ملک میں سیاسی آزادی یقینی بنائی جائے!

پاکستان میں شہباز شریف کی حکومت خود کو محفوظ و مضبوط محسوس کررہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال دگرگوں اور  آزادی رائے  کے امکانات محدود ہوئے ہیں۔ حکومت اگرچہ وسیع تر سیاسی  مصالحت کی ضرورت پر زور دیتی ہے لیکن  اس کی طرف سے ملک میں سیاسی اختلاف  سے قطع نظرمل جل کر کام کرنے کی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی ٹھوس کوشش  دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس دوران پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق  نے ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال اور اس کی بہتری کے  امکانات کم ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔کمیشن نے رواں ماہ کے آغاز میں  ایک بیان میں کہا  تھا کہ ’گزشتہ چند ماہ میں اسے غیر قانونی، بلاجواز اور غیر ضروری اقدامات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے تنظیم کی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے‘۔  جمہوری و آئینی انتظام کے تحت کام کرنے والی کسی بھی حکومت کے لیے  انسانی حقوق پر کام کرنے والے ملک کے  سب سے  باوقار و قابل اعتبارادارے کی طرف سے ایسی تشویش کا  اظہار پریشان کن ہونا چاہئے۔  ان حالات  میں  بنیادی حقوق کی حفاظت اور ان کی نگرانی کرنے والے اداروں کو سہولت و تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔

انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے حوالے سے شکایات یوں بھی تشویش و پریشانی کا سبب ہیں کہ  یہ شکایتیں عام طور سے  سیاسی لیڈروں و کارکنوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک کے حوالے سے سننے اور دیکھنے میں آرہی ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی اور سب سے مقبول لیڈر عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانا والا سلوک اس حوالے سے  افسوسناک نمونہ ہے۔ اس معاملہ پر صرف یہ کہہ کر جان نہیں چھڑائی جاسکتی کہ تحریک انصاف یک طرفہ پروپیگنڈا کے ذریعے  عمران خان کی قید، اور جیل میں میسر سہولتوں کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتی ہے۔   ملک کے سابق وزیر اعظم کو طویل مدت تک غیر واضح اور کمزور مقدمات میں سزائیں دلا کر قید رکھنا اور  جیل  میں سہولتوں کے بارے میں شکایات  کو نظر انداز کرنا  کسی بھی حکومت کی بے حسی اور سنگ دلی کا ثبوت ہے۔ یہ حالات  جلد از جلد تبدیل ہونے چاہئیں۔

حکومت اگر سمجھتی ہے کہ اس کی طرف سے عمر ان خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو قواعد کے مطابق مناسب سہولتیں  دی جارہی ہیں تو اسے قومی اسمبلی میں ان سہولتوں کی تفصیل پیش کرنی چاہئے۔ تاکہ عوام الناس بھی جان سکیں کہ تحریک انصاف  کے شکایت نما ’پروپیگنڈے‘ اور حکومت کے دعوؤں میں سچائی کو کہاں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حکومت اگر کوئی وضاحت دینے اور اصل حقائق بیان کرنے کی بجائے شکایات کو جھوٹ کا پلندا قرار دے کر مسترد کرتی رہے گی، تو خود حکومت کا اعتبار کم ہوگا اور اس کی نیک نیتی پر سوال اٹھائے جائیں گے۔ عمران خان کی مثال تو یوں دی گئی ہے کہ وہ تحریک انصاف کے لیڈر اور سب سے زیادہ جانے جانے والے قیدی ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کے درجنوں لیڈر اور سینکڑوں کارکن مختلف مقدمات میں  طویل مدت سے جیلوں میں بند ہیں۔   اس صورت حال پر حکومت کی یہ وضاحت کافی نہیں ہے کہ عدالتوں نے انہیں سزائیں دی ہیں۔  سوال تو  یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سزاؤں پر اعلیٰ عدالتوں     میں اپیلیں کیوں سست روی کا شکار ہیں۔ اس دوران حکومت  26 ویں  آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی فیصلوں اور ججوں پر اثر انداز ہونے کی اپنی سی کوشش کرچکی ہے۔ خاص طور سےاسلام آباد ہائی کورٹ کو ’حکومت دوست‘ ججوں سے بھرنے کےلیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، اس سے حکومت کی بدنیتی عیاں  ہوتی ہے۔

کوئی بھی سیاسی عناصر خواہ کسی بھی طریقے سے اقتدار میں آئیں انہیں  مخالفین کے لیے کچھ نرم گوشہ ضرور  اختیار  کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ  خواہ یہ اقتدار کسی ہائبرڈ انتظام کےتحت ہی حاصل کیا گیا ہو لیکن سیاسی  حکومتی عہدیداروں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی  آئینی انتظام، بنیادی حقوق کی صورت  حال ، سیاسی  سرگرمیوں کی آزادی اور تمام سیاسی لیڈروں و کارکنوں کے ساتھ  احترام کا رویہ اختیار  کرکے ہی طاقت حاصل کرتی ہے۔ کیوں کہ ملک میں کوئی ایمرجنسی یا آمرانہ نظام مسلط نہیں ہے بلکہ جمہوری انتظام  کے ذریعے ایک خاص سیاسی گروہ کو مسلط  کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں  اس انتظام سےاستفاد ہ کرنے والے سیاسی عناصر کو ماضی پر  نگاہ ڈالتے ہوئے یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی صورت حال کسی بھی سیاسی لیڈر یا پارٹی کو پیش آسکتی ہے۔

