5 جولائی: پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ کا سیاہ ترین دن

ویسے تو پاکستان کی تاریخ میں سیاہ دنوں کی کمی نہیں مگر جمہوریت پر یقین رکھنے والے 5 جولائی کو پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ کیونکہ اُس دن ملک کی جمہوری قوتوں کو ناقابل ِبرداشت نقصان اٹھانا پڑا۔


48 سال قبل، 5 جولائی 1977 کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیا الحق نے اپنے ساتھیوں میجر جنرل کے ایم عارف، میجر جنرل ریاض خان اور لیفٹیننٹ جنرل فیض چشتی کے ساتھ مل کر بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جمہوری طور پر منتخب کی گئی قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر کے مارشل لا لگا کر آئین سے غداری کرتے ہوئے ملک کو سیاہ ترین دور میں دھکیل کر اسلامائزیشن کا جو سلسلہ ضیا آمریت نےشروع کیا، اُس نے معاشرے کی سیاسی، سماجی، قانونی، ثقافتی اور معاشی نفسیات پر جو گہرے داغ چھوڑے، وہ ابھی تک نہیں دھوئے جاسکے۔ جنرل ضیا نے بنیادی آزادیوں کو سلب کرکے سیاسی کلچر کو تباہ کرنے میں کوئی کثر باقی نہ چھوڑی اور پاکستان کی تقدیر کو بدترین طور پر اس طرح بدل دیا کہ جس کے منفی اثرات آج کے نظام میں بھی محسوس کئے جاسکتے ہیں۔

اُس وقت ملک کی 9 سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل”پاکستان قومی اتحاد“ کی طرف سے بھٹو حکومت کی مبینہ طور پر انتخابی دھاندلی کے خلاف مظاہرے کئے جارہے تھے۔ ویسے تو اس اتحاد میں شامل ہر جماعت کا الگ نظریہ تھا مگر بھٹو کی مشترکہ مخالفت کے لئے تمام جماعتیں اپنے نظریات بھلا کر بھٹو کی سوشل ڈیموکریسی کے خلاف نظام مصطفی کے نعرے تلے متحد ہوگئی تھیں۔یہ تاثر عام تھا کہ بھٹو کے خلاف اس اتحاد کی تحریک کو اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کی حما یت حاصل تھی۔ بیگم نصرت بھٹو نے عدالت میں درخواست دی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آرمی چیف کو منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور مارشل لا لگانے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور اُن کی یہ کارروائیاں 1973 کے آئین کے آرٹیکل 6 کے مطابق غداری کے زُمرے میں آتی ہیں۔ اس درخواست کی سماعت کے دوران ہی فوجی حکومت نے جمہوریت کو ماننے والے چیف جسٹس محمد یعقوب علی کو جبری ریٹائر کر کے انوارالحق کو چیف جسٹس لگادیا۔ پھر سپریم کورٹ اور چیف جسٹس انوارالحق نے نظریہ ضرورت کے تحت ضیا کے مارشل لا کو قانونی حیثیت دیتے ہوئے بیگم بھٹو کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

جنرل ضیا انتہائی جھوٹے، منافق، بزدل اور ایک مکارلومڑی کی طرح تھے۔ مارشل لا کا اعلان کرنے سے پہلے انہوں نے اپنے خاندان کو برطانیہ بھیج دیا اور راولپنڈی کے دھمیال آرمی ایئر بیس پر ایک ہیلی کاپٹر کو تیار رکھا تاکہ تختہ اُلٹنے کی سازش ناکام ہونے کی صورت میں فرار ہونا ممکن ہو۔ جب اُنہوں نے اپنے سیاہ دور کا آغاز کیا، اُس وقت کے داخلی اور عالمی حالات اور سرد جنگ جس مرحلے میں داخل ہونے والے تھے، وہ بھٹو کے خلاف جاتے تھے۔ جنرل ضیا نے مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے 90 دنوں کے اندر”آزادانہ اور منصفانہ انتخابات“ کروانے اور انتخابات کے فوراً بعد اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ وعدہ اُنہوں نے 11 سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود پورا نہ کیا۔ مگر اُن کے مرنے کے چند مہینے بعد ہی انتخابات ہو گئے اور بے نظیر بھٹو ملک کی وزیراعظم بن گئیں۔

