’ریاست مخالف مواد‘ پر عمران خان، پی ٹی آئی اور متعدد صحافیوں کے یوٹیوب چینل بلاک کرنے کا حکم

  • بدھ 09 / جولائی / 2025

پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی درخواست پر اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان چینلز میں صحافیوں کے علاوہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور  تحریک انصاف کا آفیشل چینل بھی شامل ہے۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یوٹیوب چینل بلاک کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ ’ریاست مخالف مواد کے حوالے سے این سی سی آئی اے نے دو جون کو انکوائری شروع کی تھی۔‘ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگشین ایجنسی کے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد نے متعلقہ حکام کی منظوری سے یہ انکوائری کی۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے کے تحت چلنے والے سائبر کرائم ونگ کو تحلیل کر کے این سی سی آئی اے کی صورت میں ایک نئی ایجنسی قائم کی گئی تھی جو اب سائبر کرائم سے متعلق تحقیقات کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے پیکا ایکٹ 2016 میں متنازع ترامیم بھی متعارف کروائی تھیں۔

این سی سی آئی اے کے مطابق یہ یوٹیوب چینلز ریاستی اداروں کے خلاف جعلی اور گمراہ کن خبریں نشر کرتے ہیں۔ ’ایسی خبروں سے معاشرے اور عوام میں خوف، ہیجان، نقص امن یا بے امنی کا امکان بڑھ جاتا ہے‘۔ این سی سی آئی اے کے مطابق جعلی ریمارکس اور اطلاعات کے ذریعے ریاستی اداروں کے حکام کی رازداری کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ این سی سی آئی اے نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یہ چینلز ریاستی اداروں اور حکام کے خلاف دھمکی آمیز، اشتعال انگیز اور نفرت انگیز مواد پھیلاتے ہیں۔

ان چینلز پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ یہ عام عوام اور مسلح افواج کے اہلکاروں کو ریاستی ستونوں کے خلاف بدنیتی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے انکوائری افسرکو سنا اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لیا اور شواہد کی بنیاد پر عدالت سمجھتی ہے کہ یہ معاملہ پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ یوٹیوب کے متعلقہ حکام کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کیا جائے۔

جن چینلز کو عدالت نے بند کرنے کا حکم دیا، ان میں صحافی مطیع اللہ جان، اسد طور، صدیق جان، حبیب اکرم، ساجد گوندل، رانا عزیر، صبحی کاظمی، آرزو کاظمی، عمران ریاض خان، صابر شاکر، آفتاب اقبال، عبدالقادر، وجاہت سعید خان، احمد نورانی، معید پیرزادہ، مخدوم شہاب الدین، نذر چوہان اور شایان علی کے یوٹیوب چینلز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف اور اوریا مقبول جان کا یوٹیوب چینل بھی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

نیا پاکستان، ریئل انٹرٹینمنٹ ٹی وی، ڈیلی قدرت، چارسدہ جرنلسٹ اور نائلہ پاکستانی ری ایکشن بھی ان چینلز کی فہرست میں شامل ہیں جنہیں عدالت نے بلاک کرنے کا حکم دیا۔

بی بی سی اردو نے ان 27 یوٹیوب چینلز میں سے تین کے مالکان سے بات کی اور ان تینوں نے یہ بتایا ہے کہ عدالت نے انہیں سنے بغیر یہ فیصلہ سنایا۔ ایم جے ٹی وی یوٹیوب چینل کے مطیع اللہ جان نے بتایا کہ ’ہمارا مؤقف سنے بغیر ہی ہمیں سزا سنا دی گئی۔‘ انکوائری کے دوران انھیں کوئی نوٹس نہیں آیا مگر چینل بند کرنے کا حکم آ گیا۔ روزگار بند کرنے والی اتنی بڑی سزا سنانے سے قبل مجھے سن تو لیتے۔ اب کیا چینل بند کرکے لوگوں کو بھوکا ماریں گے۔

