پاکستانی خارجہ پالیسی کی ترجیحات
- تحریر فیضان عارف
- منگل 15 / جولائی / 2025
کچھ ملکوں کے سیاستدانوں کو سرکاری دوروں پر دوسرے ممالک کے سیرسپاٹے کا جنوں کی حد تک شوق ہوتا ہے۔ پاکستان کے سیاستدانوں کی اکثریت اس شوق میں مبتلا ہے۔
نوابزادہ لیاقت علی خان کے دور حکومت سے لے کر شہباز شریف کے دور اقتدار تک کوئی بھی دور ایسا نہیں تھا جس میں ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے ملک و قوم کے زر مبادلہ کو اپنے اللّوں تللّوں، علاج معالجہ اور غیر ملکی دوروں پر ضائع نہ کیا ہو۔ اقتصادی بدحالی میں مبتلا غریب ملکوں کے حکمران اور ارباب اختیار جب کسی خوشحال ملک یا ادارے سے قرض مانگنے جاتے ہیں تو ان کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر قرضہ دینے والے بھی ششدر اور حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ ہمارے سیاستدانوں کے غیر ملکی دوروں سے ملک و قوم کو کیا فائدہ پہنچتا ہے۔
ہمارے حکمران یا وزیر جب کسی غیر ملکی دورے، حج یا عمرے پر جاتے ہیں تو اپنے ساتھ پسندیدہ لوگوں کاایک قافلہ لے کر جاتے ہیں۔ ایک مقروض ملک کے وسائل اور زرمبادلہ کا اس سے زیادہ بے دریغ استعمال شاید ہی کسی اور ذریعے سے کیا جا سکتا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک زمانے میں قرض اتارو ملک سنوارو کے علمبرداروں نے اپنے وزرا اور نمائندوں کو لندن بھیجا تھا تاکہ اوور سیز پاکستانیوں سے زر مبادلہ بٹورا جا سکے لیکن بد قسمتی سے حکومت کے یہ نمائندے تارکین وطن سے اتنی فارن کرنسی بھی حاصل نہ کر سکے جتنی انہوں نے اپنے اس پر تعیش برطانوی دورے کے اخراجات کی مد میں صرف یا ضائع کی تھی۔
برطانیہ میں لاکھوں کشمیری تارکین وطن آباد ہیں۔ آزاد کشمیر کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے علاوہ بڑے بڑے سرکاری اہلکاروں نے گزشتہ نصف صدی کے دوران لندن اور دیگر شہروں کے دوروں کا ریکارڈ قائم کر رکھا ہے۔ اگرفارن آفس(وزارت خارجہ) مختلف ادوار کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے غیر ملکی دوروں پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات اور اس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو پہنچنے والے فوائد کی فہرست جاری کر دے تو مجبور، لا چار، بے کس اور مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کو اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی کہ ہمارے نمائندے ملک وقوم کے وسائل کے ساتھ کیا سلوک کرتے رہے اور اب تک کر رہے ہیں۔ پاکستان میں حکومت نے ایک پارلیمانی کشمیر کمیٹی بنارکھی ہے، اس کی سر براہی نوابزادہ نصر اللہ خان، حامد ناصرچٹھہ، مولانا فضل الرحمن اور شہریار خان آفریدی سمیت کئی نامور سیاستدانوں کے پاس رہی۔ اس کمیٹی میں ہر سیاسی جماعت کے درجنوں ارکان پارلیمنٹ شامل رہے۔ ان سب نے کشمیر کے نام پر غیر ملکی دوروں کا لطف اُٹھایا جبکہ کشمیر کاز کو ان غیر ملکی دوروں کا رتی بھر فائدہ نہیں ہوا۔ فائدہ ہوا تو صرف کشمیر کمیٹی کے چیئرمین اور اس کے اراکین کو ہوا جنہوں نے قومی وسائل اور زر مبادلہ کو مال مفت سمجھ کر خرچ کیا۔