جنرل ضیا کا ارادہ انتخابات کروانے کا تھا ہی نہیں بلکہ وہ کُچھ اور ہی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اُن کے حکم پر بھٹو اور ان کی کابینہ کو فوج نے گرفتار کر کے بھٹو کو مری میں گورنمنٹ ر یسٹ ہاؤس میں نظر بند کر دیا۔ جہاں وہ 29 جولائی تک رہے۔ نظربندی سے رہا ہونے کے فوراً بعد بھٹو نے وہی کام شروع کر دیا جس کے وہ ماہر تھے۔ اُنہوں نے عوامی رابطے کی زبردست مہم چلائی اور کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں بڑے جلسوں کے ذریعے نہ صرف عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا بلکہ یہ اعلان بھی کیا کہ جب وہ دوبارہ اقتدار میں آئیں گے تو مارشل لا لگانے والوں کو قانون کے مطابق سزائیں دلوائیں گے۔ اب پیپلز پارٹی کا سب سے زیادہ پرعزم، انتہائی رومانوی، جذباتی اور منظم محنت کش طبقہ اُبھر کر سامنے آنے لگا جس سے بھٹو کی مقبولیت میں تو اضافہ ہونے لگا مگر قبولیت میں نہیں۔ جنرل ضیا کے حکم پر سندھ کے گورنر اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹرلیفٹیننٹ جنرل جہانز یب ارباب نے 3 ستمبر 1977 کو بھٹو کو قتل کی سازش کے مقدمے میں گرفتار کر کے لاہور منتقل کر دیا۔ 10 روز بعدلاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خواجہ محمد احمد صمدانی نے ثبوتوں کو متضاد اور نامکمل قرار دیتے ہوئے بھٹو کو رہا کر دیا۔ فوجی حکومت کو یہ رہائی ناگوار گزری۔ بھٹو کو چند روز بعد 17 ستمبر کو اسی قتل کے مقدمے میں پھرگرفتار کر لیاگیا۔

قانون کے مطابق مقدمہ سیشن کورٹ میں چلنا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہوا۔ یوں بھٹو کے لیے انصاف حاصل کرنے کے تین مواقع میں سے ایک کو ختم کر دیاگیا۔ ہائی کورٹ کے جس 5 رُکنی بینچ نے بھٹو کے ٹرائل کا آغاز کیا، اس بینچ میں بھٹو کو رہا کرنے والے جسٹس صمدانی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بینچ کی قیادت کرنے والے جسٹس مولوی مشتاق۔ بھٹو سے شدید نفرت کرتے تھے کیونکہ بھٹوحکومت نے انہیں ان کی خواہش کے مطابق ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد وہ سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور وہاں دو سال گزارکر بھٹو حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد پاکستان واپس آئے۔ اُن کی پاکستان واپسی پر جنرل ضیا نے انہیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا تاکہ وہ بھٹو کے مقدمے کی صدارت کر سکیں۔

ٹرائل کے شروع میں عام لوگوں اور میڈیا کو عدالتی کارروائی دیکھنے کی اجازت تھی مگر25 جنوری 1978 کو ٹرائل کو خفیہ قرار دیا گیا۔ ٹرائل کے ہر مرحلہ کی رپورٹ جنرل ضیا کے قریبی ساتھی لیفٹیننٹ جنرل فیض چشتی کو دی جاتی تھی، وہ 5 جولائی کے مارشل لا کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ ہائی کورٹ نے18 مارچ 1978 کو بھٹو کو نہ صرف سزائے موت سنائی بلکہ اپنے مینڈیٹ سے ہٹ کر فیصلے میں مذہب کارڈ بے دریغ استعمال کرتے ہوئے بھٹو کے مسلمان ہونے پر شک کا اظہار بھی کیا۔ بھٹو نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تو جنرل ضیا کے بنائے ہوئے چیف جسٹس انوارالحق نے اپیل سننے کے لیے 9 رُکنی بینچ بنایا۔ مگر جلد ہی جسٹس قیصر خان اور جسٹس وحیدالدین کو بینچ سے باہر کر دیا۔ بینچ کی قیادت کرنے والے چیف جسٹس پہلے ہی جنرل ضیا کے مارشل لا کو قانونی تحفظ دے چکے تھے۔ سپریم کورٹ نے فوجی حکومت کی خواہش کے مطابق پھانسی کی سزا کو برقرار رکھا۔ تاہم جسٹس دُراب پٹیل، جسٹس صفدر شاہ اور جسٹس محمد حلیم نے اختلافی نوٹ لکھے۔ خیال رہے کہ 2011 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اس کیس کی دوبارہ سماعت کے لیے درخواست دی تاکہ ٹرائل کے منصفانہ ہونے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ مارچ 2024 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ بھٹو کو ان کے خلاف مقدمہ قتل میں فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا تھا۔

