شہادتِ حسینؑ سے کیا سیکھا؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 10 / جولائی / 2025
ابھی ہم نے بہت سے دیگر ممالک کی طرح ملک بھر میں ”یومِ عاشورہ“ منایا ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ شہادت امام عالی مقامؑ کا یہ دن امن و سلامتی کے ساتھ گزرا ہے۔ ورنہ ماضی میں اس روز کی ایسی ایسی تلخ یادیں ہیں کہ الامان و الحفیظ۔
خودکش حملے اور بم دھماکے ہی نہیں ہوتے رہے، شیعہ سنی فسادات میں کئی شہادتیں بھی وقوع پذیر ہوتی رہی ہیں۔ عاشورۂ محرم الحرام یا شہادتِ حسینؑ کا یہ دن پر امن گزارنے میں ہماری حکومت کا بھی رول یا کریڈٹ ہے جس نے قریہ بہ قریہ اور شہر بہ شہر سیکیورٹی کا حد سے زیادہ وسیع اہتمام کر رکھا تھا۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ پورا محکمۂ پولیس ماتمی جلوسوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اتوار کے روز ڈیوٹی پر تھا۔
درویش کو بچپن سے ہی شیعہ مجالس عزا میں شریک ہونے وہاں علما و ذاکرین کو انہماک سے سننے کا گہرا شغف رہا ہے۔ غلہ منڈی مریدکے میں آڑھتوں کے اوپر ہماری رہائش گاہ کچھ اس طرح تھی کہ فرنٹ پر دیو بندیوں کی مسجد تھی تو ایک سائیڈ پر بریلویوں اور دوسری سائیڈ پر اہلحدیثوں کی مساجد تھیں۔ جبکہ عقبی جانب امام بارگاہ کی دیوار ہماری دیوار سے منسلک تھی جو زیادہ اونچی نہیں تھی۔ جب مجلس شروع ہوتی تو ہم بچہ لوگ دیوار پھلانگ کر دوسری جانب امام باڑہ میں چلے جاتے، کئی مرتبہ گھر والوں کی لعن طعن بھی سننی پڑتی کہ شیعہ کی مجالس میں کیوں جاتے ہو، باقی کزنز تو ڈرجاتے لیکن یہ درویش اپنی دھن کا پکا تھا۔ کبھی دینی ولولے سے پیچھے نہیں ہٹا۔
انہی دنوں کی بات ہے جب اس سوال پر شدت کی دلچسپی پیدا ہوگئی کہ سانحۂ کربلا آخر ہوا کیوں تھا؟ سیدنا حسینؑ اور یزید کی باہم لڑائی کیا تھی؟ اتنا بڑا جھگڑا آخر کس بات پر ہوا تھا؟ اور یہ کیسے کلمہ گو مسلمان تھے جنہوں نے اپنے پیغمبرؐ کی آل اولاد کو یوں بے دردی سے قتل کیا۔ اس طرح تو کوئی سفاک سے سفاک شخص جانوروں کو بھی نہیں کاٹتا جس طرح سانحۂ کربلا میں آلِ محمدؐ اور اولادِ علیؑ کے گلوں کو کاٹا گیا۔ محض چھ ماہ کے فرزندِ حسینؑ مولا علی اصغرؑ کے گلے میں تاک کر تیر مارا گیا جس سے تڑپ کر اس معصوم بچے نے جان دے دی۔ حسینؑ کی بیٹی کے لیے پانی لانے کے جرم میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے دراز قامت بیٹے عباس علمدار کے دونوں بازو کاٹ کر انہیں بے دردی سے قتل کرڈالا گیا۔ سیدہ فاطمہ الزہرہ کے لعل کو کنبے سمیت کس ظلم سے شہید کر دیا گیا۔
