ایران پر سے مناسب وقت پرپابندیاں ہٹا لی جائیں گی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کیا جا رہا ہے اور وہ ’مناسب وقت‘ پر ایران پر عائد پابندیاں ہٹانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکہ سے کسی ملاقات کی درخواست نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ عشائیے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شام پر امریکی پابندیاں ہٹانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ مستقبل میں ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر شام پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں اور کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ زدہ ملک دوبارہ عالمی معیشت کا حصہ بنے۔
ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو ٹرمپ نے ’بہت سخت‘ قرار دیا اور کہا ’میں چاہوں گا کہ مناسب وقت پر یہ پابندیاں ہٹا سکوں تاکہ ایران کو دوبارہ تعمیرِنو کا موقع ملے۔ میں چاہتا ہوں کہ ایران ’امریکہ مردہ باد‘ یا ’اسرائیل مردہ باد‘ جیسے نعروں کے بغیر پرامن طریقے سے اپنی تعمیرِنو کرے۔
اس موقع پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے بہت اچھی بات چیت جاری ہے۔ انہیں غزہ میں جنگ روکنے میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے قیام کے لیے ان کی کوششیں جاری ہیں۔
اس موقع پر اسرائیل کے وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے اور امن کمیٹی کا ارسال کیا گیا خط بھی صدر کو پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت امن قائم کر رہے ہیں، ایک ملک میں، ایک علاقے کے بعد دوسرے علاقے میں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حماس غزہ میں 21 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے۔ ’وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں اور وہ جنگ بندی کے حق میں ہیں۔‘ خیال رہے کہ یہ ملاقات قطر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کے لیے بالواسطہ طور پر ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دور کے بعد ہوئی ہے جو کہ بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوا تھا۔ تاہم ان مذاکرات کے رواں ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے۔
صدر ٹرمپ سے ایک صحافی نے پوچھا کہ غزہ میں امن معاہدے میں کیا چیز رکاوٹ بن رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ کوئی رکاوٹ موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ معاملات بہت اچھی طرح چل رہے ہیں۔‘ دونوں رہنماؤں نے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں پوچھا گیا تو امریکی صدر نے کہا کہ انہیں اسرائیل کے ہمسایہ ممالک سے تعاون حاصل ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ مل کر ایسے ممالک تلاش کر رہا ہے جو ’فلسطینیوں کو ایک بہتر مستقبل دیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگ رہنا چاہتے ہیں تو وہ رہ سکتے ہیں، لیکن اگر وہ چھوڑنا چاہتے ہیں تو انہیں چھوڑنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘
اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں پیر کی رات ہونے والے عشائیے میں صرف امریکہ اور اسرائیل کے رہنما ہی شرکت کرنے والے تھے لیکن مذاکرات کی میز کے دونوں جانب سینئر امریکی اور اسرائیلی حکام بیٹھے تھے جن میں مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل تھے۔ مسٹر وٹکوف نے اجلاس میں کہا کہ ایرانی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات اگلے ہفتے کے اندر شروع ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ تہران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو اس وقت تک بامعنی اور ممکن نہیں سمجھتا جب تک کہ اسے یقین نہیں کرایا جاتا کہ امریکہ کی طرف سے مزید کوئی فوجی حملہ نہیں کیا جائے گا۔