ناروے میں ماضی کی مفلسی پر فخر کی نشانیاں

ناروے اس وقت دنیا کے امیر ترین ممالک میں شامل ہونے کے ساتھ ایک ایسے فلاحی نظام کا حامل ہے، کئی معاشرے جس کی تقلید کرنے کی حسرت رکھتے ہیں۔  

ناروے میں طویل قیام اور اس کی تاریخ کا مطالعہ کے ساتھ روزمرہ کی زندگی کے تجربات اس قوم پہ رشک کا موجب بنتے ہیں۔ یہ رشک ناروے والوں کے طور و اطوار کا باقی دنیا سے تقابل کرنے پہ مزید تقویت پاتا ہے۔ ناروے کے اندر اور نارویجن لوگوں میں جو ایک چیز انتہائی منفرد اور قابل قدر دکھائی دیتی ہے، وہ آج سے چند صدیاں پہلے غریب ملک ہونے کی اپنی تاریخ کو واضح اور عیاں رکھناہے۔ ناروے والوں کی یہ ادا ہر بار اس وقت بہت حیران کرتی ہے جب آپ کو دوسرے ممالک کے باشندوں اور خاص کر مسلمانوں کو یہ کہتے سننا پڑتا ہے کہ ہمارا ماضی بڑا شاندار اور دوسرے معاشروں سے ممتاز تھا۔ اور یہ کہ ہماری سلطنتیں اتنی امیر تھیں۔ یہ بات بلکل درست ہو سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ شاندار ماضی کب تک موجودہ زبوں حالی کا عذر بنا رہے گا۔ اور ایسے فخریہ دعویٰ پہ یہ کیوں نہیں سوچا جاتا کہ یہ مقام سرفرازی نہیں، مقام ندامت ہے۔ یہ عروج سے زوال کے سفر کی روداد ہے، جسے سنانا خود توہینی ہے جس میں کوہتایاں اور ناکامیاں مضمر ہیں۔ جنہیں دور کرنے کی فکر درکار ہے۔

جبکہ ناروے والوں کا اپنے ماضی کی غربت کو عیاں کرنے اور اس کے نشانات کو محفوظ رکھنے میں زوال سے عروج اور مفلسی سے ثروت کی جانب ظفریابی کی داستان ہے جس میں فخر پنہاں ہے۔ اور اس میں یہ منطق نظر آتی ہے کہ نئی نسلوں کو یہ آگاہی رہے کہ آج کی خوشحالی کوئی مفت یا خیرات کا حصہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد اور آباواجداد کی مشقت اور محنت کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ جو انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے دیں۔ اپنے مفلسانہ ماضی سے پردہ ہٹا کر اس سے نجات کی جدوجہد کو آشکار کرنے کا مقصد اس کی بقا کو یقینی بنانے کے عزم کو جاوید بنانا ہے۔

اگر آپ ناروے کے حالیہ بڑے بڑے کامیاب قائدین یا اُمرا کی سوانح عمریاں پڑھیں تو وہ ان میں حقیقت پر مبنی اپنے آباواجداد کی کسمپرسی اور افلاس میں گزری زندگی کا بلاجھجک ذکر کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کو تحسین پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں موجودہ نظام معرض وجود میں آیا اور جس کی بدولت آج وہ خوشحال ترین معاشرے کے باشندے ہیں۔ اسی طرح نارویجن تاریخ کی ورق گردانی پہ بھی آپ کو ان چیزوں کا ذکر ملے گا اور یہی ناروے کے عجائب گھروں کی بھی حالت ہے جہاں پر تاریخ کی روشنی میں باشندوں کی ہر دور کی زندگی کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ اور قدم با قدم ترقی کی منازل طے کرنے کے واقعات کو مختلف زاویوں سے پیش کیا جاتا ہے۔

اسی طرح اگر ناروے کے شہروں کو دیکھیں تو ان میں ہر شہر  نے اپنی ان قدیم آبادیوں کو بھی محفوظ کر رکھا ہے جو زمانہ مفلسی میں طبقاتی بنیادوں پر آباد ہوئیں جو محنت کشوں اور کم مراعات یافتہ طبقوں کا مسکن ہوتی تھیں۔ اور جن سے اُمرا طبقہ دور بھاگتا تھا ۔ اوسلو میں یہ پرانی آبادیاں شہر کے شرق میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن وقت کے ساتھ یہ شہر کے مرکز میں بدل چکی ہیں۔ اوسلو شہر کے انتہائی وسط میں ان پرانی  خستہ حال عمارتوں کو نئے دور کے پراپرٹی ڈیلروں کی ہوس سے بچا کر جوں کا توں محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ علاقے اس وقت جدید رہائشی تعمیرات کے لیے بہت پُرکشش محل وقوع کی حامل ہیں، جہاں پراپرٹی ڈیلر انہیں مسمار کر کے نئی اور عالیشان تعمیرات کر کے پیسہ کمانے کے خواہشمند تھے۔ لیکن ان علاقوں کی پرانی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں پرانے تعمیراتی ڈھانچے کے ساتھ ہی مستقل تحفظ دے دیا گیا ہے ۔

