ویسٹ منسٹر ہاؤس میں چند گھنٹے (2)
- تحریر محمد طارق
- اتوار 06 / جولائی / 2025
برطانوی پارلیمنٹ کو جمہوریت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے دنیا بھر میں پارلیمانی نظام حکومت کی تشکیل اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ نظام، جسے ویسٹ منسٹر سسٹم بھی کہا جاتا ہے، برطانیہ کی پارلیمنٹ سے ماخوذ ہے اور اس کی تقلید دیگر کئی ممالک نے کی ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ ایک دو ایوانی مقننہ ہے، جس میں ہاؤس آف کامنز (ایوان زیریں) اور ہاؤس آف لارڈز (ایوان بالا) شامل ہیں۔ ہاؤس آف کامنز کے ارکان کا انتخاب براہ راست انتخابات کے ذریعے ہوتا ہے جو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ہاوس آف کامنز میں اسمبلی ارکان کی تعداد 650 ہے۔ ہر رکن برطانیہ کے ایک حلقے (constituency) کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہاؤس آف لارڈز ایک غیر منتخب ایوان ہے اور اس میں مختلف اقسام کے ارکان شامل ہوتے ہیں:
لائف پیئرز: (Life Peers) جو زندگی بھر کے لیے نامزد کیے جاتے ہیں۔
وراثتی لارڈز: (Hereditary Peers) جنہیں وراثت کے ذریعے حقِ رکنیت ملتا ہے (اب صرف محدود تعداد میں)۔
بشپس: چرچ آف انگلینڈ کے سینیئر مذہبی رہنما۔
ہاؤس آف لارڈز کے اراکین کی تعداد 780 سے زیادہ ہے۔ یہ تعداد وقت کے ساتھ تھوڑی بہت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ یہ منتخب نہیں ہوتے بلکہ نامزد کیے جاتے ہیں۔ قانون سازی کے عمل میں دونوں ایوانوں کا کردار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم اور کابینہ ہاؤس آف کامنز سے منتخب ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔
برطانیہ میں جمہوریت کی ترقی، ریاستی انتظامی ڈھانچہ کی ترقی میں برطانوی پارلیمنٹ یعنی ویسٹ منسٹر کے کردار کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:
برطانوی پارلیمنٹ نے دنیا کو پارلیمانی جمہوریت کا تصور دیا اور اس کی عملی شکل پیش کی۔
پارلیمنٹ قانون سازی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس کے ذریعے عوام کی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہاؤس آف کامنز کے ذریعے عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں جو ان کی جانب سے پارلیمنٹ میں مسائل و مطالبے پیش کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھتی ہے اور اسے جوابدہ ٹھہراتی ہے۔
برطانیہ میں آئینی ترقی میں پارلیمنٹ کا اہم کردار رہا ہے ، جس سے جمہوریت مضبوط ہوئی اور اجتماعی فیصلہ سازی میں عوام کی شرکت بڑھی۔۔