پنجابیوں کے دل بڑے ہیں مگریہ لاشے!
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 12 / جولائی / 2025
شام کے وقت ملتان کا موسم کچھ بہتر ہوا تو اظہر سلیم مجوکہ نے تجویز پیش کی، شیر شاہ روڈ ملتان پر واقع کوئٹہ ہوٹل کی چائے پیتے ہیں۔ اس تجویز کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا، سید ہاشم شاہ، ملک جہانگیر حسین اور انجینئر عبدالحکیم ملک کو بھی دعوت دی گئی۔
وہاں پہنچے تو بلوچی نوجوان بڑی مستعدی اور خوش اخلاقی سے گاہکوں کی آؤ بھگ کررہے تھے۔ ہم نے ایک میز کے گرد کرسیوں پر قبضہ جمایا، سامنے ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی، اچانک یہ خبر آئی کہ کوئٹہ سے لاہور جانے والی ایک بس سے شناختی کارڈ دیکھ کر 9پنجابیوں کو منسیچر کے مقام پر اتارا گیا اور بی ایل اے نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا یہ خبر اس ڈھابا ہوٹل کے مالک نے بھی سن لی۔ وہ ہمارے پاس آیا اور کہا قسم سے میرا دل پھٹ رہا ہے۔ ایک طرف آپ پنجاب میں رہنے والے ہمیں کتنی عزت دیتے ہیں، ہم سے محبت کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ ظالم لوگ ہیں جو اپنی گھٹیا اور بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے آپ لوگوں میں ہم بلوچوں کے لئے نفرت اُبھارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مگر آفرین ہے آپ پر، آپ کے دل بڑے ہیں، ہمیشہ پاکستانی بن کر سوچتے ہیں۔ ہماری تو حکومت سے پُرزور اپیل ہے کہ بی ایل اے کے نام پر دہشت گرد تنظیم بنانے والوں کے خلاف ایک سخت آپریشن کیا جائے کہ ان کی نسلیں بھی یاد کریں۔ وہ کہے جا رہا تھا اور ہم سن رہے تھے۔ پھر اس نے کہا ”سر آپ یقین کریں یہ بلوچستان میں مٹھی بھر لوگ ہیں، بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، اس کیلئے جان بھی قربان کر سکتے ہیں“۔
اس کا نام رفیق بلوچ تھا۔ میں نے اسے کہا ہمیں معلوم ہے۔ بلوچ اس ملک کے محب وطن شہری ہیں اور ہمارے بھائی ہیں لیکن جب پنجابیوں کو شناخت دیکھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس وقت بلوچستان سے اس کے خلاف کوئی موثر آواز کیوں نہیں اٹھتی، ریلیاں کیوں نہیں نکلتیں اور احتجاجی جلسے کیوں نہیں ہوتے۔ بلوچ عوام کی اس خاموشی سے ان دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح بلوچستان کا دوسرے صوبوں کے ساتھ زمینی راستہ منقطع کر دیں گے۔ ہم چائے پی کر واپس آ گئے مگر یہ سوچتے رہے کہ بلوچستان کے عوام کی سوچ تو پاکستانی ہے پھر یہ دہشت گرد وہاں کیسے آزادی سے رہ رہے ہیں۔ دہشت گردی کر رہے ہیں، ان کا قلع قمع کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ بلوچستان کی وہ سیاسی قوتیں جو بلوچ عوام کے حقوق کی بات کرتی ہیں، ایسی ہولناک وارداتوں پر خاموش کیوں رہتی ہیں، آواز کیوں نہیں اٹھاتیں تاکہ ان گم کردہ راہ دہشت گردوں کو تنہا کیا جا سکے۔ جب سیاسی قوتیں کسی مصلحت کی وجہ سے خاموش رہتی ہیں تو یہ تاثر ابھرتا ہے جیسے ان مٹھی بھر دہشت گردوں کو ان کی حمایت حاصل ہے۔
پنجابیوں کو اس طرح بس روک کر شناخت کے بعد نشانہ بنانا کوئی نئی کہانی نہیں، یہ سکرپٹ بہت پہلے سے لکھا ہوا ہے اور اس میں بھارت بھی ملوث ہے۔ پنجاب میں بلوچوں کے لئے نفرت کا بیج بوکر، یہ گھٹیا لوگ دراصل یہ چاہتے ہیں، جو لاکھوں بلوچی عوام پنجاب میں رہ رہے ہیں، انہیں وہاں نشانہ بنایا جائے۔پنجابی انہیں پنجاب بدر کرنے کی تحریک چلائیں تاکہ وہ دنیا کو یہ تاثر دے سکیں کہ بلوچوں کے لئے پاکستان میں زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ مگر ان کی یہ سازش پنجاب میں رہنے والے پاکستانیوں نے کبھی کامیاب نہیں ہونے دی۔ ان کے سینے کشادہ تھے اور کشادہ ہیں۔وہ کبھی صوبائی بنیادوں پر نہیں سوچتے ان کی سوچ ہمیشہ پاکستانی رہی ہے۔