جہاں تک اپنے ملک کے لئے لابی یا کسی کاز کے لئے بااثر ملکوں کی حمایت کا تعلق ہے تو اس مقصد کے لئے سمجھ دار اور دور اندیش حکومتیں اپنے ہائی کمشنرز اور سفارت کاروں کی خدمات اور ذہانت سے استفادہ کرتی ہیں۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے دیگر شعبوں اور اداروں کی طرح وزارت خارجہ میں بھی زوال اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ فارن سروس میں ایسے قابل اور اہل ارباب اختیار ڈھونڈنے سے ہی ملتے ہیں جو اپنے ملک کی خارجہ پالیسی اور قومی وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے یا اپنی پہلی ترجیح بناتے ہوں۔ برطانیہ ہو یا کوئی اور یورپی ملک یہاں پر متعین ہونے یا کیے جانے والے اکثر سفارت کار مردم بیزار، تارکین وطن کے مسائل سے جان چھڑانے والے اور ادب و ثقافت سے لا تعلق ہوتے ہیں۔ ان سفیروں اور ہائی کمشنرز کی پہلی ترجیح حکمرانوں اور سیاستدانوں کی چاپلوسی اور خوشامد ہوتی ہے۔
خاص طور پر یونائیٹڈ کنگڈم، یونائیٹڈ سٹیٹس اور کینیڈا میں متعین سفیروں اور سفارت خانوں کے افسران اور اہلکاروں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ملازمت کی مدت پوری ہونے یا کسی اور جگہ تبادلے سے پہلے پہلے ان ممالک میں مستقل رہائش کا کوئی راستہ نکال لیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ہرطرح کے جتن کرتے اور ہر حربہ آزماتے اور اس میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ جو سفارت کار اپنے اور اپنے گھر والوں کے لئے پردیس میں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے اور اپنے اہل خانہ کی امیگریشن کے لئے جتن کرنے میں مصروف رہے، وہ پاکستان کے لئے سفارت کاری اور اپنے ملک کے لئے کیا خاک لابی کرے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ میں ایک شعبہ ایسا ضرور ہونا چاہئے جو سفیروں کی کار کردگی کا جائیزہ لے کر ہر سال ایک رپورٹ شائع کرے یا حکومت کو آگاہ کرے کہ امریکہ، برطانیہ، کینڈا اور دیگر ممالک میں اپنی سرکاری ذمہ داریاں نبھانے والے سفارت کاروں نے ملک و قوم کے لئے کون کون سے کارہائے سرانجام دیے ہیں یا ان ملکوں میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کو کون سی ایسی سہولت اور آسانی فراہم کی ہے جس کا اعتراف ہماری اوور سیز کمیونٹی بھی کرتی ہو۔
فارن آفس کے سفیروں کی کارکردگی کو جانچنے کے بعد ہی سیاستدان یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ پاکستان کے اصل سفیر اوور سیز پاکستانی ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستانی اراکین پارلیمنٹ کا ایک9 رکنی وفدواشنگٹن اور نیویارک کے دورے کے بعد لندن پہنچا۔ اس وفد کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اورسابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے۔ اس وفد میں ماحولیات کے وزیر مصدق ملک، سینیٹر شیری رحمان، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سابق وزیر خرم دستگیر خان، سینیٹر فیصل سبزواری، سینیٹربشریٰ انجم بٹ،سابق خارجہ سیکرٹریز جلیل عباس جیلانی اور تہمینہ جنجوعہ شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وفد کو وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے غیر ملکی دورے پر بھیجا تھا تاکہ وہ امریکہ اور برطانیہ آکر پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ جنگ کے بعد پاکستانی موقف سے ان دونوں بڑی طاقتوں کو آگاہ کر سکیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت کا احساس دلا سکیں۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ پاکستان کا یہ پارلیمانی وفدامریکہ میں کن کن با اثر شخصیات سے ملا اور انہیں کس حد تک پاکستان کے موقف کے حوالے سے قائل کر سکا۔ البتہ لندن میں اس وفد کی مصروفیات پاکستان ہائی کمیشن میں ایک پریس کانفرنس (جس میں اکثریت پاکستانی صحافیوں کی تھی) اور برطانوی پارلیمنٹ کے رکن عمران حسین کے استقبالیے تک محدودتھیں۔ عمران حسین برٹش پارلیمنٹ میں جموں و کشمیر کے بارے میں آل پارٹی پارلیمینٹری گروپ کے چیئر مین ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس پاکستانی وفد کی برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ لمی سے ملاقات کا بندوبست کیا جاتا یا فارن افیئرز کمیٹی کے ارکان پارلیمنٹ تک اس وفد کو رسائی حاصل ہو جاتی۔ لیکن ایساکچھ نہیں ہوا۔ یہ وفد پاکستان اور کشمیری کمیونٹی کے چند افراد کو مل کر یا انہیں مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت اور پاک بھارت کشیدگی کی نزاکت سے آگاہ کرکے واپس پاکستان روانہ ہو گیا۔
برطانیہ کے ارباب اختیار اور وزیر خارجہ کی بجائے پاکستانی کمیونٹی کے چند گنے چنے لوگوں سے مل کر انہیں مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کے بارے میں بتانا ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں مارنے کے مترادف ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا رہاہے اور اب بھی ایسا ہو رہا ہے۔ پاکستان سے بڑے بڑے سیاستدانوں کے بڑے بڑے وفدملک و قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے لندن آتے ہیں۔ اپنی کمیونٹی کے لوگوں سے ملتے ہیں، فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام اور مہنگے ترین سٹورز سے شاپنگ کرتے ہیں۔ جو مقصد اور ایجنڈا لے کروہ یہاں آتے ہیں وہ مقصد کبھی پورا نہیں ہوتا۔
پاکستان کے ہائی پروفائل پارلیمانی وفد کے واپس وطن پہنچنے پر بلاول بھٹو سے یہ استفسار ضرور ہونا چاہئیے کہ وہ جو مقاصد لے کر امریکہ اور برطانیہ گئے تھے، وہ کس حد تک پورے ہوئے؟ یا دونوں ملکوں کے کتنے پالیسی ساز سیاستدان اور بیورو کریٹ ایسے تھے جن کو اس وفد نے پاکستانی موقف کا قائل کیا۔ وفد کے سربراہ سے یہ بھی پوچھنا چاہئیے کہ اس دو ملکی دورے پر قومی خزانے کا کتنا زر مبادلہ خرچ یا ضائع ہوا۔ ہمارے کسی محب وطن صحافی یا تجزیہ نگار کو کبھی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اگر بلاول زرداری اور ہمارے حکمرانوں نے پاکستانی مؤقف اور مسئلہ کشمیر پر کسی کی موثر حمایت حاصل کرنی ہے تو انہیں چاہئیے کہ وہ امریکہ یا برطانیہ کے دوروں پر زر مبادلہ صرف کرنے کی بجائے سعودی عرب، قطر،متحدہ عرب امارات اور کویت وغیرہ جائیں اور وہاں کے مسلمان حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر پر اپنا ہم خیال بنائیں اور انہیں بتائیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت مسلمانوں پر کیسے کیسے ظلم ڈھا رہا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ بنارہا ہے۔ مڈل ایسٹ میں لاکھوں بھارتی تارکین وطن کام کرتے ہیں، اس خطے کے مسلمان حکمران اگر بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگی جارحیت سے باز رہے اور مسئلہ کشمیر کو جلد از جلد اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کا آغاز کرے تو ممکن ہی نہیں کہ بھارت یہ سب کچھ کرنے پر مجبو ر نہ ہوجائے۔
اس معاملے میں امریکہ اور برطانیہ سے زیادہ سعودی عرب اور دیگر مذکورہ ممالک کی پاکستان کے لئے حمایت زیادہ کارگر ہوگی۔ معلوم نہیں ہمارے کسی وزیر اعظم نے اس مقصد کے لئے کسی پارلیمانی وفد کو سعودی عرب سمیت مشرق وسطی کے مسلمان ممالک میں بھی بھیجا ہے یا نہیں یا ہمارا کوئی صدر یا وزیر اعظم خود یہ مقصد لے کر مڈل ایسٹ کے حکمرانوں کو قائل کرنے کے لئے اُن تک پہنچا یا نہیں؟ معلوم نہیں اسلامی جمہور یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کیا ہیں؟