نیتن یاہو کا امریکی دورہ اور غزہ کا بحران
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 11 / جولائی / 2025
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کام چاہے دھیلے کا کریں لیکن بڑھک بازی میں ہمارے سابق کھلاڑی کی طرح کسی نوع کی کمی نہیں آنے دیتے۔ ان کی ”میں میں“ اور ”بلے بلے“ کا کوئی ثانی نہیں۔
امریکی سیاست میں وہ اپنا حریف سابق امریکی صدر باراک اوباما کو خیال کرتے ہیں۔ جوبائیڈن کو انہی کا تتمہ یا بالک سمجھتے ہیں۔ اصل چڑھائی اوباما پر ہی ہوتی ہے۔ انہیں اوباما کی یہ کامیابی ایک پل چین نہیں لینے دیتی کہ آخر وہ کس طرح اتنی جنگوں کے باوجود امن کا نوبیل پرائز جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔ ٹرمپ نے اپنی پوری انتخابی مہم میں اپنا بنیادی سلوگن ہی اس نعرے کو بنائے رکھا کہ وہ امریکی وسائل بیرونی جنگوں میں بھسم نہیں ہونے دیں گے۔ اپنی تجارتی و سفارتی و سیاسی سٹریٹجی سے عالمی سیاست میں امریکا کو مقامِ عظمت دلوائیں گے اور نئی جنگیں تو دور کی بات، پرانی جنگوں سے بھی دستکش ہوجائیں گے۔
اس نوع کے وعدے، دعوے یا داعیے خواہ دور سے کتنے ہی خوشنما یا رنگین دکھتے ہوں، تلخ زمینی حقائق اور عالمی مجبوریاں امریکا جیسی سپر پاور کو بھی وہ سب کچھ کرنے کی طرف لے جاسکتی ہیں، جن کے خلاف قیادتیں بھاشن دیتے ہوئے اپنے گلے خشک نہیں ہونے دیتیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کسی پلیٹ فارم پر بھی یہ کہنا نہیں بھول رہے کہ انہوں نے کس خوبصورتی سے دو ایٹمی ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان شروع ہونے والی مجوزہ بڑی جنگ کو روکا۔ اور پھر ایران اسرائیل جنگ کو بھی برسوں پر محیط ہونے سے روکتے ہوئے محض بارہ دنوں تک محدود کردیا۔ اس حوالے سے انہوں نے کیا سٹریٹجی اپنائی اس پر وہ اظہارِ خیال کرتے رہتے ہیں۔
پچھلے دنوں صدر ٹرمپ نے بیان جاری کیا کہ مڈل ایسٹ میں جاری غزہ جنگ کو روکنے کے لیے ان کی اسرائیلی پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو سے بات چیت ہورہی ہے۔ اس حوالے سے وہ جلد دنیا کو اچھی خبردیں گے جس پر اس سلسلے میں ایک امید بندھی کہ شاید دوحا مذاکرات کے پانچویں دور میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی 7جولائی کو اسرائیلی پرائم منسٹر واشنگٹن یاترا پر وائیٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ نیتن یاہو واحد عالمی لیڈر ہیں جو چھ ماہ سے بھی کم مدت میں تیسری مرتبہ امریکی دورے پر واشنگٹن آئے، جہاں ان کے مذاکرات بشمول پریذیڈنٹ ٹرمپ، قریباً ہر اہم سطح پر ہوئے۔ لیکن آؤٹ پٹ کے لحاظ سے پرکھا جائے تو کم از کم غزہ جنگ بندی کے حوالے سے یہ زیرو ہی رہی ہے۔ پریذیڈنٹ ٹرمپ جہاں اسرائیلی پرائم منسٹر سے یہ چاہتے تھے کہ وہ غزہ جنگ بندی کو قبول کرلیں، وہیں اسرائیلی پرائم منسٹر کا ایجنڈا ایران کو مزید سبق سکھانے کے لیے مزید امریکی تعاون کے حصول کا تھا۔ تاکہ ایران میں رجیم چینج کا ادھورا مشن پورا کیاجاسکے۔ ظاہر ہے دونوں ہی اپنے مقاصد یا مطالبات منوانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
غزہ پر سفارتی ناکامی کی بحث میں الجھنے سے پہلے البتہ ایک خوشگوار پہلو ضرور اظہار کے قابل ہے یہ کہ پاکستان کی طرح اسرائیل نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کو امن و سلامتی کا پیامبر قراردیتے ہوئے انہیں امن نوبیل پرائز کا جائز حقدار قرار دے دیا ہے۔ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان موجود باہمی منافرت کی جتنی بھی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں بالخصوص پاکستان نے اپنے پاسپورٹ پر یہ اعلان چسپاں کررکھا ہے کہ یہ سوائے اسرائیل کے پوری دنیا کے لیے کارآمد ہے، اس ناپسندیدگی، منافرت اور دشمنی کے علی الرغم تیری بزم یا سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔ یعنی پریذیڈنٹ ٹرمپ کی محبت میں پاکستان اور اسرائیل ایک پیج پر ہیں جو نوبیل پرائز کمیٹی کے سامنے کھڑے ہوکر بیک زبان یہ درخواست کر رہے ہیں کہ ہمارے ممدوح ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیں ہمارے برے دشمنوں سے بچانے کے لیے اور عالمی امن و سلامتی کی خاطر فوری جنگ بندی کا اہتمام کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے جو انسانی خدمت سرانجام دی ہے، اُسے ملاحظہ فرماتے ہوئے امریکی صدر اوباما کی طرح صدر ٹرمپ کو بھی امن کے نوبیل پرائز سے سرفراز کیاجائے۔
