ٹیکساس میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 27 لاپتا لڑکیوں کی تلاش جاری
امریکا میں وسطی ٹیکساس میں شدید طوفانی بارشوں کے بعد آنے والے اچانک سیلاب سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ درجنوں کی تلاش جاری ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی پورٹ کے مطابق مقامی حکام نے ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے کیونکہ متاثرہ علاقہ صرف کیر کاؤنٹی تک محدود نہیں بلکہ اس کے اطراف کے علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ٹریوس کاؤنٹی میں بھی 4 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 13 لاپتہ ہیں۔ جب کہ کینڈل کاؤنٹی میں بھی ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ کچھ خبروں میں ہلاکتوں کی تعداد 52 تک بتائی جا رہی ہے تاہم رائٹرز نے اس کی تصدیق نہیں کی۔
خبر رساں اے ایف پی کے مطابق سیلاب سے تباہ حال علاقے کے شیرف لیری لیتھا نے کہا کہ ہم نے کیر کاؤنٹی سے 43 افراد کی لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں 28 بالغ اور 15 بچے شامل ہیں۔ دیگر اضلاع میں بھی متعدد لاشیں ملی ہیں جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 50 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق 850 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا جن میں کچھ درختوں سے چمٹے ہوئے تھے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب جمعے کی صبح اچانک آنے والی شدید بارش نے گواڈیلوپ دریا کے آس پاس کے علاقے میں 15 انچ (تقریباً 38 سینٹی میٹر) تک بارش ہوئی جو کہ سالانہ اوسط کا تقریباً نصف ہے۔ اس طوفان کے دوران دریا کی سطح 29 فٹ (9 میٹر) تک بلند ہو گئی۔
کیرویل شہر کے منتظم ڈالٹن رائس کے مطابق کیمپ مسٹک نامی لڑکیوں کے سمرکیمپ سے 27 لڑکیاں لاپتہ ہیں۔ کیمپ میں اُس وقت 700 لڑکیاں موجود تھیں۔ رائس کا کہنا ہے کہ “فی الحال صرف 27 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہے لیکن اصل تعداد کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ کیمپ کی ایک رہائشی عمارت میں کیچڑ کے نشانات 6 فٹ بلند تک نظر آئے۔ اور بستر، گدے اور دیگر اشیا کیچڑ سے اٹی پڑی تھیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ میلانیہ متاثرین کے لیے دعاگو ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ہمارے بہادر ریسکیو اہلکار موقع پر موجود ہیں اور اپنا فرض بخوبی انجام دے رہے ہیں‘۔ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے وفاقی ایمرجنسی کا اعلان کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ متاثرین کے لیے وفاقی امداد فراہم کی جا سکے۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم نے کہا کہ ٹرمپ یہ درخواست منظور کریں گے۔