یہ تاثر عام ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈروں کو اس وقت ملکی عدالتی نظام میں جس صورت حال کا سامنا ہے، اس کی  وجہ حکومتی اثر و رسوخ ہے۔ استغاثہ جان بوجھ کر مقدمات کو الجھاتا ہے اورعدالتی کارروائی کو سست روی کا شکار کیا جاتا ہے۔  کسی ایک لیڈر کو سینکڑوں مقدمات میں نامزد کرنا بجائے خود تکلیف دہ  اور مضحکہ خیز ہے۔ اس سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے  عمران خان ساری زندگی یہ منصوبہ بندی کرتے رہے کہ ’جب انہیں اقتدار ملے گا تو وہ  کیسے ایک کے بعد دوسرا جرم کریں گے‘۔  یہ صورت حال موجودہ  برسر اقتدار لوگوں کے لیے شرمندگی کا سبب ہونی چاہئے۔ حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عمران خان کے علاوہ تحریک انصاف کے تمام لیڈروں اور کارکنوں کو شفاف انصاف فراہم کرنے کا اہتمام کرے۔ اس حوالے سے یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوسکتا کہ  ملک میں عدالتیں خود مختار ہیں اور  عمران خان اور ان کے ساتھی عدالتی احکامات کی وجہ سے ہی قید ہیں۔  کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ یہ پورا سچ نہیں ہے۔ حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ سیاسی قیدیوں کو عدالتوں سے جلد انصاف ملے  اور ایسے فیصلوں کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ 

اس معاملہ میں جب پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق جیسا ادارہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوجائے  کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وکالت کے لیے جگہ کم ہوچکی ہے تو اسے سنجیدگی سے لینے اور ملک کے وزیر قانون، وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کو بنفس نفیس ان شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے اقدام کرنے چاہئیں،  جن کی بنیاد پر انسانی حقوق کی تنظیمیں یا وکلا تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ ان شکایات کو سیاسی مخالفین کی پریشانی سمجھ کر نظرانداز  کرنے کی بجائے ایک اصولی معاملہ کے طور پر طے  کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ملک میں ایسا نظام استوار ہوسکے جس میں ہر قسم کی سیاسی رائے رکھنے والے کو اپنی بات کہنے کی  آزادی ہو اور وہ  خوف کے بغیر حکومت کی کارکردگی   کے علاوہ اپنےخیالات سامنے لاسکیں۔ یقیناً مخالف سیاسی لیڈروں پر بھی چند ضوابط پر پابندی لازمی ہوتی ہے لیکن کسی حکومت کو محض  مخالفین کی بے اعتدالی کا حوالہ دے کر  آئین کے تحت فراہم کردہ حقوق روندنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

تحریک انصاف ان دنوں عمران خان کی رہائی اور اپنی سیاسی موجودگی کے لیے احتجاج کا ااہتمام کرنا چاہتی ہے۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے گزشتہ روز تند و تیز لہجے میں حکومت اور اسٹبلشمنٹ پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ حکومت کی طرف سے مزید سختی  ایسے الزامات کا مناسب جواب نہیں ہوسکتی بلکہ اسے سیاسی رائے   کے اظہار کے لیے زیادہ سپیس دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کے  مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے  تحریک انصاف کے احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ احتجاج کا مقصد ملک کو غیر مستحکم کرنا ہے‘۔ جاننا چاہئے کہ  کوئی احتجاج اس وقت تک کسی نظام کو کمزور نہیں کرسکتا جب تک  وہ اپنے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتا رہے گا۔   حکومت کو کسی سیاسی احتجاج کو اپنی کمزوری کی بجائے، اپنی طاقت بنانا چاہئے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا اگر مخالف آوازوں کو دبانے کی بجائے انہیں آئینی حقوق فراہم کیے جائیں۔ سیاسی احتجاج کو  ’ملکی مفاد‘ پر حملہ قرار دے کر  ’قانون اپنا راستہ بنائے گا‘ جیسی دھمکیاں دینے کی بجائے حوصلہ سے  سیاسی احتجاج کو برداشت کیا جائے۔ جیسے حکومت کا کام ملکی امور کی  دیکھ بھال ہے، اسی طرح اپوزیشن کا کام ان کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہے جو اسے کسی حکومتی طریقہ کار میں دکھائی دیتی ہیں۔

موجودہ حالات میں سیاسی تعطل کی صورت حال ضرور تکلیف دہ ہے۔ تحریک انصاف کسی صورت سیاسی حکومت سے بات نہیں کرنا چاہتی بلکہ غیر منتخب اداروں کو سیاسی عمل میں ملوث کرنے پر اصرار کرتی ہے۔ اس غلط مؤقف کے بارے میں عوام کو رائے بنانے کا موقع دیا جائے ۔ حکومت خود کسی پارٹی  کو ایک سیاسی مؤقف کی وجہ سے عتاب کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ حکومت اگر اس حوصلہ مندی کا مظاہرہ کرسکے تو اس کی طاقت میں کمی نہیں بلکہ اس میں اضافہ ہوگا۔