سینیئر صحافی حبیب اکرم نے کہا کہ ان کو چینل بند کرنے سے قبل ’نہ کوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی کچھ اور بتایا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ آج کا عدالتی حکمنامہ انہیں کسی نے بھیجا تو انہیں لگا کہ یہ مذاق اور جعلی حکمنامہ ہے۔  اس سارے عمل کے بارے میں ’ہمیں بالکل کسی نہ کچھ نہیں بتایا۔‘

حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہلکے پھلکے انداز میں یوٹیوب چینل چلا رہے تھے مگر جب ’مجھے پہلے آف ایئر کیا گیا تو اس کے بعد سے یوٹیوب میرے روزگار کا بھی ذریعہ ہے اور اظہار کا بھی۔‘ جیب اکرم کے مطابق اس حکمنامے سے انہیں یہ بھی نہیں معلوم ہو سکا کہ آخر ایسی کون سی ویڈیو ہے جس کی بنیاد پر یہ سب ہوا۔

صحافی صدیق جان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے یوٹیوب کی جو ای میل آئی تو اس کے ساتھ ہی یہ حکمنامہ تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ابھی ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔‘ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ غلط ہی سہی مگر عدالت کے ذریعے یہ فیصلہ آیا، کم از کم جبری گمشدگی تو نہیں ہوئی۔

یوٹیوب انتظامیہ کی طرف سے مطیع اللہ جان کو ای میل بھی موصول ہوئی۔ مطیع اللہ جان نے کہا کہ ’میں نے یوٹیوب کو جواب دیا کہ جس کو آپ عدالتی حکمنامہ کہہ رہے ہیں یہ کوئی حتمی آرڈر نہیں۔ یہ سزا یافتہ والا معاملہ نہیں ایک پروسیجرل معاملہ ہے اور اگر انکوائری کی بنیاد پر چینل بند ہوئے تو پھر سب چینل بند ہو جائیں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما ذلفی بخاری کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ عدالت نے اپنی حد سے تجاوز کیا ہے اور اس عدالتی فیصلے میں دنیا بھر میں یہ چینلز بند کرنے کا کہا گیا ہے۔

تجزیہ کار اور صحافی عارفہ نور کے مطابق یہ ایک بری پیشرفت ہے۔ سوشل میڈیا ایکس پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ ’ریاست آزادی اظہار کی پرواہ نہیں کرتی تو اب یہ یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ کون سے چینلز راہ راست پر ہیں۔ اس عدالتی فیصلے سے ان چینلز کی ساکھ کو ٹھیس پہنچے گی جنہیں عوام سننا چاہتے ہیں۔‘ ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم ’بولو بھی‘ کی فریحہ عزیز نے عدالتی فیصلے پر تنقید کی۔ انہوں نے لکھا کہ انڈیا میں اس طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کی طرف سے تعمیل کی گئی اور اس سے دوسروں پر بھی اثر پڑا۔‘ یوٹیوب نے انڈیا میں جو کچھ کیا وہ بالکل مناسب نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس مبہم عدالتی حکم پر کن معیارات کا اطلاق کیا گیا۔

فریحہ عزیز کے مطابق اگر یہ پیکا کے قانون کی خلاف ورزی بھی کی گئی ہے تو بھی حکام اس سے قبل سمن یا ایف آئی آر کا رستہ اختیار کرتے تھے۔  یوٹیوب کو خوب جانچ پڑتال کے بعد یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا یہ حکم نامہ مجاذ اتھارٹی کی طرف سے دیا گیا ہے یا نہیں۔ کیا عدالت ایسا کرنے کی مجاذ بھی تھی یا نہیں۔ کیا یہ حکم نامہ قانونی معیارات پر پورا اترتا ہے۔

ان کی رائے میں انڈیا میں ہونے والی ایسی پابندیوں نے پاکستانی حکام کو بھی یہ راہ دکھائی ہے۔ اس وقت بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں اب صارفین پر اپنے کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