوں اُن دن خاص طور پر ماحول یا تو احتجاجی یا پھر غیر سنجیدہ ہو جاتا ہے۔

میں نے بہت کم ایسا دیکھا ہے کہ وزیراعظم یا کسی وزیراعلیٰ کو اپوزیشن نے سکون سے خطاب کرنے دیا ہو۔ اکثر کو کانوں پر ہیڈ فون چڑھا کر ہی خطاب کرنا پڑتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب حکومت اور اپوزیشن کی بزنس ایڈوائزر کمیٹیاں ہوتی تھیں جو کسی اجلاس کا ایجنڈا طے کرتی تھیں،جس کے باعث اجلاس قدرے سکون سے ہو جاتے تھے۔ مگر اب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان صرف دشمنی کی خلیج ہے۔ چند روز پہلے وزیراعظم شہباز  شریف قومی اسمبلی میں بیرسٹر گوہر اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر  سے ملنے اُن کی نشستوں پر گئے تو یہ ایک اچھا  عمل تھا۔مگر اس کے دور رس اثرات اِس لئے نہیں نکلتے کہ مجموعی طور سیاست  ایک دباؤ میں ہے۔حکومت حالات کو جوں کا توں رکھ کر اپوزیشن سے ہاتھ ملانا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن کے کچھ مطالبات ہیں، جن پر وہ اڑی ہوئی ہے۔سب سے اہم معاملہ پیٹرن انچیف تحریک انصاف عمران خان کا ہے جو درحقیقت اس سارے کھچاؤ تناؤ کی اصل وجہ ہے۔

اب اگر ہم اس صورتحال کے عادی ہو جاتے ہیں کہ اسمبلیوں میں ہنگامہ آرائی ہے، تو کیا ہوا، ایک دوسرے کے خلاف سخت اور نازیبا الفاظ اور القابات کا استعمال ہوتا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔اجلاس ملتوی ہو جاتا ہے تو اس سے جمہوریت ڈی ریل تو نہیں ہو جاتی یا26ارکان کی پندرہ اجلاسوں کے لئے رکنیت معطل ہو جاتی  ہے تو کون سی انہونی بات ہے۔ ایسا تو بھٹو کے زمانے میں بھی ہوتا تھا، تو ہمارا تجاہلِ عارفانہ ہو گا۔ اس سے تو یہی لگے گا کہ ہمیں جمہوریت اور جمہوری اداروں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی، وہ جیسے تیسے لولے لنگڑے انداز میں چلتے ہیں،چلتے رہیں،جمہوریت قائم تو  ہے، کہیں چلی تو نہیں گئی۔یہ سوچ ہمیں کہاں  لے جا سکتی ہے۔اس بارے میں فی الوقت کسی کو سوچنے کی فرصت نہیں۔

اس ملک نے مارشل لا بھی دیکھے ہیں اور آمریت کے ادوار بھی گزارے ہیں۔عوام کے اندر جمہوریت کے لئے جو محبت ہے، وہ ختم نہیں ہوئی۔اب بہت سی چیزیں ایسی  ہو رہی ہیں جنہیں روایت سے ہٹ کر  قرار دیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے غیر روایتی فیصلے بھی آ رہے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔تو سلسلہ کافی معنی خیز ہے تاہم سیاسی قوتوں کو اپنا فرض اور کردار ادا کرتے رہنا چاہئے۔حالات و تغیرات کی ایک اپنی دنیا ہوتی ہے، لیکن بنیادی حقیقتیں تبدیل نہیں ہونا چاہئیں۔اسمبلیوں کو دھینگا مشتی یا دشنام طرازی کا مرکز بنانے کی بجائے مکالمے اور اظہارِ رائے کا فورم بنائیں،یہ فورم برقرار  رہے گا تو جمہوریت کی بات  ہو گی۔جمہوریت اپنا وجود منواتی رہے گی۔

(روزنامہ پاکستان)