بلوچستان پاکستان ہے، وہ ہمیشہ پاکستان رہے گا۔ بلوچ عوام اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے باقی صوبوں کے رہنے والے ہیں ۔ اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بلوچستان کے عوام ایسی بزدلانہ کارروائیوں کی کھل کر مذمت کریں۔ صاف صاف بتا دیں کہ پنجاب بھی انہیں اتنا ہی پیارا ہے، جتنا بلوچستان ہے۔ پنجابیوں سے انہیں نفرت نہیں محبت ہے۔ پنجابیوں نے بار بار لاشے وصول کئے ہیں مگر پنجاب میں رہنے والے، کاروبار اور فیکٹریاں چلانے والوں نے بلوچی بھائیوں کو کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ اسے پنجاب کے عوام کی بالغ نظری کہہ سکتے ہیں یا شعور کی انتہا، مگر حقیقت یہی ہے صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی سازش کو جس طرح پنجابی عوام نے ناکام بنایا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ تاہم اس صورت حال کو اس لئے قبول نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔ بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ یہ بات تو واضح ہے کہ دشمن کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ کسی طرح بلوچستان کا پنجاب اور سندھ سے زمینی راستہ بند کیا جائے۔ جب ٹرین کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا تھا تو اس وقت بھی ان کا مقصد یہی تھاسڑک اور ریل کی پٹڑی کو مسدود کر دیا جائے، مگر یہ نہ ہو سکا۔ ٹرینوں کی حفاظت کے لئے تو ایک نظام وضع کر لیا گیا تاہم سڑک کو محفوظ بنانے پر توجہ نہیں دی گئی۔ بلوچستان سے آنے اور جانے والی بسوں کو ایک سکواڈ کے ذریعے ان علاقوں سے گزارا جا سکتا ہےجہاں دہشتگردوں نے پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔ اس کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا کیونکہ پنجاب میں لاشوں کی آمد غصے اور اضطراب کو بڑھا رہی ہے۔
ہر ایسے واقعہ کے کئی دردناک پہلو ہوتے ہیں جو گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں ۔اس سانحے میں شہید کئے جانے والے دو بھائیوں محمد عثمان طور اور محمد جابر طور کا تعلق دنیا پور سے تھا۔ دونوں بسلسلہ روزگار کوئٹہ میں مقیم تھے۔ ان کے والد کا دنیا پور میں انتقال ہو گیا تھا، جنازے میں شرکت کے لئے انہیں عجلت میں آنا پڑا۔ ٹرین کا وقت نہیں تھا، پہلی دستیاب بس پکڑی اور تر آنکھوں کے ساتھ باپ کے جنازے میں شرکت کے لئے عازم سفر ہوئے۔ انہیں کیا معلوم تھا، وہ نہیں ان کے لاشے تابوت میں بند ہو کر پہنچیں گے۔ ذرا آپ اس لمحے کو سوچیں جب دنیاپور کے ایک گھر میں باپ کی لاش پڑی ہو اور خبر ملے کہ دو لاشیں اور آ رہی ہیں۔ ماں، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب پر یہ خبر کتنی بڑی قیامت بن کر ٹوٹی ہوگی۔ مارنے والے ظالموں کو دونوں بھائیوں نے ضرور بتایا ہوگا کہ وہ اپنے باپ کے جنازے میں شرکت کے لئے جا رہے ہیں مگر جب انسان درندہ بن جائے تو اس پر ایسی باتیں کہاں اثر کرتی ہیں، انہیں زندگی سے محروم کر دیا گیا۔
ایک گھر سے تین جنازے اٹھے، دو بیویاں بیوہ اور کئی بچے یتیم ہو گئے۔ ریاستی اداروں کو ایسی مصلحتوں سے نکلنا ہوگا۔ بڑے فیصلے کرنے ہوں گے، قوم اس معاملے میں ان کے ساتھ ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)