ظالمو اپنے پیغمبرؐ کی لاڈلی بیٹی فاطمہؑ کا ہی خیال کرلیتے کہ قصائیوں کی طرح یوں بے دردی سے اس کے جگر گوشے کو بمع اہل و عیال کاٹتے ہوئے گلے پر خنجر چلاتے ہوئے تمہارے ہاتھ کیوں نہیں لرزگئے۔ اے اہلِ ایمان! اے مسلمانو! اے امتیو! تمہارے ضمیر اس قدر مردہ کیوں ہوگئے؟ اے عمرو ابن سعد! تو آج دسویں محرم کو کربلا میں یزیدی لشکر کا سپہ سالار تھا، حسینؑ پر دھاوا بولتے ہوئے تجھے کیوں یہ یاد نہ رہا کہ میں تو عشرہ مبشرہ صحابی رسولؐ حضرت سعد بن ابی وقاص کا بیٹا ہوں جو پیغمبرؐ کے اتنے وفادار تھے کہ انہیں زندگی میں ہی بہشت کی بشارت دی گئی تھی۔ اور تو آج اسی پیغمبرؐ کے لاڈلے نواسے کو کنبے سمیت قتل کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔ کیا اس سے کہیں بہتر نہیں تھا کہ تو ایسی سپہ سالاری پر تین حروف بھیجتے ہوئے جرنیلی عہدے کو ٹھوکر ماردیتا یا عبیداللہ ابنِ زیاد سے جرح کرتا کہ حسینؑ کی تینوں شرائط انتہائی عاجزی والی معقول ہیں۔
عزیز دوستو امام کی وہ تین شرائط کیا تھیں؟ جن کی تفصیل سانحہء کربلا کی ہر کتاب میں موجود ہے، اول یہ کہ میں جہاں سے آیا ہوں مجھے واپس وہیں چلے جانے دو۔ دوئم مجھے اس سلطنتِ اسلامیہ کے بارڈر کی طرف کوچ کرنے دیا جائے تاکہ میں مسلم ایمپائر کی حدود سے باہر چلا جاؤں جلا وطنی اختیار کر لوں۔ سوئم اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی منظور نہیں تو پھر مجھے میرے بھائی یزید کے پاس دمشق لے چلو تاکہ ہم باہم مل بیٹھ کر معاملے کو حل کرلیں۔
آج چودہ صدیوں بعد بھی انسانی شعور حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ اس وقت کی مسلم قیادت کس قدر سنگ دل تھی اور نہیں تو کم از کم اپنے پیغمبرؐ سے حسینؑ کی نسبتوں کا ہی کچھ لحاظ کرلیتی۔ اپنے ہاتھوں کو آلِ رسولؐ کے خون سے آلودہ نہ کرتی، الٹے یہ لوگ اپنے لشکر یوں پر چلارہے تھے کہ حسینؑ کو جلدی مارو ہماری نمازِ جمعہ قضا ہورہی ہے۔ یعنی انہیں نماز کی تو فکر تھی مگر نواسہ رسول اور خاندانِ نبوت پر ظلم کی رتی بھر فکر نہ تھی۔ حسینؑ کے وعظ ونصیحت کا بھی ان سنگ دلوں پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا، حسین انہیں بتارہے تھے کہ اس وقت روئے زمین پر کسی پیغمبر کی بیٹی کا جایا سوائے میرے کوئی نہیں ہے۔ وہ انہیں یاد دلارہے تھے کہ مسلم بن عقیل کے ہاتھوں پر تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی، خطوط بھیجنے والوں کے نام لے لے کر پکاررہے تھے کہ تم لوگوں نے خود مجھے بلایا تھا۔
