تحریک کا آغاز ہوچکا، آر یا پار کریں گے: علی امین گنڈاپور
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ وہ ’فیصلہ سازوں‘ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
اتوار کو لاہور میں پریس کانفرس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ عمران خان نے واضح بتایا ہوا ہے کہ فیصلہ سازوں کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔ جن کے پاس اختیارات نہیں ہیں ان سے کیا بات ہو سکتی ہے؟ خیال رہے گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے نئی احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’90 دن کے اندر یا تو ہم عمران خان کو رہا کرائیں گے یا پھر سیاست چھوڑ دیں گے۔‘
لاہور میں پی ٹی آئی کے دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک کا اعلان عمران خان نے کیا ہے اور وہ خود اس کی قیادت کریں گے۔ ’90 دن کل رات سے شروع ہو گئے ہیں اور ان 90 دنوں میں ہم آر یا پار کریں گے۔‘
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی ادارے اپنا کام چھوڑ کر دوسرے کاموں میں لگ گئے ہیں اور اس کے سبب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالات خراب ہو گئے ہیں۔ ان حالات کے ذمہ دار وہ ہیں جن کی ذمہ داری سرحدوں کو کلیئر کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے وہ سرحدوں کو چھوڑ کر تحریکِ انصاف کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاست کرنا ریاستی اداروں کا کام نہیں ہے لیکن ’وہ حکومتیں بنانے، چلانے اور گرانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم تو غیر سیاسی ہیں، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ نے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے مل کر بیٹھنے، غلطیوں کو ماننے اور آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے لاہور میں پارٹی کارکُنان اور ممبران صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہائیوں سے ادارے اور پارٹیاں مسلّط ہیں۔
سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’90 دن کے اندر یا تو ہم عمران خان کو رہا کرائیں گے یا سیاست چھوڑ دیں گے۔‘
’ہم آئین اور قانون کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں۔ اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہمیں غلام ابن غلام بننا ہے تو بس پھر ٹھیک ہے۔ اگر میں عوامی ٹیکس کے پیسوں کا جواب دہ ہوں تو تمام ادارے اور حکومتیں جواب دہ ہیں۔‘