عوام کو مطلوبہ سہولت حاصل نہیں
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 05 / جولائی / 2025
سوچتا ہوں یہ کیسا عجیب مقابلہ چل رہا ہے۔ ایک طرف کسی کے خودکشی کرنے کی خبر آ جاتی ہے اور دوسری طرف یہ خبر آتی ہے ارکان اسمبلی کو چھٹیوں کی بھی پوری تنخواہ ملے گی۔ ایک بوڑھی عورت کو گھسیٹ کر بجلی دفتر سے نکالنے کی ویڈیوآتی ہے تو دوسری طرف سے یہ خبر آ جاتی ہے کہ وزرا اور افسروں کے لئے نئی گاڑیاں خرید لی گئی ہیں۔
ایک بیٹا بجلی کا بل ادا کرکے باپ کو رہا کرانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو شرمندگی کے مارے اپنی جان لے لیتا ہے۔ دوسری طرف یہ خبریں آتی ہیں کہ اشرافیہ کی رہائش گاہوں کو مزید چمکانے کے لئے کروڑوں روپے جاری کر دیئے گئے ہیں۔ یہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ حاکمانِ وقت خلقِ خدا سے بے نیاز ہو گئے ہیں یا عوام ہی اتنے بے صبر ہو گئے ہیں کہ تھوڑی بہت سختی یا گرمی برداشت کرنے کی بجائے فی الفور خودکشی پر اتر آتے ہیں۔ یہ بجلی کے بل ایک طرف غریبوں کے لئے موت کا پیغام بن گئے ہیں،سخت گرمی میں بھی وہ پنکھا ایسے استعمال کرتے ہیں،جیسے موت کے پروانے پر دستخط کر رہے ہوں، دوسری جانب جنہیں ہر شے مفت ملی ہوئی ہے ان کے ائر کنڈیشنڈ نہیں بند ہوتے۔
میں تاریخ میں ایسی مثالیں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں جب مقتدر طبقے اور عوام میں اتنا بعدالمشرقین ہو اور وہ معاشرہ کسی بڑے خونی انقلاب سے بچ گیا ہو۔ مانا کہ پاکستانی عوام جیسے اللہ لوک بندے پوری دنیا میں کہیں نہیں ملیں گے۔ہر جگہ عوام ایسی زیادتیوں پر اٹھتے ہیں اور دروبام ہلا کر رکھ دیتے ہیں مگر یہاں تو شاعر بھی یہ کہہ کہہ کر تھک گئے کہ اُٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو، کاخِ امرا کے درو دیوار ہلا دو، لیکن زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق پاکستانی عوام نے جاگنا تھانہ جاگے ہیں۔ البتہ رونا دھونا سنو تو آہیں عرش تک جاتی محسوس ہوتی ہیں۔مردِ ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر۔ دوسری طرف بالادستوں پر بھی عوام کی چیخ و پکار اور دھاڑوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کے ساتھ ہمیشہ ہاتھ کیاجاتا ہے اور انہیں دولے شاہ کے چوہے سمجھ کر کوئی نہ کوئی نئی واردات ڈال دی جاتی ہے ۔جونہی وزیراعظم شہبازشریف بجلی بلوں سے 35روپے ٹی وی فیس ختم کرتے ہیں اس کی آڑ میں ایک ہزار روپے فکس چارجز کی مد میں لگا دیئے جاتے ہیں۔ یعنی 35کے بدلے ایک ہزار، واہ جی واہ کیسا ہے منافع بخش کاروبار۔ 90فیصد عوام کو بجلی کے ٹیرف سے پہلے ہی ذہنی مریض بنا دیا گیا ہے۔ ان کی زندگی اب اس خوف کی حالت میں گزر رہی ہے کہ کہیں بجلی کے یونٹ 200سے اوپر نہ چلے جائیں۔
ہمارے صحافی دوست میاں غفار نے کہا ہے کسی دور میں لگان وصول کیاجاتا تھا لیکن اسلامی ریاست میں لگان وصولی کی پہلی مثال پاکستان میں قائم کی گئی۔ ان کا کہنا ہے مسلمان حکمرانوں کی طرف سے لگان غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا تھا اور جو غیر مسلم لگان نہیں دے سکتے تھے، ان کے ساتھ رعایت بھی کی جاتی تھی۔ اب بجلی کے ٹیرف بنا کر، ہر چیز پر ٹیکس لگا کر جو لگان وصول کیا جا رہا ہے، اس میں تو کوئی رعایت بھی نہیں، کوئی دے سکتا ہے تو دے وگرنہ عالم بالا کی راہ لے۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سے ادوار دیکھے ہیں۔ جمہوریت والے بھی اور آمریت والے بھی، لیکن ایسی لاتعلقی کسی دور میں نہیں دیکھی جیسی موجودہ دور میں مقتدر طبقوں نے اختیار کررکھی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا تو یہ کہا گیا اب عوام کی کہیں شنوائی نہیں ہوگی۔ جمہوریت کا دور چلا گیا، مگر اس دور میں ایسی اندھیر نگری نہیں تھی جیسی آج ہے۔ ضیا الحق کو ارکان اسمبلی کی ضرورت نہیں تھی لیکن پھر بھی انہوں نے مجلس شوریٰ بنائی، مگر ایسا نہیں کیا کہ مجلس شوریٰ کے ارکان کے لئے تنخواہوں کی مد میں خزانے کے منہ کھول دیئے۔ ان کی تنخواہیں یا اعزازیے بھی اسی تناسب سے تھے، جس تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تھیں۔ پرویز مشرف کا دور آیا تو اس میں بھی اس تفاوت کو بڑھنے نہیں دیا گیا۔ غالباً اس کے پیچھے فلسفہ یہ تھا کہ عام آدمی کے مقابلے میں ارکان اسمبلی اور وزرا کو بہت زیادہ نوازا گیا تو ایک نفرت جنم لے گی۔ یہ واحد دور ہے کہ جس میں دو طرفہ چھری چلائی گئی ہے اور دونوں طرف سے سرکاری ملازمین ہی کو ذبح کیا گیا ہے۔
یہ باتیں بجٹ میں سامنے آ چکی ہیں کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں صرف دس فیصد بڑھائی گئیں، پنشن میں سات فیصد اور پنجاب میں حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پانچ فیصد اضافہ کیا گیا۔ ملازمین نے احتجاج کیا، ڈسپیریٹی الاؤنس اور پنشن و تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کئے گئے مگر کسی نے نہ سنی۔ بس یہی بہانا سامنے آتا رہا کہ آئی ایم ایف نہیں مان رہا۔ یہ بھی ایک چال ہے کہ گالیوں کا رخ آئی ایم ایف کی طرف ہو جائے۔ یہ آئی ایم ایف ارکان اسمبلی اور وزرا کی تنخواہیں چھ سو فیصد تک بڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں کرتا، مگر سرکاری ملازمین کو10فیصد دیتے ہوئے بھی دہاڑیں مارتا ہے۔ یہ تو پھپھے کٹنی والی عادت ہے۔ اسی عالم میں دو روز پہلے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ارکان اسمبلی چھٹیاں بھی کریں گے تو ان کی مالی مراعات جاری رہیں گی، پوری تنخواہ ٹھوک بجا کے ملے گی۔ کیا اس سے زیادہ عوام اور سرکاری ملازمین سے لاتعلقی اور بے نیازی ہو سکتی ہے کہ انہیں ہر مطالبے پر ٹھینگا دکھایا جا رہا ہے اور اپنی تنخواہیں اور مراعات مال مفت دل بے رحم کی طرح بڑھائی جا رہی ہیں۔
مجھے تو یوں لگتا ہے ملک چلانے والوں نے یہ سوچ لیا ہے اب جس نظام نے چلنا ہے اس میں عوام کی کوئی ضرورت ہے اور نہ اہمیت، یہ بک بک جھک جھک اب لمبے عرصے کے لئے ختم کر دی گئی ہے۔ کیا فیصلے ہو رہے کیا ہونے جا رہے ہیں، اس کا تو راز آنے والے دنوں میں کھلے گا، مگر جس طرح عوامی مسائل سے پہلو تہی برتی جا رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے اب کسی کو یہ فکر نہیں عوام کیاکہیں گے، کیا سوچیں گے۔عوام کے پاس ہوتا ہی کیا تھا، ایک ووٹ کی پرچی، اب اس پرچی کا بھرم بھی بیچ چوراہے میں کھل گیا تھا۔ جو پیا من بھائے گا وہی مراد پائے گا۔ عوام چیخ و پکار کررہے ہیں، ان کی طرف توجہ دینے کی بجائے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے پھر کوئی ایسا فیصلہ کر دیا جاتا ہے جس سے لگتا ہے نظام بے حس ہو گیا ہے۔
دنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی تھیں اور توقع کی جا رہی تھی پاکستان میں بھی کم ہوں گی مگر بڑھا دی گئیں۔ اب کرائے بڑھ گئے ہیں، باربرادری کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے، مہنگائی کے مارے عوام مزید پریشان ہو گئے ہیں لیکن اب تو انہیں دلاسہ دینے والا بھی کوئی نہیں۔ روزانہ یہ بیان جاری ہوتا ہے کہ معیشت مضبوط ہو گئی ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے، عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے اور ملک معاشی استحکام کی منزل سے بھی تھوڑا ہی دور رہ گیا ہے۔ نجانے ہمارے حاکمان وقت کس یوٹو پیامیں رہ رہے ہیں۔ ذرا اس سے باہر نکلیں تو انہیں معلوم ہو کہ عام آدمی کس حال تک پہنچ گیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)