جی چاہ رہا ہے کہ یہاں ان تمام خطوط بھیجنے والوں اور یزیدی لشکر کے سالاروں کا کچھا چٹھا اور حسب نسب کھول کر رکھ دوں۔ لیکن محدود کالم میں اس کی گنجائش نہیں اور پھر اس سے کئی دیگر متنازعہ باتیں نہ ابھر آئیں جو اخباری بیانیے کے لیے موزوں نہیں۔ یہاں عرض یہ ہے کہ کیا ہمیں سانحۂ کربلا کو محض اپنے جذباتی بیانیے کے لیے استعمال کرنا چاہئے یا شعوری و نظری طور پر اس کے پس منظر کا احاطہ و ادراک بھی کرنا چاہیے؟ کیا کہیں یہ بدروحنین اور احدو احزاب کا غصہ و لاوا تو نہیں تھا؟ تاریخِ انسانی میں جب کوئی بھی سانحہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو اس کی کڑیاں سابقہ بہت سے واقعات و حوادث سے جا ملتی ہیں۔ ایسا کوئی بھی تاریخی سانحہ یونہی ہوا میں معلق نہیں ہوتا۔ اس کا ایک پس منظر اور بدلتے حالات کا ایک تسلسل ہوتا ہے۔
اس سے پہلے ہمیں سیدنا عمر اور بالخصوص سیدنا عثمان کی شہادتوں کا بھی جائزہ لینا پڑے گا۔ جمل و صفین جیسی ہولناک و خوفناک باہمی جنگوں کو بھی سمجھنا ہوگا جن میں ہزاروں صحابہ کرام لقمۂ اجل بنادیے گئے۔ اتنے صحابہ کو کافروں نے نہیں مارا جتنے خود کلمہ گو مسلمانوں کی چمکتی تلواروں سے شہید ہوئے۔ سیدنا عبداللہ ابن زبیر کی دردناک شہادت کیا کوئی معمولی سانحہ تھا؟ اور عشرہ مبشرہ صحابہ سیدنا طلحہ و زبیر کی شہادتیں بھی دل دہلادینے والی تھیں۔ اور پھر سیدنا مولا علی اور سیدنا امام حسنؑ جس طرح شہید ہوئے۔ یہ شہادتوں کا ایک تسلسل تھا یہاں کہاں کوئی پرامن سماج قائم ہوسکا تھا؟ سب سے تکلیف دہ اور اذیت ناک امر یہ تھا کہ سوائے سیدنا عمر کے یہ تمام کی تمام کربناک شہادتیں بشمول شہادتِ حسینؑ کسی کافر یا غیرمسلم، کسی ہندو یہودی یا مسیحی کے ہاتھوں نہیں بلکہ خود کلمہ گو مسلمانوں کے اپنے ہاتھوں وقوع پذیر ہوئیں۔
کہاجاتا ہے کہ اپنا مارے گا تو کم از کم دھوپ میں نہیں سائے میں ہی پھینکے گا۔ جبکہ یہاں تو سایہ چھوڑ ان اپنوں نے نواسۂ رسولؐ جگر گوشہ بتول کا خنجر سے سرکاٹنے کے بعد حسینؑ کے لاشے پر گھوڑے دوڑائے۔ اس لیے درویش اپنے تمام مومنین کی خدمت میں د ست بستہ عرض گزار ہے کہ وہ بات بے بات کافروں یا غیر مسلموں پر چڑھ دوڑنے کی بجائے، جذبہ خود احتسابی کے تحت سب سے پہلے خود اپنی یعنی اپنےمسلمانوں کی تطہیر کریں۔ اپنی آستینوں کے خوفناک سانپوں کو پہچانیں، اپنی صفوں میں موجود منافرت اور خونریزی کے بیوپاریوں کی گوشمالی یا درستی فرمائیں۔
غیر مسلموں کی بجائے اپنے مسلمانوں کو انسانیت یا ہیومن رائٹس سکھلائیں۔ ان کی صدیوں پر محیط خونخوار ذہنیت کا تیاپانچہ کریں۔ اپنے پکے سچے مسلمان نمازی بھائیوں کو انسان بنائیں۔ انسانیت سکھلائیں تاکہ وہ کربلا میں خونریزی کرتے ہوئے نمازجمعہ کی دہائی دینے کی بجائے قتل و غارت گری کے بالمقابل امن و سلامتی اور شرف انسانی یا انسان نوازی کا پیغام دیں۔