جنرل ضیا نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر مکمل سنسر شپ نافذ کر دی۔ فوجی حکومت پر تنقید کرنے والے بہت سے صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور مارشل لا کے ضابطوں کے تحت مقدمہ چلا کر صحافیوں کو کڑی سزائیں سنائیں گئیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 13مئی 1978کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں صحافیوں کو کوڑے مارے گئے۔ فوجی افسروں نے اپنے اہل ِخانہ کے ساتھ ہزاروں دوسرے لوگوں کے سامنے ایسی وحشیانہ کارروائیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس وحشیانہ تماشے کے ذریعے یہ واضح کیا گیا تھا کہ مارشل لا کے خلاف کسی بھی قسم کے اختلاف رائے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاں مگر صحافیوں نے ہمت دکھائی۔ وہ نہ تو کڑی سزاؤں سے ڈرے اور نہ ہی مفاہمت کی فوجی پیشکش کو قبول کیا۔ ناصر زیدی، اقبال احمد جعفری، اور خاور نعیم وہ صحافی تھے جن کوکوڑے مارے جانے کی خبر بی بی سی نے نشر کی۔ پھر دنیا بھر کے صحافیوں نے احتجاج کیا اور پاکستانی صحافیوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اسی سال یعنی 1978میں فوجی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانیوں میں سے ایک، ڈاکٹر مبشر حسن کی لکھی ہوئی تمام کالج کی نصابی کتابوں پر پابندی لگا دی اور کتابوں کو دکانوں سے زبردستی اٹھا لیا۔

جنرل ضیا کے دور کے تناظر میں 1979 میں ہونے والے بعض عالمی اور داخلی واقعات کی ٹائم لائن بہت اہم ہے۔ اُس سال کا آغاز میں امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے سے ہؤا۔ دو ہفتے بعد اپنے آپ کو ایران کے شہنشاہ کہلوانے والے رضا شاہ پہلوی عوامی احتجاج کے باعث اپنے خاندان کے ساتھ ایران سے فرار ہوگئے۔ یکم فروری کو آیت اللہ خمینی جلاوطنی ختم کر کے فرانس سے ایران پہنچ گئے۔ ایران میں امریکہ مخالف جذبات شدت اختیار کر گئے اور امریکہ کے خلاف عوامی مظاہروں نے اُس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر کے لئے شدید سیاسی مشکلات پیدا کردیں۔ 11 فروری کو جنرل ضیا کی حکومت نے اعلان کیا کہ پاکستان میں شریعت نافذ ہے۔ 26 مارچ کو واشنگٹن میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 3 اور 4 اپریل کی درمیانی رات کو راولپنڈی جیل میں بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ جنرل ضیا کا خیال تھا کہ جب تک بھٹو زندہ رہیں گے، وہ اپنے حامیوں کو اُمیدیں دلاتے رہیں گے اور فوجی حکومت کے لیے عدم استحکام کا باعث بنتے رہیں گے۔ بھٹو کے عدالتی قتل سے ایک روز پہلے جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل نے جنرل ضیا سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد غیر یقینی صورت حال ختم ہو جائے گی اور ساری قوم راہ راست پر آجائے گی۔ 4 مئی کو مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی وزیر اعظم بن گئیں اور آگے چل کر وہ جنرل ضیا کی اہم حمایتی بنیں۔

