غزہ میں مزید 32 فلسطینی شہید، مغربی کنارے میں 2 مہاجر کیمپ مسمار

  • اتوار 06 / جولائی / 2025

غزہ میں بھوکے پیاسے فلسطینینوں پر صہیونی فوج کے مظالم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، صبح سے جاری اسرائیلی حملوں میں کم ازکم 32 فلسطینی شہید ہوگئے۔ دوسری جانب مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں اسرائیلی بلڈوزروں نے 2 مہاجر کیمپوں کو منہدم کردیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ بھر میں آج اسرائیلی حملوں میں کم از کم 32 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں ایک شخص طُفّاح کے علاقے میں ایک گھر پر حملے کے دوران شہید ہوا جب کہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔ یہ علاقہ غزہ شہر کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

خان یونس کے مغربی علاقے المواسی میں ایک خیمے پر حملے میں 2 افراد شہید ہوئے جب کہ اسی علاقے میں خیموں پرکیے گئے دیگر حملوں میں 3 افراد شہید ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ شہر کے شمال میں واقع شیخ رضوان کے علاقے میں 9 افراد شہید ہوئے۔ اسی علاقے میں ایک گھر پر حملے کے نتیجے میں 12 افراد شہید ہوئے جب کہ کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

الجزیرہ عربی کے مطابق نصر ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ خان یونس کے مغرب میں غزہ کے جنوبی حصے میں ایک خیمے پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 4 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔

ادھر مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں منظرنامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ جہاں اسرائیلی فوج کے بلڈوزرز نے 2 مہاجر کیمپوں کو روند ڈالا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق صہیونی فوج نے اس کارروائی کو ’حماس کی تلاش‘ کا نام دیا ہے۔ صہیونی فوج نے ہزاروں بے گھر رہائشیوں کو صرف چند گھنٹے دیے تاکہ وہ اپنے گھروں سے ضروری سامان نکال سکیں۔ اس کے بعد عمارتیں گرا دی گئیں اور ملبے کے درمیان سے چوڑی گزرگاہیں بنائی گئیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس ہفتے طولکرم کیمپ میں مزید 104 عمارتیں مسمار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں نسل کشی اور قبضے کے جرائم کو روکنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی اقدام کی اشد ضرورت ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض آبادکار ملیشیاؤں کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے تاکہ وہ مزید فلسطینی زمین پر قبضہ کر کے غیر قانونی بستیاں قائم کریں اور اس کی مکمل ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

وزارت نے خبردار کیا ہے کہ قابض حکومت اور اس کی آبادکار ملیشیا مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کو بڑھا رہی ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر نوآبادیاتی بستیوں کی تعمیر اور شہریوں کے گھروں کی مسماری شامل ہے۔