کیا شدت پسندی کا تعلق مذہب سے ہوتا ہے؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 08 / جولائی / 2025
پچھلی اڑھائی دہائیوں سے دنیا نے سب سے بڑا بین الاقوامی مسئلہ شدت پسندی کو بنا رکھا ہے اور دانستہ طور پر شدت پسندی کو اسلام کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔
پوری دنیا لاٹھیاں لے کر مسلمانوں کے پیچھے پڑی ہے۔ کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ کیا کسی دین کا شدت پسندی سے کوئی تعلق بھی ہوتا ہے؟ پہلی بات یہ کہ مذہب اور دین بھی دو الگ چیزیں ہیں۔ کیونکہ مذہب کا لفظ تہذیب سے نکلا ہے جسے انگریزی میں کلچر کہتے ہیں اور تہذیب کا تعلق علاقے سے ہوتا ہے یعنی کسی علاقے کے رہن سہن اور پہن کی اپنی تہذیب ہوتی ہے۔ جبکہ دین راستہ ہے، یعنی زندگی گزارنے کا اصول، اسے عقیدہ بھی کہہ سکتے ہیں۔
میرے خیال کے مطابق اور زمینی حقائق بھی اس کی گواہی دیتے ہیں کہ شدت پسندی حالات سے پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کا تعلق علاقائی بھی بن جاتا ہے کیونکہ جس علاقے کے حالات دگرگوں ہوتے ہیں، معیشت خراب ہوتی ہے، انصاف ناپید ہوتا ہے اور جہاں طبقاتی نظام ہوتا ہے، وہاں شدت پیدا ہونا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ جب انصاف نہیں ہوتا، انسانوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں کیا جاتا، انسانوں کے ساتھ مرتبے کے حساب سے سلوک کیا جاتا ہے، کہیں کسی طبقے کے حقوق سلب کر لیے جاتے ہیں تو کہیں کوئی طبقہ دوسروں کے حق پر زبردستی قابض ہو جاتا ہے تو پھر ایسے علاقے میں نفرت انگڑائی لیتی ہے اور نفرت سے شدت کے رویے پھوٹتے ہیں۔
یہاں ایک اور چیز سمجھنا ضروری ہے کہ شدت پسندی اور دہشتگردی کا آپس میں تعلق ضرور ہے لیکن ان کو آپس میں گڈمڈ کرنا درست نہیں ہے۔ دہشتگردی کچھ اور ہے اور شدت پسندی ایک الگ رویہ ہے۔ شدت پسندی کسی معاشرے میں روا رکھے جانے والے ان رویوں کی پیداوار ہوتی ہے جس سے انسانوں کے درمیان تفریق پیدا کی جاتی ہے۔ جبکہ دہشتگردی کے پیچھے انتہا پسندی بھی ہو سکتی ہے لیکن دنیا کی تاریخ میں زیادہ تر دہشت پھیلانے کی وجہ دوسروں کو اپنا غلام بنانا نظر آتی ہے۔ شدت پسند گروہ ہمیشہ چھوٹے ہوتے ہیں جبکہ دہشت پھیلانے والے گروہ بھی ہو سکتے ہیں اور ممالک بھی۔ جیسا کہ اس وقت بھی کئی ممالک کی دنیا پر دہشت ہے اور وہ ممالک گاہے کسی بھی ملک پر اپنی دہشت ڈال کر اسے اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حال ہی میں اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر دہشت ڈالنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔ اور خلیج کے اندر ایران کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اسی طرح ایک موقع پر عراقی صدر نے کویت پر دہشت ڈالنے کی کوشش کی اور پھر اصل دہشت والے ممالک نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی۔ صدر صدام کو معزول کر کے کسی تہہ خانے میں محبوس کر دیا اور آخر اسے پکڑ کر کچھ دیر جیل میں رکھنے کے بعد پھانسی دے دی گئی۔ اس دوران اپنی دہشت کی دھاک بٹھانے کے لیے صدام کی بے بسی دنیا کو دکھائی گئی۔