16 جولائی کو صدام حسین عراق کے صدر بن گئے۔ اُسی سال اکتوبرسے پاکستان میں آزادی صحافت پر مزید حملے شروع ہو گئے اور جنرل ضیا نے نیوز میڈیا پر شکنجہ مزید کسنا شروع کر دیا۔ مساوات اور صداقت جیسے کئی اخبارات پر پابندی لگا دی گئی۔ اُسی سال 4 نومبر کو ایرانی طلبا نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا اور سفارت خانے کے عملے کو ایک سال سے زائد عرصے تک یرغمال بنائے رکھا۔ طلبا کا مطالبہ تھا کہ ایران سے فرار ہونے والے شاہ کو ایران کے حوالے کیا جائے تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ ایرانی حکومت کا کہنا تھا کہ طلبا کا یہ اقدام ایرانی عوام کے جذبات سے امریکہ کی بے حسی کا فطری ردعمل ہے۔ 20 نومبر کو تقر یباً 500 شدت پسند مسلح افراد نے مکہ میں مسجد الحرام پر قبضہ کر کے ایک لاکھ نمازیوں کو یرغمال بنا لیا۔ اس واقعے کے بارے میں پہلی معلومات امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سامنے آئی تھیں۔ امریکہ نے خیال ظاہر کیا کہ یہ ایرانی انقلاب کا تسلسل ہے۔ ایران کی حکومت نے جواباً امریکیوں اور صیہونیوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ سعودیوں نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ بہرحال یہ خبر پاکستان آنے کے بعد ہجوم نے 21 نومبر کو اسلام آباد میں امریکہ کے سفارتخانے پر دھاوا بول کر اُسے نذر آتش کرنے کے علاوہ کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں امریکی ثقافتی مراکز پر بھی حملے کئے۔

یکم دسمبر کو لیبیا میں بھی امریکی سفارت خانے پر مظاہرین نے دھاوا بول کر اُسے جلا دیا۔ سعودی فوج نے، بعض دعوؤں کے مطابق فرانسیسی کمانڈوز اور پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر، دو ہفتوں کی لڑائی کے بعد 4 دسمبر کومسجد الحرام کو آزاد کرا لیا تھا۔ مسجد پر قبضہ کے واقعے کے بعد سعودی حکومت نے شریعت کے اطلاق کا وعدہ کیا اور عوامی حلقوں میں مغربی اثر و رسوخ کو محدود کر کے معاشرے کو مزید قدامت پسند بنانا شروع کر دیا۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان یہ کہہ چکے ہیں، وہ سعودی معاشرے کو 1979 سے پہلے والا بنانا چاہتے ہیں۔ اسلامی ممالک میں امریکہ کے خلاف عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے امریکہ کو ایک ”اسلام دوست“ کی ضرورت تھی۔ اس کے علاوہ ایران میں شاہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد آنے والی سیاسی اور سماجی تبدیلی کے باعث امریکہ کو خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی وفادار اتحادی کی شدید ضرورت محسوس ہورہی تھی۔ امریکہ کو اپنی اس ضرورت کا حل اُسی سال دسمبر کے آخری دنوں میں مل گیا، جب غیر مذہبی سوویت یونین نے افغانستان میں اپنے فوجی بھیجے۔اس کے بعد غیر اسلامی امریکہ اور اسلامائزیشن والے جنرل ضیا الحق کے درمیان محبت کا ایسا رشتہ قائم ہوا جس نے پاکستان کا سیاسی منظرنامہ ہی بدل دیا۔ ویسے تو پاکستان نے معرض وجود آتے ہی سوویت یونین کی بجائے امریکہ کو اپنے ساتھی کے طور پر چنا تھا اور 1950 کی دہائی کے وسط سے ”بغداد معاہدے“ میں شامل ہو کر سرد جنگ میں سوویت یونین کے خلاف محاذ کا حصہ بن گیا تھا۔ مگر جنرل ضیا اور امریکہ کے درمیان قربت نے سب کچھ یوں بدل دیا کہ اُس کے منفی اثرات پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔

جنرل ضیا کے دور میں ہزاروں سیاسی کارکنوں پر مارشل لا کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں مقدمے چلے اور انہیں کڑی سزائیں سنائی گئیں۔ حکومت نے لاہور کے شاہی قلعہ میں ٹارچر سیلز میں بے شمار سیاسی مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ فوجی حکومت نے جماعت اسلامی کے تعاون سے ہر چیز کو مذہبی بنایا۔ عدم برداشت، عسکریت پسندی، فرقہ واریت، منشیات، کلاشنکوف کلچر کو متعارف کرایا۔ ”افغان جہاد“ کے نام پر مذہبی جنونیوں کو امریکی اسلحہ سے مسلح کیا۔ اس عمل کا پاکستان کو آج تک خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس اسلامی بنیاد پرستی کی پیش گوئی کئی برس پہلے، 1955 میں فوت ہو جانے والے اردو کے عظیم لکھاری سعادت حسن منٹو نے طنزیہ انداز میں یوں کی تھی: ”آپ (امریکہ)کو اس دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کے استحکام کی بہت زیادہ فکر ہے اور کیوں نہ ہو اس لیے کہ یہاں کا ملا روس کے کمیونزم کا بہترین توڑ ہے‘‘۔

