حضور ”زیادہ سیانے“ مت بنیں
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 03 / جولائی / 2025
انڈیا میں ایک فلم بنی تھی”تھری ایڈیٹس“, بڑی پاپولر ہوئی۔ بین الاقوامی سیاست میں ظاہر ہے ہم کسی بھی لیڈر کے لیے اس نوع کے الفاظ استعمال نہیں کرسکتے۔ یہ تہذیبی و سفارتی تقاضا ہے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ کردیا ”تین زیادہ سیانے“۔
امریکی صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں ان کے بہت سے لچھن دیکھتے ہوئے، اسی عنوان سے ایک کالم لکھا۔ تین کا ہندسہ پورا کرتے ہوئے دو زیادہ سیانے ”پاک ہند“سے لیے، جو اس وقت یہاں حکمرانی کے سنگھاسن پر براجمان تھے۔ بشمول ہمارے سابق کھلاڑی کے۔ تینوں میں خصوصیات کا خاصا اشتراک تھا اگرچہ انڈیا والے نے اپنے دیش کو نسبتاً زیادہ ترقی دیتے ہوئے اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔ بالخصوص معاشی حوالے سے مگر نمود و نمائش یا ریاکاری میں وہ بھی اپنے دیگر دوستوں سے کوئی بہت زیادہ پیچھے نہ تھے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ حالیہ معرکہ آرائی اور تعلی بازی میں پوری کردی گئی ہے۔
ویسے اگر “انصاف کی نظر “سے دیکھا جائے تو تیسرا زیادہ شتابی دکھاتے ہوئے مکافاتِ عمل کے تحت اس پاتال میں پہنچ چکا ہے جہاں گرتے گرتے بھی لوگ کچھ نہ کچھ عرصہ لگاتے ہیں۔ مگر مقام حیرت ہے کہ وہ کس قدر جلدی آؤٹ ہو گیا۔ سو اس خالی نشست پر ہم ان دنوں تل ابیب کے بی بی کو رکھ سکتے ہیں جن کی خونی شدت، ان کی ذہنی حدت کو واضح کرتی ہے۔ یوں ثابت ہوتا ہے کہ درویش کے ممدوح گیٹ ہیومن پرائم منسٹر اضحاق رابن کے سرے، یہی صاحب چڑھے تھے۔ جس کے کارن رابن، مصری صدر انور سادات، امریکن ہیرو ابراہم لنکن اور انڈین باپو مہاتما گاندھی کی طرح، اپنی ہی قوم کے مذہبی جنونی کی گولی کا ٹارگٹ بن گئے۔
درویش کو نوعمری کا اپنا وہ بیانیہ بھی پوری طرح یاد ہے جب وہ مسلم ورلڈ پر حاوی یا چھائے ہوئے تین خوفناک کرداروں کی جذب باہمی یا ذہنی مماثلت کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ یہ تینوں اگرچہ خود کو انقلابی قرار دینے یا دلوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہتے ہیں۔ لیکن ان تینوں کا انجام بھیانک یا خوفناک ہوگا۔ یہ ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی مقام شہادت حاصل کیے بغیر اپنی طبعی موت مرے ۔ اگرچہ یہ تینوں جنونی اپنی متشدد ذہنیت یا نام نہاد پاپولیریٹی و قابلیت کا ڈھنڈورا خوب پیٹتے تھے، بلکہ ایسے کلٹ کہ عقیدتمندان کم از کم ان کے اپنے خطوں میں کسی نہ کسی حد تک آج بھی اُسی سابقہ پروپیگنڈے کے زیراثر موجود ہیں۔ ان میں سے ایک کا خطہ یا ملک لیبیا تھا تو دوسرے کا عراق اور تیسرے کا ہمارا بدنصیب ملک پاکستان۔ دوستو! آپ سمجھ تو گئے ہی ہوں گے کہ یہ تینوں کون تھے؟ خیر یہ تو قصہ پارینہ تھے اور کیا فائدہ جب مرے کو مارے شاہ مدار اور وہ جو لمبی جیل یاترا پر ہے، اس کے بھی خراب کپڑے ہم نے کیا دھونے ہیں۔