اب ذرا غور کرنا ہوگا کہ شدت پسندی اور دہشتگردی کی تاریخ کیا ہے اور ان رویوں کا آغاز کس نے کس علاقے سے کیا تھا۔ شدت پسندی کا آغاز دراصل انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی ہو گیا تھا جب آدم کے بیٹے نے شدت کو دہشت میں بدلتے ہوئے اپنے بھائی کا قتل کر دیا تھا۔ لیکن جدید شدت پسندی اور دہشتگردی کا آغاز یورپ سے ہوا، جہاں مختلف ممالک کے مختلف گروہوں نے حکومتوں یا بادشاہوں کی غلط پالیسیوں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ یا کئی علاقوں پر کئی ممالک کے ناجائز قبضوں کے خلاف شدت پیدا ہوئی۔ یورپی ممالک اسپین، فرانس اور آئرلینڈ میں شدت پسند تنظیموں کی تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ ان تنظیموں نے ہتھیار اٹھائے اور اپنی ریاستوں کو للکارا۔ خود کش حملوں کا سلسلہ بھی یورپی ممالک سے شروع ہوا تھا جو بیسویں صدی کے آخری عشرے میں ایک 21 سالہ فلسطینی لڑکی نے آگے بڑھا کر مسلمانوں کے اندر بھی ایسی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور پھر عالمی سیاسی کھلاڑیوں نے سوویت یونین کو توڑنے کے لیے اسلامی جہاد کا جال بنا۔ پاکستان میں ایک ایسے جننرل کے ذریعے مارشل لا لگوایا جو پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے اور خود اس کا امیرالمومنین بننے کا دعویدار تھا۔ اور پھر سعودی تاجر سمیت پاکستان سے نئے طلبہ کی کھیپ تیار کر کے اس کو جال میں پھنسایا۔ جن کے ہاتھوں میں ایک طرف اسلام کا جھنڈا تھمایا تو دوسرے ہاتھ میں امریکی میزائل دے کر افغانستان میں داخل کر دیا۔
سوویت یونین کی پسپائی اور افغان صدر داؤد کی معزولی کے بعد مجاہدین کو یہ مغالطہ لے بیٹھا کہ شاید ہم دنیا کی بڑی طاقت بن چکے ہیں اور بھارت ان کا اگلا شکار ہوگا۔ لیکن جب عالمی کھلاڑیوں کا مقصد پورا ہو گیا تو پھر اوجڑی کیمپ کا سانحہ ہو گیا۔ صدر ضیا کو اڑا دیا گیا۔ اس کے بعد مجاہدین خود نشانے پر آنے لگے۔ پھر جب عالمی کھلاڑیوں نے اپنے بنائے ہوئے مجاہدین کو ختم کرنے کا تہیہ کیا تو پاکستان پر ایک لبرل جنرل کے ذریعے شب خون مارا گیا اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ ایجاد ہو گیا۔
اسی دور میں 9/11 ہو گیا۔ اس کے بعد امریکی صدر سب سے زیادہ شدت پسند ہو گئے اور صدر مشرف کو کال کر کے دو آپشن دیئے کہ یا ہمارا ساتھ دو یا پھر آپ ہمارے دشمن ہو۔ ظاہر ہے کہ امریکہ سے دشمنی تو ہم لے نہیں سکتے تھے۔ پھر پہلا آپش قبول کر لیا۔ اس وقت سے اب تک شدت پسندی اور دہشتگردی کا لیبل مسلمانوں پر لگا ہوا ہے۔ جبکہ اس شدت پسندی اور دہشت گردی کا شکار بھی سب سے زیادہ مسلمان ہی ہو رہے ہیں۔ اب یہ بات ساری دنیا کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ شدت پسندی کا تعلق کسی دین یا مذہب سے نہیں بلکہ ان رویوں سے ہے جو انسانوں کے درمیان ناجائز تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ ان رویوں سے ہے جن کی بدولت طاقتور ممالک کمزور ممالک کی معیشت پر قبضے کر لیتے ہیں۔
شدت پسندی کے پیچھے غربت اور بھوک ہے۔ خوشحال ممالک میں جہاں سب کو بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں وہاں شدت پسندی کا رجحان نہیں ہوتا۔