جنرل ضیا نے جماعت اسلامی کے لوگوں کو سرکاری عہدوں پر مقرر کیا اور 350 اراکین کی مجلس ِشوریٰ قائم کی، جس کا کام فوجی حکومت کے فیصلوں کی توثیق کرکے اُنہیں ”اسلامی“ قرار دینا تھا۔ اسلامائزیشن کے نام پر جنرل ضیا نے حدود آرڈیننس جیسے خواتین مخالف امتیازی قوانین متعارف کروائے، جن میں سنگسار کرنا، ہاتھ پاؤں کاٹنا اور سرعام کوڑے مارنا شامل تھے۔ یہ خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر کے اُنہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کی گھناؤنی چال تھی۔ ویمن ایکشن فورم اور پاکستان ویمن لائرز ایسوسی ایشن جیسی خواتین کی تنظیموں نے حقوق نسواں اور ایک منصفانہ جمہوری پاکستان کے قیام کے لیے مارشل لا کے ضابطوں کی زنجیریں توڑتے ہوئے فوجی آمریت کے خلاف بہادری سے جدوجہد کی۔

ہر ڈکٹیٹر شپ میں کوشش کی جاتی ہے کہ سوچ کے عمل کو روکا نہیں تو کم از کم محدود ضرور کیا جاسکے۔ اس لیے فنون لطیفہ اور ثقافتی اظہار کو کنٹرول کیا جاتا ہے کیونکہ فنکار تخلیقی صلاحیتوں سے سوچ کے عمل کو شروع کرکے دلوں اور دماغوں کو بدل سکتے ہیں۔ ضیا آمریت نے مزاحمتی شاعروں کو جیلوں میں ڈالا، تشدد کا نشانہ بنایا، اور بعض شعرا کو ملک بدر کیا، کیونکہ شاعری کی زبان اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ بعض دفعہ سیاسی تحاریک کو جنم دے سکتی ہے۔ عوامی شاعر حبیب جالب، جنہیں جنرل ضیا نے اپنی حکمرانی کے خلاف اشعار لکھنے پر متعدد بار جیل بھیجا، نے لکھا:

اک حشر بپا ہے گھر گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

جنرل ضیا نے فلموں پر بھی کنٹرول کرنے کے لیے موشن پکچرز آرڈیننس کے ذریعے فلموں پر سنسر شپ کا ایک بہت برا دور شروع کیا۔ اسلامائزیشن کی وجہ سے عورتوں کا سنیما گھروں میں جانا معیوب سمجھاجانے لگا۔ حکومت نے قومی سلامتی اور عوامی اخلاقیات کے تحفظ کے نام پر فلمی صنعت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فلم کمپنیوں کی رجسٹریشن کے لیے نئے قوانین نافذ کئے۔ سنیما گھروں کے لیے ٹیکس میں اضافہ کیا جس نے فلمی صنعت کو تباہی سے دوچار کیا۔ خیال رہے کہ بھٹو دور میں ایک پھلتا پھولتا سنیما کلچر تھا اور پاکستانی فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فیچر فلمیں بنانے والی صنعت تھی۔ اُس دور کے آخر تک پاکستان میں 700 سنیماگھر اور 8 فلم سٹوڈیوز بن چکے تھے۔ جنرل ضیا کے دور کا ایک اور کارنامہ اسلام آباد کی بنیاد پرست لال مسجد کی سرپرستی تھا۔ اس کے رہنما طالبان کے سربراہ ملا عمر اور القاعدہ کے سینئر رہنماؤں کے قریب ہونے سے پہلے جنرل ضیا کے بہت قریب تھے۔ خیال رہے کہ دو دہائیوں بعد ایک اور فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اس مسجد کی قیادت کے خلاف ایک خونریز آپریشن کیاتھا۔

