پنجاب کے قانون کی قیمت 30 ہزار؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 15 / جولائی / 2025
اس خاکسار نے تھوڑا عرصہ پہلے پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز صاحبہ کے اٹھائے گئے کچھ اقدامات کی تعریف کی تھی۔ اور ساتھ یہ بھی عرض کیا تھا کہ قانون اور اقدام وہی ہوتا ہے جس پر عمل بھی ہو۔
ورنہ چیف جسٹس صاحب نے بھی متعدد بار پنجاب، خیبر پختون خواہ اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کی کئی خالی سیٹوں پر انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا جس پر عملدرآمد نہ ہونے سے چیف جسٹس کی وقعت کا بھی اندازہ ہو گیا تھا۔ اس ملک میں مختلف ادوار میں کچھ اچھے قوانین بنائے گئے اور کئی ایک عوامی مفاد کے منصوبے بھی متعارف کروائے گئے لیکن ان پر ان کی روح کے مطابق عمل نہ ہو سکا اور پھر حکومتوں نے بھی اپنے کیے گئے اقدامات کی کوئی پیروی نہ کی ۔ جیسا کہ نواز شریف صاحب کی پیلی ٹیکسی کو لوگوں نے نجی گاڑی میں تبدیل کیا، عمران خان کے کٹے وچھے اور انڈے مرغیوں کے پروگرام کو وزرا اور ان کے کارندے کھا گئے۔ اسی طرح کئی حکومتوں کے بہت اچھے منصوبے بھی خردبرد کا شکار ہو گئے۔ موجودہ وزیراعظم پاکستان جب پنجاب کے وزیر اعلی تھے تو انہوں نے شادیوں میں ون ڈش یعنی ایک پکوان کی پابندی لگائی تو بہت سارے لوگوں نے اس اقدام کی ستائش کی۔ لیکن اس قانون پر بھی بہت ہی کم عمل ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آگر کوئی خود پیسے بچانے کے لیے کہہ دے کہ ہم قانون کے پابند ہیں ورنہ شادی ہال والے کھانے کے نرخ بتاتے ہوئے قانون توڑنے کی قیمت 30 سے 50 ہزار شامل کرتے ہیں۔
پہلے پہل شادی ہال والے گاہک سے پوچھتے تھے کہ اگر آپ کی پہنچ ہے یعنی کسی بڑے سے تعلق ہے تو آپ جتنے مرضی پکوان کا آڈر کر سکتے ہیں اور اب سیدھا کہتے ہیں کہ قانون توڑنے کی قیمت 30 ہزار ہے یا 40/50 ہزار بتاتے ہیں۔ اور یہ کام کہیں اور نہیں بلکہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ڈنکے کی چوٹ پر ہو رہا ہے۔ (شادیوں میں ڈھول ڈنکا تو ویسے بھی ہوتا ہی ہے)۔ راقم نے درجنوں شادیوں پر انواع و اقسام کے کھانے کھائے ہیں اور جب میزبان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا ون ڈش کا قانون نہیں ہے تو وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ او جی ہمارے اوپر اللہ کا کرم ہے، کوئی قانون ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ حالانکہ ان کی اوقات صرف پیسے ہوتے ہیں۔ 30 ہزار دو اور قانون کی دھجیاں بکھیر لو۔ کیا یہی اوقات ہے پاکستان اور پنجاب کے قانون کی؟
یوں تو روز اول سے قانون بکتا آیا ہے، ٹوٹتا آیا ہے۔ سب سے پہلے قانون بنانے والے خود اس قانون کو روند ڈالتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کا بھی قانون سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ کیونکہ جب قانون بنانے والے اس پر عمل نہیں کرتے تو دوسرے لوگ کیوں کر قانون کا احترام کریں گے؟ جس طرح دینی تعلیم دینے والے خود ایک دو سنت کے علاوہ کسی سنت پر عمل کرتے ہیں، نہ دین کے مطابق زندگی گزارتے ہیں تو پھر لوگ ان پر اعتبار کیسے کر لیں؟ لیکن جب اس طرح قانون کو روندا جائے کہ سب کو علم ہو کہ 30 ہزار دے کر آپ قانون کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں اور حکومت اس پر ٹس سے مس نہ ہو تو پھر قانون کا جنازہ پڑھ دینا چاہیے۔
