یہ نظام کب تک چلتا رہے گا؟
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 05 / جولائی / 2025
الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی19، کے پی کی25،پنجاب اسمبلی کی27اور سندھ اسمبلی کی تین نشستیں بحال کر دی ہیں اس طرح قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی تعداد 235 ہو گئی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 24 مخصوص نشستیں بحال،21ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی، ایک استحکام پاکستان پارٹی اور ایک نشست مسلم لیگ(ق) کو دی گئی ہے۔ اقلیتوں کی بحال کردہ تین میں سے دو ن لیگ کو اور پیپلزپارٹی کو ایک سیٹ مل گئی ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی21مخصوص نشستیں بحال کر دی گئی ہیں جن میں جے یو آئی کو آٹھ،ن لیگ کو چھ، پیپلزپارٹی پانچ، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور اے این پی کو ایک ایک مخصوص نشست مل گئی ہے۔ جے یو آئی کو دو، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو ایک ایک اقلیتی نشست مل گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ کی نشستیں 123،پیپلزپارٹی کی 74، جے یو آئی کی دس ہو گئی ہیں۔ قومی اسمبلی نے بھی ارکان اسمبلی کی نشستوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
شہباز شریف کی وزارتِ عظمیٰ میں قائم اتحادی حکومت کو دوتہائی اکثریت مل گئی ہے۔ ویسے اس سے پہلے جب حکومت کو دوتہائی اکثریت حاصل نہیں تھی تو اس نے26 ویں آئین ترمیم پاس کرا لی تھی اسے منظور کرانے میں اپوزیشن بھی شامل تھی۔مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں تحریک انصاف نے اس ترمیم کے پورے عمل میں حصہ لیا۔ ترمیم کے مسودے کو فائنل کرنے کے لئے جو قائمہ کمیٹی قائم کی گئی اس میں سب شامل تھے، اس کے دس اجلاس ہوئے جس میں اپوزیشن بھی شریک ہوئی تھی۔ نو اجلاسوں میں تحریک انصاف بھی شامل رہی۔ دسویں اجلاس کا بائیکاٹ کیا،ترمیم بہرحال کچھ قطع و برید کے بعد منظور کر لی گئی۔اس ترمیم کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر،آئینی عدالت کے قیام کا فیصلہ ہوا اس طرح حکومت کی گرفت مضبوط ہوئی،پھر اس ترمیم کے تحت قائم یا تشکیل پانے والی عدالت نے مخصوص نشستوں کا فیصلہ کیا اور حکمران اتحاد کو دوتہائی اکثریت مل گئی اور ایک نیا قومی سیاسی منظر تشکیل پایا۔
صورتحال یہ ہے کہ آئینی و قانونی طور پر حکمران اتحاد مضبوط ترین پوزیشن پر آ گیا ہے۔ ویسے تو پہلے بھی صورتحال کچھ کمزور یا بری نہیں تھی۔ مقتدرہ اور حکمران اتحاد نے مل جل کر جو مشترکہ یا ہائبرڈ نظام تشکیل دیا ہے، وہ بڑی خوبصورتی سے چل رہا ہے۔ہماری روایات بھی یہی ہیں کہ جسے مقتدرہ کی حمایت حاصل ہو وہ قائم و دائم رہتا ہے۔موجودہ نظام کچھ اس طرح تشکیل پایا ہے کہ اسے مقتدرہ کی حمایت ہی حاصل نہیں ہے، بلکہ مقتدرہ اس نظام میں بذاتِ خود شامل ہے، شریک ہے ،اس نظام میں سٹیک ہولڈر ہے، اس نظام کی فیوض و برکات سے مستفید ہو رہی ہے، اس لئے اس نظام کا چلتے رہنا لازم نظر آ رہا ہے۔
دوسری طرف اس نظام کے مخالف عمران خان ہیں ۔گو انہیں الیکشن2024 میں خوب ووٹ ملے۔سب سے ز یادہ ووٹ ملے،عوام کی اکثریت نے عمران خان کے حمایت یافتہ امیدواروں کو جی بھر کر دِل کھول کر ووٹ دیئے اور ان کی بھاری اکثریت کامیاب ہوئی۔مگر پی ٹی آئی کی قیادت کی حماقتوں کے باعث الیکٹورل برتری حاصل نہ کر سکی۔آزاد امیدوار ایک ایسی جماعت میں شامل ہوئے جس کی نمائندگی اسمبلی میں تھی ہی نہیں۔اس جماعت کا سربراہ خود بھی آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچا تھا ۔اس طرح آئینی و قانونی طور پر پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں مل سکیں۔ اس طرح پاپولر ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے والی تحریک انصاف الیکٹورل ووٹوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس ناکامی میں کسی اور کا ہاتھ ہے یا نہیں،لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کا اپنا ہاتھ ضرور شامل ہے کہ وہ درست فیصلے کرنے میں ناکام رہی جس کے باعث وہ اس مقام تک پہنچی ہوئی ہے جہاں آج ہمیں نظر آ رہی ہے۔