جنرل ضیا کے مذہبی بنیاد پرست دور میں اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے گئے۔ سیاسی مواد پر سخت گیرپابندیوں کے علاوہ ادبی جرائد کو بھی برداشت نہیں کیا گیا تھا۔ پنجابی کے معروف شاعر فخر زمان کے اردو ماہنامہ بازگشت اور پنجابی ہفتہ وار ونگار پر بھی فوجی حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ حکومت نے مارشل لا ریگولیشن نمبر 49 جاری کیا، جس کے مطابق مارشل لا کے مقاصد کے خلاف کسی بھی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی۔ کمیونسٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا تو کمیونسٹ پارٹی کے راہنما کامریڈ جام ساقی کو حیدرآباد سے گرفتار کر کے پہلے اُن پر فوجی یونٹ میں تشدد کیا گیا اور پھر انہیں لاہور کے شاہی قلعے میں مزید صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے بھیج دیا گیا۔ اُن پر نظریہ پاکستان کے خلاف کام کرنے کے الزام میں خصوصی فوجی عدالت میں مقدمہ بھی چلایا گیا۔ کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سب سے کم عمر رکن نذیر عباسی کو فوج کے فیلڈ انٹیلی جنس یونٹ کی حراست میں تشدد کرکے قتل کر دیاگیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے ایسے کارکنوں کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں فوجی عدالتوں نے کڑی سزائیں سنائیں اور اُنہیں بدترین اذیتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اُنہیں کوڑے لگے اور وہ ”جئے بھٹو“کہہ کر پھانسی پر چڑھ گئے۔ یوں مارشل لا کی اذ یتوں کے باوجود مزاحمت کا ایک ایسا کلچر پیدا ہوا جس نے پیپلز پارٹی اور عوام کے درمیان رومانس کے عنصر کو قائم رکھا۔

فوجی حکومت نے نوجوانوں اور طلبہ میں ترقی پسند سوچ کا خاتمہ کرنے کے لیے 1984 میں طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی۔ جنرل ضیا نے تقریباً 10 ہزار ایسے افراد کی فہرست بھی بنائی ہوئی تھی جنہیں وہ غدار سمجھتے تھے۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق سیاسی اتحاد، تحریک برائے بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ خیال رہے کہ ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت، موومنٹ فار دی ری سٹوریشن آف ڈیموکریسی) ایک کثیر الجماعتی تحریک تھی، جس کا آغاز پیپلز پارٹی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر 1981 کے اوائل میں کراچی سے کیا تھا۔ ایم آر ڈی کے مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس کافی نہیں ہوتی تھی اس لیے اکثر فوج کو طلب کیا جاتا تھا۔ مظاہروں کو کچلنے کے لیے جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال ہو تا تھا۔ 1985 میں آئین میں متعدد ترامیم کی گئیں، جن کے مطابق پارلیمنٹ کے اراکین کی اہلیت کو اسلامی اخلاقیات سے مشروط کیا گیا اور جنرل ضیا کو بذات خود پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا۔

خواتین، سیاسی کارکنان، طلبہ، مذہبی اقلیتوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے ڈکٹیٹرشپ کے خلاف شدید مزاحمت کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان جیسی تنظیموں نے بھی ڈکٹیٹر ضیا کے وحشیانہ مظالم کے خلاف آوازیں اُٹھائیں، مگر ڈکٹیٹر کو برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اور امریکی صدر رونالڈ ریگن کی حمایت حاصل تھی۔ جب جنرل ضیا ہوائی جہاز کے حادثے میں ہلاک ہوئے تو اُس وقت کے امریکی صدر ریگن نے کہاکہ ”آئیے ہم سب اپنے آپ کو علاقائی امن اور تعمیر نو کے کام کے لیے وقف کر دیں جس کے لیے صدر ضیا نے اپنی زندگی وقف کر دی۔“ برطانوی وزیر اعظم تھیچرنے کہاکہ ”صدر ضیا نے افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد افغان عوام کی حمایت کر کے اور پاکستان میں داخل ہونے والے 30 لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی پر دنیا کی حمایت حاصل کی تھی‘‘۔

خیال رہے کہ تھیچر کے دور میں ارجنٹائن اور برطانیہ کے درمیان 10 ہفتے لمبی جنگ ہوئی تھی جبکہ ریگن کے دور میں امریکہ نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر فضائی حملہ کر کے 60 ٹن بم گرائے تھے۔ تعجب ہے جنرل ضیا نے تھیچر یا ریگن کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد نہ کیا۔

چلو ریگن نہیں تو ٹرمپ ہی سہی!

(بشکریہ: روزنامہ جد و جہد آن لائن)