میں مریم نواز صاحبہ اور ان کی کابینہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ اس بات سے واقف نہیں کہ کسی بھی شادی ہال میں 30 ہزار دے کر ہم جتنے مرضی کھانے لے سکتے ہیں؟ اگر پنجاب کا بچہ بچہ اس سے واقف ہے اور زیادہ تر بڑے لوگ اس قانون کو توڑنے میں پیش پیش ہیں تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ مریم بی بی اور ان کی کابینہ کے لوگ اس سے ناواقف ہوں؟ میرے خیال میں اس ملک کی تمام برائیوں کی جڑ یہی ہے کہ اس ملک میں جو بھی قانون بنتا ہے، اسے توڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح ہر بندے کا حکومت اور قانون پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور پھر ہر بندہ صرف اپنی ضرورت اور اپنے مفاد کے مطابق کام کرتا ہے۔
راقم نے ایک بار سعودیہ سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ایک ٹی وی کا جائز کسٹم دینے اور رسید حاصل کرنے کی بات کی تو سب میرا منہ تکنے لگے اور میرے ساتھ ایک ایئرپورٹ کا ملازم جو میرے بھائی کا دوست ہے، آگے بڑھا اور کہا یہ صاحب سیدھے ہیں لہذا ان کی بات کا غصہ نہ کیجیے۔ میں خود آپ لوگوں سے ڈیل کرتا ہوں۔ اس نے مجھے کہا آپ جائیں باہر آپ کے گھر والے منتظر ہیں۔ آپ کا ٹی وی میں لے آؤں گا۔ بعد میں وہ بغیر پیسے دئے ٹی وی لے آیا اور آ کر مجھے سمجھایا کہ جس طرح آپ بات کرتے ہیں یہ 'آ بیل مجھے مار' کے مترادف ہے۔ میں بحث کرنے لگا کہ ہمیں اپنے ملک کو ٹیکس اور کسٹم دینا چاہیے تو اس نے جواب دیا کہ میں کئی برس سے ایئرپورٹ پر کام کر رہا ہوں، یہاں کوئی بھی درست کسٹم دیتا ہے نہ کوئی لیتا ہے۔ اگر آپ جائز کسٹم کی بات کریں گے تو آپ کو خوار ہونا پڑے گا اور جو رسید آپ کو ملے گی وہ بھی جعلی ہوگی۔ اس طرح کسٹم کی رقم حکومتی خزانے میں نہیں پہنچے گی۔
اس دن کے بعد میں نے تو فیصلہ کر لیا تھا کہ باہر سے کوئی ایسی چیز لانا ہی نہیں جس پر کسٹم لگتا ہو۔ ہم سب کچھ اپنے ملک سے ہی خرید سکتے ہیں، نہ کسٹم والی چیز لائیں گے نہ کسی کو ناجائز فائدہ اٹھانے دیں گے۔ اسی طرح میں تو لاہور میں جب کچھ خرید کرتا ہوں اپنے بینک کارڈ سے ادائیگی کرتا ہوں۔ تاکہ یہ سب رجسٹر ہو اور لوگ ٹیکس دیں۔ مگر اس میں بھی اکثر مشکل پیش آتی ہے کیونکہ دکاندار کارڈ سے پیسے لینے میں لیل و لعت سے کام لیتے ہیں۔ کئی تو یہ کہتے ہیں کہ ہماری مشین خراب ہے اور کچھ کارڈ پر اعتراض کر دیتے ہیں۔ لیکن میں نے بھی کبھی اپنی ضد نہیں چھوڑی اور کئی بار سامان کی ٹرالیاں بھری چھوڑ کر دوسری دکان پر چلا جاتا ہوں۔
کئی بڑے دکانداروں نے اپنے ہاں بینک اے ٹی ایم لگوا رکھے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ رقم اے ٹی ایم سے نکلوا لیں۔ یہ سب ٹیکس چوری کے طریقے ہیں۔ راقم ٹیکس چوری پر ایک الگ کالم لکھے گا اور اس بابت اپنے دوست کالم نگار یاسر پیرزادہ صاحب سے پوچھے گا کہ کیا یہ ٹیکس چوری روکنا ناممکن ہے؟ یاسر صاحب آج کل تو پاکستان اسپورٹس بورڈ کے سربراہ ہیں لیکن اصل میں وہ انکم ٹیکس کمشنر ہیں۔
آخر میں عرض یہ کرنا ہے کہ حکومت چاہے تو ہر طرح کی چور بازاری کو روک سکتی ہے، مگر حکومتیں خود چور ہوتی ہیں۔ اگر کسی حکمران کو ملک، عوام اور آنے والی نسلوں کا خیال ہو تو وہ اس نظام کو بدلے۔