اس وقت اوسلو میں کم از کم چھ علاقے ایسے ہیں جو کئی ہزار ایکڑ پر محیط ہیں اور جو اوسلو شہر کے دل میں واقع ہیں۔ ان علاقوں میں آپ جائیں تو آپ ان مکانوں کی ساخت دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ نہ تو وہ کوئی عالیشان اور نمائش و نمود کی چمک رکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی بڑے بڑے رہائشی گھر ہیں بلکہ ان میں سے اکثر تو ایک منزلہ چھوٹے چھوٹے گھروں پر مشتمل ہیں۔ نہ ان کے کوئی بڑے صحن ہیں بلکہ بیشتر تو گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ سے بھی محروم ہیں۔ یہ مکان جدید تعمیراتی دھاک سے خالی دکھائی دیتے ہیں لیکن آپ ان مکانوں کے مکینوں کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ ان قدیم سادہ مکانوں کے مکین انتہائی متمول باشندے ہیں اور اکثر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ ان کی یہاں رہائش رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کے آبا واجداد بحثیت محنت کش اپنے زمانہ کسمپرسی میں یہاں رہتے تھے۔ لہذا ان کی نئی نسلیں اپنے اجداد کی جدوجہد کی فتحیابی کو داد دینے کے لیے ان علاقوں میں رہتی ہیں۔ یہ لوگ غربت کی پہچان رکھنے والے علاقوں کو متمول علاقوں میں بدل کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہمارے اجداد نے اگر فاقہ کشی میں رہتے ہوئے خوشحال معاشرے کی داغ بیل ڈالی ہے تو ہم نے ان کے خستہ حال آشیانوں کو متمول مسکن بنا کر معتبر بنا دیاہے۔ ایک وقت میں جہاں درودیوار مفلسی کی محرومیوں کا تماشہ دیکھتے تھے، وہاں آج وہی درودیوار آسودگی اور ثروت کی مسرتوں کے گواہ ہیں۔

 یہ ایک طرح سے اس معاشرے کا انقلابی انتقام ہے، جس نے امیر اور غریب کے پیمانے پر شہر کو تقسیم کر رکھا تھا۔ اس میں یہ درس بھی ہے کہ گزرا ہوا زمانہ نئی نسل کے مستقبل کی مشعل راہ ہوتا ہے، جس کی روشنی میں وہ آگے بڑھتی ہے۔ ان علاقوں کو اپنی قدیم اصل حالت میں برقرار رکھنے کا مقصد ان کٹھن راستوں کے نشان محفوظ کرنا ہے جن پر چل کر ترقی ممکن ہوئی۔ یہ قوم کی اجتماعی یاداشت ہوتی ہے جسے کھونے سے نئی نسلیں راستے سے بھٹک جاتی ہیں اور منزل نظروں سے اوجھل ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر نارویجن لوگوں کے رہن سہن اور روزمرہ کی زندگی کا جائزہ لیں اور ان کی تاریخ سے وابستگی کو دیکھیں تو باآسانی سمجھ آتی ہے کہ ناروے میں کفایت شعاری اور سادگی کا کیوں رواج ہے۔ بلکہ سادگی اور کفایت شعاری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اور ریا کاری سے بے غرضی برتی جاتی ہے۔

شاید یہی اس قوم کی خوشحالی کا راز بھی ہو کیونکہ اس کے برعکس دیکھیں تو ہم پاکستانیوں کے اندر اس کے بالکل متضاد رویے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جہاں ماضی کے کارناموں پہ حال کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کی جاتی ہے تو وہیں شاندار ماضی کے قصے کہانیوں سے حال کی کسمپرسی سے چشم پوشی کا سامان مہیا ہو رہا ہے۔ نمود و نمائش سے وابستگی اس قدر حاوی ہو چکی ہے کہ دستیاب وسائل سے زیادہ استعمال کر کے اپنے لیے پریشانیوں کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔ جہاں ناروے کے نو خوشحال طبقے اپنے ماضی کی مفلسی کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہیں اُس کے برعکس ہم حال کی بدحالی کو ڈھانپنے کی خاطر نمود و شوکت کا پردہ سجائے پھر تے ہیں۔

ہم سب اکثر یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ جو بھی متوسط طبقے کا بندہ خوشحالی کی طرف بڑھتا ہے تو وہ سب سے پہلے ظاہری سجاوٹ کو اپناتے ہوئے دستیاب وسائل کا بڑا حصہ اس کی نظر کرنے کو ترجیح دیتاہے۔  دوسری ضروریات ثانوی ٹھہرتی ہیں۔ اور شاید یہی ہمارےاجتماعی قومی شعور اورمعاشی تنزلی کی بنیاد ہے۔