مزے کی بات ہے کہ جس طرح ہمارے طاقتور حافظ صاحب نے وائٹ ہاؤس کے لنچ میں اپنی یہ تجویز پیش فرمائی، ٹھیک اسی طرح اسرائیل کے بی بی نے وائٹ ہاؤس میں ڈنر کرتے ہوئے نوبیل پرائز کمیٹی کو بھیجا گیا اپنا لیٹر انہیں پیش کیا اور بھرپور شکریہ وصول کیا۔ آگے ٹرمپ مہاراج کے لیکھ ہیں کہ نوبیل پرائز کمیٹی ہماری یعنی پاکستان اور اسرائیل کی مشترکہ سفارش کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔ البتہ ہم دونوں ممالک نے تو مشترکہ طور پر اپنی کاوش میں کوئی کمی یاکوتاہی نہیں رکھی۔ انڈیا یا ایران والے اس پر جتنا چاہے جلتے رہیں یا تلملائیں جتنا چاہیں ٹرمپ کو جھوٹا کہتے رہیں، ہماری بلا سے۔
اب اصل سوال پر آتے ہیں کہ پریذیڈنٹ ٹرمپ غزہ کی فوری جنگ بندی میں تاحال کیوں کامیاب نہیں ہوپارہے؟ اس کی بنیادی وجہ تو اسرائیل اور حماس دونوں کی زیادتی و ستم ظریفی ہے۔ دونوں آمرانہ ذہنیت کے ساتھ پرلے درجے کے ضدی ہیں۔ کوئی بھی ظلم و زیادتی سے پیچھے ہٹنے یا اپنے اپنے مؤقف میں نرمی یا لچک دکھانے کے لیے آمادہ و تیار نہیں۔ اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو نے اپنے حالیہ دورہ امریکا میں بار بار یہ کہا کہ ہم اپنے دروازے پر ٹیررازم کو کسی صورت قبول نہیں کرسکتے۔ اسی دوران اسرائیلی عسکری ہلاکتوں کی خبریں بھی پہنچیں تو انہوں نے کہا حماس کو غیر مسلح ہونا پڑے گا اور ہمارے یرغمالی چھوڑنا ہوں گے۔ جبکہ دوسری طرف حماس ہنوز کسی بھی صورت غیر مسلح ہونے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی یکبارگی اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ حماس کو ساٹھ روزہ جنگ بندی پر بھی اعتراض ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ مضبوط عالمی گارنٹیوں کے ساتھ اسرائیل مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کرتے ہوئے اپنی فورسز کو غزہ کی حدود سے باہر لے جائے۔
ایسی صورت میں جہاں ویسٹ بنک میں ایک طرف فلسطینی اتھارٹی کی حکومت ہے اور دوسری طرف غزہ میں حماس کی مسلح طاقت کا پوری طرح خاتمہ نہیں ہوسکا، وہیں ہیبرون کے عرب قبائلی شیوخ کی ایک تیسری فلسطینی طاقت بھی ابھرتی اور اپنا بہتر متوازن رول ادا کرنے کی پیشکش کرتی دکھائی دےرہی ہے۔ ان عرب قبائل کے سربراہ الشیخ الجابری نے کہا ہے کہ اگر ہماری خودمختار امارت قائم کروادی جائے تو ہم ابراہم کارڈ کے تحت اسرائیل کے ساتھ وہی تعاون کریں گے جو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے والے دیگر عرب کر رہے ہیں۔
پرائم منسٹر نیتن یاہو پر اسرائیل میں اندرونی طور پر اپنے ان یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے شدید دباؤ ہے جنہیں حماس نے 7اکتوبر 2023 کو اسرائیل میں گھس کر دھاوا بولتے ہوئے گرفتار کیا اور اپنے ساتھ غزہ کے مخصوص زیرِزمین ٹھکانوں میں لے گئے۔ ان میں بہت سے یرغمالی حماس کی حراست میں مرچکے ہیں جن کی لاشوں کے بدلے، سودا کرتے ہوئے، حماس والے اسرائیلی قید سے اپنے جنگجوؤں کو رہا کرواتے ہیں۔ اس وقت بھی پچیس کے قریب زندہ اور کچھ اتنے ہی مردہ اسرائیلی حماس کے قبضے میں ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے ایک تو وہ معاملات ہیں جو لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں، دوسری درپردہ سکیمیں ہیں کہ ایک دوسرے کا خاتمہ کیسے کیاجاسکتا ہے۔ اپنے ان مبینہ مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر جہاں حماس والے غزہ کے عوام کو بطور شیلڈ یا ڈھال استعمال کرتے ہوئے ان کی اوٹ میں اپنی جہادی کارروائیاں ڈالتے ہیں وہیں جواباً اسرائیلی بے دریغ ان سب کا صفایا کرتے ہوئے ہیومن رائٹس کے تقاضے بھی بھول جاتے ہیں۔ نتیجتاً غزہ کے عام لوگ بشمول بچے اور خواتین چکی کے ان دو پاٹوں میں پس رہے ہیں۔ غزہ کے عوام کو اس جہنم سے چھٹکارا دلانا ہی آج کا اصل فوری تقاضا ہے۔