یزید کی بیعت، امام حسینؓ اور کربلا

کچھ باتیں سینکڑوں برس گزر جانے کے باوجود بھی پرانی نہیں ہوتیں۔ کربلا کا قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ واقعہ کربلا حضرت عثمانؓ کی شہادت سے شروع ہوا۔ حضرت علی ؓ چوتھے خلیفہ بن گئے مگر امیر معاویہ نے اُن کی خلافت کو قبول نہیں کیا اور قاتلین عثمانؓ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

حضرت علیؓ کا دورِ خلافت، گو کہ مختصر تھا، مگر انہیں نے نہایت کامیابی سے خارجیوں کا قلع قمع کیا اور حکومتی رِٹ مضبوط کی۔ اُن کی شہادت کے بعد امیر معاویہ کے لیے اموی خلافت قائم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے مختلف سٹریٹیجک اقدامات کیے اور چھوٹے انتظامی یونٹوں کو بڑے یونٹوں میں ضم کیا۔ مثال کے طور پر، مدینہ، مکہ، اور طائف کو ایک ہی گورنر کے تحت ’ون یونٹ‘ بنا دیا تاکہ اُن طاقتور شخصیات کو بھی بے اثر کیا جا سکے جو اُن کے اختیار کو چیلنج کر سکتے تھے۔

یہی نہیں بلکہ انہوں نے ایک وفادار اور اچھی تنخواہ والی شامی فوج برقرار رکھی جو اُن کے احکامات کو نافذ کرنے کے لیے پروفیشنل آرمی کی طرح کام کرتی تھی۔ یہ حکمت عملی اُن کے پیشروؤں کے برعکس تھی جو زیادہ تر مذہبی اتھارٹی پر انحصار کرتے تھے۔ امیر معاویہ نے صوبائی دارالحکومتوں میں ایک اچھی تربیت یافتہ پولیس فورس یعنی اُس وقت کی ایف ایس ایف، بھی قائم کی اور اندرونی اور بیرونی خطرات کی نگرانی کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیاں منظم کیں۔

اہم حکومتی تقرریوں کے لیے واحد اہلیت خلیفہ سے غیر متزلزل وفاداری ٹھہری نہ کہ تقویٰ یا اخلاص۔ انہوں نے یہ تصور بھی متعارف کروایا کہ حکمرانوں کا انتخاب براہ راست اللہ کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کے تقویٰ یا رسول اللہﷺ کے خاندان سے اُس کی قربت سے قطع نظر خلیفہ کی اطاعت کریں۔ امیر معاویہ کا سب سے متنازع فیصلہ اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنا تھا۔ یہ اقدام براہ راست قائم شدہ شورائی روایت کے خلاف تھا اور امام حسنؓ کے ساتھ کیے گئے ایک معاہدے کی خلاف ورزی تھی، اِس عمل نے اسلامی خلافت کو ایک موروثی بادشاہت میں تبدیل کر دیا۔

یزید نے رجب 60 ہجری میں 33 سال کی عمر میں اقتدار سنبھالا۔ وہ پہلا حکمران تھا جس نے ذاتی طور پر محمد ﷺ کو نہیں دیکھا تھا۔ امیر معاویہ نے یزید کی امیج بلڈنگ کی کافی کوشش کی لیکن اِس کے باوجود مدینہ میں امام حسینؑ، عبداللہ ابن زبیرؓ اور عبداللہ ابن عمرؓ جیسی با اثر شخصیات کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اِن حضرات نے یزید کی بیعت کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔ امیر معاویہ اِس اختلاف سے بخوبی واقف تھے لہذا انہوں نے یزید کو امام حسینؓ کے ساتھ احتیاط برتنے اور ان کا خون نہ بہانے کی تاکید کی۔

امیر معاویہ نے اپنی موت سے پہلے، یزید کو امام حسینؓ اور ابنِ زبیرؓ سے ممکنہ چیلنجوں کے بارے میں واضح طور پر خبردار کیا تھا۔ اگرچہ امیر معاویہ کا امام حسینؓ کا خون نہ بہانے کی ’احتیاط‘ سیاسی مشورہ تھا لیکن بیعت حاصل کرنے کی ضرورت بالآخر اس احتیاط پر غالب آ گئی۔ یزید نے پیغمبرﷺ کے خاندان کی حرمت پر اپنی ناجائز خلافت کو ترجیح دی۔ ناجائز خلافت اِس لیے کہ امیر معاویہ نے یزید کو محض اپنا جانشین مقرر کیا تھا، گویا آج کے تناظر میں یوں کہہ لیں کہ ایک جماعت کا امیدوار وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد ہوا تھا۔ اسے ابھی قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا تھا مگر ووٹ لینے سے پہلے ہی اُس نے یہ طے کر لیا کہ وہ خلیفہ ہے اور جو شخص اُس کی اطاعت نہیں کرتا وہ ریاست کا باغی ہے۔