بات تو ان پر ہونی چاہیے جو آج بھی بڑے طمطراق کے ساتھ برسرِ اقتدار ہیں اور اپنی پاپولیریٹی کے قصیدے سننے کے لیے لمحہ بہ لمحہ اوٹ پٹانگ حرکات کرتے رہتے ہیں۔ ان میں اگرچہ ہمارا بلند پرواز بھی شامل کیاجاسکتا ہے مگر چیری بلاسم کا ذکر کیا کرنا، وہ تو بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ جیسا رول ادا کر رہا ہے۔ اس سے آگے اس کی حیثیت ٹکے یا دھیلے سے کچھ زیادہ نہیں۔ باقی لٹھ بردار کے متعلق اس تضادستان میں رہ کر کسی امر کی لب کشائی کا یارا کسی میں بھی نہیں۔ عسکری ڈکٹیٹروں کے خلاف اگر کچھ لکھ بھی دیا جائے تو چھپ نہیں سکتا سو سارا غصہ جیسے تیسے جمہوریوں پر نکال لیا جاتا ہے۔
موجودہ تینوں جمہوریوں میں سرفہرست امریکی سیانے کو تو مسخرہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جو امریکا جیسے طاقتور جمہوری سسٹم میں کسا ہونے کی بجائے اگر رشیا چائینا یا کسی تھرڈ ورلڈ کنٹری کی حکمرانی پر فائز ہو جاتا تو بدترین ڈکٹیٹر ثابت ہوتا۔ ویسے امریکی و برطانوی گوروں کا تقابل کرنے والے اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ برٹش جس قدر روایت پرست یا قدامت کے دلدادہ ہوتے ہیں، امریکی اسی قدر روایت شکن یا نئی نرالی راہیں تراشتے یا تلاشتے رہتے ہیں۔ امریکی تاریخ میں بڑے بڑے لال بجھکڑ آئے ہوں گے مگر موجودہ صاحب نے تو ”زیادہ سیانا“ ہونے کی تمام حدود و قیود ہی پار کردی ہیں۔ کسی کو کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ موصوف کہاں کیا ہانک دیں گے۔ دو دھاری تلوار کہیں یا خنجر ، کسی کو کچھ معلوم نہیں یہ کدھر کو گھوم جائے۔ سوائے اپنی ذات کے موصوف کے لیے دوست دشمن کی کوئی پرکھ یا پہچان نہیں۔ اور اب تو اوباما کے حسد میں نوبیل پرائز کے حصول کی خاطر کسی طھی طرح تمام حدود پار کر جانے کیلیے پاگل ہوا پڑا ہے۔
حالیہ الیکشن میں جس متر ایلن مسک نے اپنا سارا سرمایہ اس کی بھینٹ چڑھا دیا تھا، ذرا سا مفاد ٹکرانے پر اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ طوطا چشمی تو کوئی اس ایلون مسک کے یار سے سیکھے۔ مسک کی طرح انڈین سیانا، “متر متر” کہتے “جے جے “ کے سلوگن الاپتے اسے گلے لگارہا تھا کہ اچانک یہ اُسی کے گلے پڑگیا اب مترتا کی مالا جپنے والے کو سمجھ نہیں آرہی کہ اسے نائیک کہے یا کھلنائیک ، اپنا کہے یا پرایا، یا پھر جل بھن کر اسے یہ شعر سنادے:
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
اگر یہ شعر مشکل لگے تو بالی وڈ کا یہ گیت ہی سہی، اپنوں پہ ستم غیروں پہ کرم جانِ وفا یہ ظلم نہ کر۔ رہنے دے مترتا کا کچھ تو بھرم۔ یہ تو دور کی ہندی دوستی کے گلے شکوے ہیں۔ اس امریکی طوطا چشمی کے سامنے تو اپنے یورپی اتحادیوں کی بھی کوئی اوقات نہیں۔ جب چاہے جہاں چاہے کسی کی بھی لتھی لہائی کر ڈالے۔ یوکرین والے کی تو اس نے میڈیا کے سامنے وہ کتوں والی کی کہ جو ضرب المثل بن گئی۔ اس کے تو پہناوے پر بھی امریکی زیادہ سیانے کو اعتراض تھا۔ یوں بے عزت کرکے اسے وائٹ ہاؤس سے نکالا کہ اگر وہ غالب کو جانتا تو ضرور کہتا:
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
