معاشرہ رویوں سے تشکیل پاتا ہے!
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 01 / جولائی / 2025
کسی بھی ملک یا معاشرے کی پہچان اس کے رہنے والوں کے رویوں سے ہوتی ہے۔ جس ملک کے لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں، اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں، ایک دوسرے کا اعتبار کرتے اور اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاتے، اچھے برے کی تمیز کرتے ہیں اور قوانین کی پاسداری کرتے ہیں، وہ معاشرہ ایک کامیاب معاشرہ کہلاتا ہے۔
جس ملک یا معاشرے کے لوگ ان صفات کے برعکس منفی سوچ یا دوہرا معیار رکھتے ہیں، دوسروں کے حقوق سلب کرنے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں، قومی ذمہ داریوں کا ادراک رکھتے نہ احساس کرتے ہیں، کسی جگہ قطار میں کھڑے ہونا پسند نہیں کرتے، موقع ملنے پر قانون کو روندتے ہیں، اجتماعی کی بجائے ذاتی مفادات کے اسیر ہوتے ہیں، وہ ملک کبھی خوشحال نہیں ہو سکتا۔ وہاں انصاف ناپید ہو جاتا ہے اور اس ملک کے حکمران لٹیرے ہو جاتے ہیں۔
اس وقت دنیا کے تمام براعظموں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں قسم کی ریاستیں موجود ہیں۔ پچھلی دہائیوں میں جو ممالک مختلف ممالک کی کالونیاں رہے ہیں ان پر استعماری قوتوں کے قبضے کی وجہ بھی ان کے رویے اور قومی کمزوریاں تھیں۔ اور پھر غلامی نے ان کے رویوں میں مزید خرابیاں پیدا کیں۔ کیونکہ غلامی بھی اپنے ساتھ کئی خرابیاں لاتی ہے۔ لیکن اب اکیسویں صدی میں بہت سارے ممالک کے اندر بہتری کی سوچ پیدا ہوئی ہے۔ کئی ممالک نے اصلاحات کی ہیں، اپنی سوچ کو بدلا اور اپنے نظام بہتر کیے ہیں۔ کئی ممالک آمریت سے نکل کر جمہوریت کی طرف چل پڑے ہیں۔ اسی طرح کئی ممالک نے اپنے عوام کو تعلیم، تجارت ،ہنر مندی کی طرف مائل کر کے اپنی پیداوار بڑھائی ہے اور غربت میں کمی لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
افریقہ کے کئی ممالک دہائیوں کی جنگیں ختم کر کے ترقی کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ ہماری قریب ترین مثال چین کی ہے جس نے پچھلی چند دہائیوں میں اپنے ملک کی حالت کو یکسر بدل دیا ہے۔ حالانکہ یہ اتنی بڑی آبادی کا ملک تھا کہ وہاں بہتری لانا انتہائی مشکل تھا۔ مگر چین نے اپنی اسی کمزوری کو طاقت میں بدلا اور اپنے ہر بچے کے ہاتھ میں کتاب اور ہنر دے کر اسے کامیاب انسان بنا دیا۔ چین نے اپنے ملک سے غربت کے خاتمے کا ہدف رکھا اور یہ ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ چین نے اپنے لوگوں کو تعلیم و ہنر کے ساتھ ساتھ تربیت دی اور محنت سکھائی۔ آج چائنہ دنیا کی ایک ایسی طاقت بن چکا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنا مرہون منت بنا لیا ہے۔ کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہوگا جو چینی مصنوعات کے بغیر گزارہ کر سکتا ہو۔
اب ذرا ہم اپنے ملک اور اپنے لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ایک طرف ہمارا دعوی ہے کہ ہم ناقابل تسخیر قوت ہیں اور یہ بات جزوی طور پر درست بھی ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور ایک منظم فوج کا حامل ملک ہے۔ ہمارے پاس دفاعی ٹیکنالوجی بھی قابل اعتبار ہے لیکن ہمارے رویے ایسے ہیں جن سے ہمارے ملک کی دنیا میں توقیر نہیں ہے۔ آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ ہم کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں اور ہمارے رویے کیسے ہیں؟ ہمارا پہلا رویہ مال کی ہوس ہے۔ یہ مانا کہ آج کی اس سرمایہ دارانہ دنیا میں دولت بہت اہمیت رکھتی ہے۔ ساری دنیا کے انسان کسی حد تک پیسے کی ہوس بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں تو پیسے کی پوجا کی جاتی ہے۔ اور ایسا کرتے وقت جائز و ناجائز کی تمیز بھی نہیں کی جاتی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم دور غلامی سے مال و زر سے مرعوب ہونے والی قوم بن چکے ہیں۔ آج ہمارے لوگ ہر اس بندے سے مرعوب ہیں جس کے پاس دولت اور طاقت ہے۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی ان لوگوں کو عزت دیتے ہیں کہ یہ مال و دولت انہوں نے ناجائز طریقوں سے اکٹھی کی ہے۔ انہوں نے دوسروں کے حق پر ڈاکے ڈالے ہیں، کسی نے دوسروں کی زمینوں کو زبردستی ہتھیا کر کالونیاں بنائی ہیں۔ کسی نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر کے طاقت حاصل کی ہے۔ کسی نے وطن کے ساتھ غداری کر کے مال کمایا ہے تو کسی نے اپنے لالچ میں اپنے ملک کو بدنام کیا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ رویہ پختہ ہو چکا ہے کہ جس کے پاس دولت ہے، طاقت ہے، اسی کو جھک کر سلام کرنا ہے۔
ہمارے رویے ملاحظہ فرمائیں کہ ایک طرف ہمارے لوگ اپنی اسٹیبلشمنٹ اور اپنے سیاستدانوں پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے نہیں تھکتے۔ انہیں گالیاں تک دیتے ہیں لیکن جیسے ہی ان میں سے کوئی مل جائے تو اس کے سامنے بچھے جاتے ہیں۔ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، ان کے ساتھ تصاویر بنوا کر شیئر کرتے ہیں۔ ایک طرف ہمارے لوگ روتے ہیں کہ ہمارے اوپر غلط لوگوں کو مسلط کیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب ہم ووٹ بھی انہی میں سے کسی کو دیتے یا پھر باری باری سب کو دیتے ہیں۔ ایک طرف یہ رونا ہے کہ جاگیردار اور سرمایہ دار الیکٹیبلز بن کر سیاسی جماعتوں کی کمزوری بن چکے ہیں تو دوسری طرف ہم انہی الیکٹیبلز کی سپورٹ بھی کرتے ہیں اگر ان کے مقابلے میں کوئی باصلاحیت اعلی کردار کا حامل تعلیم یافتہ مگر متوسط طبقے سے امیدوار سامنے آ جائے تو ہم اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ مقابلہ کرے گا؟
ہمارے لوگ اپنی ہی منتخب کردہ حکومتوں کے خلاف ہر وقت گلے شکوے اور لعن طعن کرتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ لیکن خود جہاں بھی موقع ملتا ہے صرف اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔ قومی مفاد کو کبھی مقدم نہیں جانا ہے۔ ہمارے لوگ بیرون ممالک کی صفائی کی تعریفیں کرتے اور اپنے ملک کی گندگی کا رونا روتے ہوئے اپنے ہاتھ سے گندگی بھی پھیلا رہے ہوتے ہیں۔ ہم دوسرے ممالک کے حکمرانوں کے سائیکل چلانے، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کی مثالیں دیتے ہوئے ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں۔ مگر خود ووٹ اس کو دیتے ہیں جس کے پاس قیمتی گاڑیاں ہوں اور وہ پروٹوکول کے جلو میں نمودار ہوتا ہو۔
ہمارے کاروباری طبقے کا یہ حال ہے کہ سر پر نمازی ٹوپیاں، ہاتھوں میں اللہ کے ذکر کی تسبیح مگر مال میں ملاوٹ، ناجائز منافع اور ٹیکس چوری میں یدطولی رکھتے ہیں۔ یہ ہمارے رویوں کے چند نمونے ہیں۔ یاد رکھیں اس دوہرے معیار کے ساتھ کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے نہ دنیا کی قوموں میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔ اگر ترقی اور مقام چاہئے تو ہمیں اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