ابن الجوزی جیسے علما نے یزید کی قانونی حیثیت کو سختی سے مسترد کیا ہے اور اسے ایک غاصب قرار دیا ہے۔ اُن کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ یزید کے معاملے میں ایک ’قانونی طور پر منعقدہ بیعت‘ کبھی ہوئی ہی نہیں جس میں ’اصحابِ حل و عقد‘ (امت کے سیاسی نمائندوں ) کی اکثریت کی آزادانہ مرضی اور رضامندی شامل ہو۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ یزید کے ہاتھ پر کی گئی بیعت جبری تھی، اُس کی بیعت میں طاقت کے بڑے مراکز، جیسے شام (دمشق) ، عراق (کوفہ اور بصرہ) اور حجاز (مکہ اور مدینہ) کی سرکردہ شخصیات شامل نہیں تھیں۔ یزید نے اُن تمام اہم شخصیات سے بیعت کا مطالبہ کیا جنہوں نے اُس کے والد کی بیعت نہیں کی تھی، جن میں امام حسینؓ، عبداللہ ابنِ زبیرؓ اور عبداللہ ابنِ عمرؓ شامل تھے۔ نواسہ رسولﷺ نے غیر مشروط طور پر بیعت دینے سے انکار کر دیا۔ اُس کے بعد جو کچھ ہوا اُس نے اسلامی تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا۔

امام حسینؓ اور اُن کا مختصر سا قافلہ دو محرم کو کربلا کے ویران میدانوں میں پہنچا اور اپنا کیمپ قائم کیا۔ اگلے ہی دن، عمر ابن سعد کی قیادت میں تقریباً 4000 افراد پر مشتمل کوفی فوج وہاں پہنچی۔ عمر ابن سعد، شروع میں رسول اللہ ﷺ کے نواسے کے ساتھ لڑائی کرنے سے ہچکچا رہا تھا لیکن بالآخر اسے ابنِ زیاد کے احکامات کی تعمیل کرنی پڑی۔ ابنِ زیاد نے عمر ابنِ سعد کو ایک حتمی حکم دیا کہ امام حسینؓ کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنا چاہیے اور یزید کی بیعت کرنی چاہیے، یا جنگ کا سامنا کرنا چاہیے۔ ابنِ زیاد نے واضح طور پر کہا کہ اگر عمر ابن سعد لڑنے کے لیے تیار نہیں تو وہ فوج کی کمان شمر کے حوالے کر دے۔

دوسری طرف امام حسینؓ نے یزید کی بیعت کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا اور یہ اعلان کیا کہ وہ ظلم کے سامنے سر جھکانے اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے موت کو ترجیح دیں گے۔ یہ وہ ڈیڈ لاک تھا جس کے بعد کربلا کی ’جنگ‘ نا گزیر ہو گئی۔ یزید کی فوج نے ایک ایک کر کے امام حسینؓ کے ساتھیوں کو شہید کرنا شروع کیا۔ بالآخر، امام حسینؓ میدان میں اکیلے رہ گئے، اور نہایت بے جگری سے لڑے۔ طبری نے لکھا ہے کہ کوئی اُن پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر رہا تھا لیکن جب شمر اپنے جنگجوؤں پر غرّایا تو پھر بدبخت سنآن بن انس النخعی نے آگے بڑھ کر امام حسینؓ کا سر تن سے جدا کیا۔

لڑائی کے فوراً بعد عمر ابن سعد نے امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے کاٹے ہوئے سروں اور پامال شدہ اجسام کو میدان جنگ میں بغیر غسل، کفن اور دفن کیے چھوڑ دیا۔ امام حسینؓ کے جسم گھوڑوں کے سموں تلے کچلا گیا اور اُن کے اور دیگر شہدا کے سروں کو نیزوں پر اٹھا کر اور گھوڑوں کی گردنوں پر لٹکا کر ایک خوفناک عوامی فتح کا مظاہرہ کیا گیا۔ امام حسینؓ کا سر پہلے کوفہ میں عبید اللہ ابن زیاد کے پاس بھیجا گیا اور بعد میں دمشق میں یزید کے پاس بھیجا گیا۔ امام حسینؑ کے کیمپ سے بچ جانے والی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ انہیں زبردستی ان کے زیورات اور پردے چھین لیے گئے اور انہیں ننگے سر اونٹوں پر سفر کرنے پر مجبور کیا گیا اور سختی سے ہنکایا گیا جیسے وہ غلام ہوں۔ قیدیوں کو پہلے کربلا کے میدان جنگ سے گزارا گیا۔ جہاں خواتین نے اپنے پیاروں کے کٹے ہوئے جسموں کو دیکھ کر دردناک چیخیں ماریں۔ وہ محرم کی گیارہویں رات کو کوفہ کے مضافات میں پہنچے اور بارہ محرم کو شہر میں داخل ہوئے۔

بلاشبہ کچھ باتیں سینکڑوں برس گزر جانے کے باوجود بھی پرانی نہیں ہوتیں۔ کیا کربلا کا قصہ بھی ایسا ہی نہیں؟

(بشکریہ: ہم سب لاہور)