وہ بیچارہ روتا ہی رہ گیا کہ حملہ بھی ہم پر ہوا ہے اور لتاڑا بھی ہمی کو جارہا ہے۔ جو جارح روسی ریچھ ہے اس کے ساتھ تم محبت کی پینگیں بڑھانا یا چڑھانا چاہ رہے ہو۔ اس بڑے چوہدری پوتن کی اس قدرخوشامدبازی کے باوجود جب اس روسی ڈکٹیٹر نے کسی بھی ایشو پر منہ نہیں لگایا بلکہ اس سفید ہاتھی کے خلاف انڈیا اور چائینہ کو اکٹھے کرتے ہوئے ایک ٹرائیکا بنانے کی کاوش کی تو الٹے بانس بریلی کو نکالتے ہوئے ویٹیکن میں میڈیا کی نظروں سے پرے رہتے ہوئے اپنی پچھلی حماقت کی تلافی کرنی چاہی۔ مگر اپنی اصل حرکات سے باز پھر بھی نہیں آیا۔ جنوبی افریقہ کے صدر کو وائٹ ہاؤس بلاکر کالی چمڑی کو اُسی طرح دھویا جیسے ماقبل چٹی چمڑی کو واش کیا تھا۔ تنگ آکر اسے یہ کہنا پڑا کہ عظیم امریکی جمہوریت کے اے زیادہ سیانے بادشاہ افسوس میرے پاس عربوں جتنے پیسے نہیں ہیں، ورنہ میں بھی ان کی طرح آپ کو جہاز کا تحفہ دے کر اپنی عزت بچالیتا۔
میکرون کی بیوی نے جہاز کا دروازہ کھلنے سے پہلے اپنے مجازی خدا کو تھپڑ مارا یا دھکا دیا جو بھی معاملہ تھا، ایک حوالے سے میاں بیوی کا باہمی ایشو تھا۔ تجھ سے رشیا یوکرین وار کا ایشو تو حل ہو نہیں رہا، نہ غزہ کی خونریزی رکوائی جاسکی ہے۔ لگا ہے میکرون کو ہدایت دینے یا اس کی میٹھی میٹھی بے عزتی کرنے۔ کرسی صدارت پر بیٹھتے ہی بلکہ اس سے بھی پہلے اس نے اپنے قریب ترین ہمسائے اور متر کینڈین جواں سال پی ایم جسٹس ٹروڈو کی جوعزت افزائی کی اس پر یہ درویش انہی دنوں لے دے کرتے ہوۓ کافی کچھ تحریر کرچکا ہے۔
ارادہ تو اپنے دیگر دو زیادہ سیانے لیڈران پرائم منسٹر مودی اور پردھان منتری بنیامین نیتن یاہو کے خاکوں یا کارستانیوں پر بھی قلم چلانے کا تھا جن کی چند ایک مشترک خصوصیات وقت کے ساتھ نہ صرف اپنی اقوام بلکہ اقوامِ عالم پر واضح ہوتی چلی جارہی ہیں۔ لیکن کالم میں اس کی گنجائش بچی نہیں۔ دونوں کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی عظیم اقوام یا ممالک کی اس گدی کا ہی کچھ وقار و لحاظ ملحوظ خاطر رکھ لیں۔ انڈیا اور اسرائیل کی تہذیبی طاقت، جمہوری سیاست اور عالمی مقام و مرتبے کا ایک زمانہ معترف چلا آرہا ہے۔ اب یہ ہر دو قائدین آخر کیوں خود ہی اس کی تذلیل یا جگ ہنسائی پر تلے بیٹھے ہیں۔ آج کی دنیا کھوکھلے نعروں کو نہیں اصل حقائق کو پرکھتی ہے۔ اگر آپ اتنک واد سے اس قدر دکھی ہیں تو دنیا کے سامنے خود اپنا کردار کیا پیش فرمارہے ہیں؟ جس کے اپنے ہاتھ خون آلود ہوں، وہ دنیا کے سامنےکس طرح اپنی پارسائی کا ڈھنڈورا پیٹ سکتا ہے؟
ٹھیک ہے اسرائیل کےساتھ7 اکتوبر کو اور انڈیا کے ساتھ بائیس اپریل کو جو سفاکانہ ٹیرر ہوا وہ اندوہناک تھا جس کی پوری دنیا میں شدید مذمت کی گئی اور پوری دنیا اس گھٹنا پر آپ لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کررہی تھی۔ لیکن پھر بدلے کی آگ میں نیتن یاہو جس حد تک چلے گئے ہیں، اتنک وادیوں کی بجائے جس قدر غزہ کے عام شہری مارے جارہے ہیں، اس کا جواز کوئی بااصول یہودی بھی دینے سے قاصر ہے۔ اسی طرح سانحۂ پہلگام میں جس سفاکی و سنگدلی سے مذہبی تخصیص کرتے ہوئے چھبیس بے گناہ انسان مارے گئے، اس پر پوری مہذب دنیا بھارتی قیادت سے اظہارِ ہمدردی کر رہی تھی۔ مگر جب آپ نے عالمی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آپریشن سندور کے تحت ایسی کارروائی کی جس میں اتنک وادیوں کی بجائے عام نہتے بے گناہ مارے گئے۔ تو دنیا آخر کس طرح آپ کے ساتھ کھڑی ہوسکتی تھی۔
آج آپ نے اپنے جو سفارتی وفود عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے بھیجے ہیں، ذرا سوچیے اگر آپ نے جوابی وار کیے بغیر یہ بھیجے ہوتے تو کس قدر موثر ثابت ہوتے۔ اور انڈیا کو کس قدر عالمی حمایت حاصل ہوتی۔