نظام آئینی و قانونی طور پر موثر ترین ہو چکا ہے۔ ویسے اس نظام کے باعث قومی معاملات میں بہتری نظر آنے لگی ہے، حکومت معاشی بدحالی کو روکنے میں، پستی میں گرنے کی رفتار کم کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ افراطِ زر کم ہو گیا ہے قدر زر میں استحکام آ گیا ہے۔ عالمی مالیاتی و زری ادارے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پاکستان کو جتنا قرض درکار ہوتا ہے مل رہا ہے۔عالمی چودھری، امریکہ اور اس کا ٹرمپ پاکستان کے صدقے اور واری جا رہا ہے۔ ہمارے سالارِ اعلیٰ،بلکہ سالارِ اعلیٰ ترین کو کھانے کھلاتا ہے۔
ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن بہت بہتر ہے۔ پاکستان کی آواز عالمی سطح پر سنی جا ہی ہے مرکز کے علاوہ صوبوں میں بھی حکومتیں کام کر رہی ہیں۔ پنجاب میں ن لیگی اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومتیں کارکردگی اور عوام کو سہولیات مہیا کرنے کے حوالے سے ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت میں شامل ہیں ۔ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں ۔کے پی میں پی ٹی آئی حکمران ہے ۔گنڈاپور اپنی تمام تر نالائقیوں اور حماقتوں کے باوجود پریس کانفرنسوں میں اپنی حکومت کی عوام دوست سرگرمیوں کا بیان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔بلوچستان میں بھی نمائندہ حکومت قائم ہے اور دہشت گردی کے خلاف اپنے ملک کے اداروں کے ساتھ کھڑی نظر آ رہی ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے مخلوط نظام قائم ہے اور چل رہا ہے،چل ہی نہیں رہا بلکہ دوڑ رہا ہے۔ گو ابھی اس نظام کے فیوض و برکات عوام تک نہیں پہنچی ہیں۔ عوام ابھی تک بجلی، گیس کے بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ٹیکسوں کا ظالمانہ اور غیر انسانی نظام عوام پر مسلط ہے ۔ حکومت کی اولین و آخرین ترجیح ٹیکس وصولیوں کو یقینی بنانا ہے۔ کسی بھی قیمت پر۔اس عمل میں چاہے عوام کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
اس بارے میں تو دو آرانہیں پائی جاتی ہیں کہ ہماری معیشت بری حالت میں ہے، ہمارے قومی ادارے بوڑھے ہو چکے ہیں،ان کی کارکردگی مشکوک ہے ۔ان کا طرزِ عمل ہی نہیں بلکہ طرزِ فکر بھی عوام دشمن ہے۔ ہمارے پالیسی ساز آج تک کوئی ایسی مستحکم اور دیرپا پالیسی نہیں بنا سکے،جس سے انہیں عوام کی تائید مل سکے۔بڑے بڑے قومی منصوبے اپنی جگہ درست ہوں گے، یہ موٹرویز، یہ مومیٹروز، یہ اورینج و گرین ٹرینیں، یہ ڈبل لین روڈز اور ایسے دیگر منصوبے اپنی جگہ درست ہیں ۔اس سے مجموعی طور پر بہتری پیدا ہوئی، معیارِ زندگی پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔لیکن عام آدمی کی زندگی میں سُکھ چین کہیں نظر نہیں آ رہا۔ہمارا ملک زرعی بنیادوں پر قائم ہے جہاں کسان مظلوم ترین طبقہ ہے اس کی پیداوار دیگر طبقات کے لئے خوشحالی کا باعث ہوتی ہے لیکن کسان کی تاریخی غربت وہیں پر موجود ہے۔ عوامی خدمات مہیا کرنے والے ادارے عوام میں ناپسندیدہ قرار پا چکے ہیں۔ہسپتالوں میں تھانوں کی طرح مریضوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ٹیکس ادا کرنے والا طبقہ روز بروز پستا ہی چلا جا رہا ہے اس کی ٹیکس ادا کرنے کی سکت گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ جبکہ ٹیکس کا بوجھ ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔قرض کا سود ادا کرنے کے لئے بھی حکومت کو قرض لینا پڑ رہا ہے۔
ٹیکس وصولیوں کا معتمد بہ حصہ قرض پر سود کی ادائیگیوں میں اُٹھ جاتا ہے۔ دفاعی اخراجات کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ ایسے کب تک چلتا رہے گا۔ایسا زیادہ دیر تک چل نہیں پائے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)