عوام جناح تھرڈ کیلیے کیوں نکلیں؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 16 / جولائی / 2025
پی ٹی آئی ان دنوں ایک مرتبہ پھر دو برسوں سے اڈیالہ جیل میں بند، اپنے بانی رہنما سابق کھلاڑی، کی رہائی کے لیے تحریک چلانے کا عندیہ ظاہرکررہی ہے۔ لیکن آپسی اختلافات انتشار کی صورت سامنے آرہے ہیں۔
احتجاجی تحریک ہی کے حوالے سے اس وقت پی ٹی آئی میں واضح طور پر دو دھڑے یا گروپ ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں جن کی پشت پناہی پنجاب پی ٹی آئی کی قیادت اور بڑی حد تک صعوبتیں جھیلے والے کارکنان کر رہے ہیں۔ انہی کے بقول دوسری طرف چُوری کھانےوالے یا اقتدار کے مزے لوٹنے والے لیڈران ہیں جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ انہیں اس حوالے سے کوئی خاص پریشانی نہیں ہے کہ جس کے صدقے انہیں لیڈری کی یہ پہچان ملی ہے، اس کی رہائی کے لیے ان میں وہ بے چینی و بے تابی نہیں جو پی ٹی آئی کے عام ورکرز میں پائی جاتی ہے۔ اور وہ کسی بھی صورت اپنے بانی کو جیل سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے غم و غصے کا ٹارگٹ بالعموم کے پی کے چیف منسٹر علی امین گنڈاپور بن جاتے ہیں۔
سچائی سے ملاحظہ کی جائے تو ان بدترین حالات میں علی امین گنڈا پور نے خود کو ایک منجھا ہوا پریکٹیکل سیاستدان ثابت کردیا ہے۔ کے پی میں ان کی حکومتی کارکردگی کو خراب ثابت کرنے کے لیے ایک سو ایک اعتراضات کیے جاسکتے ہیں لیکن حالات کے جس تنے ہوئے رسے پر وہ چل رہے ہیں، ان کی حکومتی صلاحیت کو ثابت کرنے کے لیے یہی کچھ کم نہیں۔ ایک طرف وہ اپنے خود پسند شکی مزاج لیڈر اور اس کی آؤٹ سپوکن بہنوں کا اعتماد لیے ہوئے ہیں تو دوسری طرف کامیابیوں کے گھوڑوں پر سوار ہماری منہ زور اسٹیبلشمنٹ کو بھی وہ اچھا خاصا رام کیے ہوئے ہیں۔ اور نہیں تو حیلوں بہانوں سے مواقع پیدا کرتے ہوئے وہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنے لیڈر جناح تھرڈ کی رہائی کا مطالبہ پہنچاتے ہیں۔ اس حوالے سے جس قدر گنجائش ممکن ہوئی ہے، وہ اپنے دلائل بھی پیش فرماتے ہیں۔ اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ بدگمانی اور ناتوانی کے بیچوں بیچ وہ رستہ بنانے کے لیے ضرور کوشاں ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ یہاں عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب والا معاملہ ہے۔
مہربانوں نے جناح تھرڈ کو سبق سکھانے کے لیے شاید ہی کوئی کسر باقی رہنے دی ہے۔ سپیشل سیٹوں کا آخری کیل بھی ٹھوکا جاچکا ہے۔ ہمارا جوڈیشل سسٹم بھی پوری کسمپرسی سے اپنی پون صدی پر محیط تاریخ دہرا رہا ہے۔ غیبی عالمی امداد کی جو امیدیں تھیں، مودی کی بے حسی اور ٹرمپ کی طوطا چشمی سے وہ بھی بڑی حد تک آبنائے ہرمز میں ڈوب چکی ہیں۔ اگلوں نے جس کے کان مروڑنے تھے اسے وائٹ ہاؤس میں لنچ پر بلالیا ہے۔
ایسے میں جائیں تو جائیں کہاں؟ کریں تو کریں کیا؟ڈوبتے کو تنکے کا سہارا بھی نہیں رہا۔ ہاں البتہ امید کی آخری کرن عوام ہی ہیں جن کے ایک حصے میں جناح تھرڈ کی محبت تعویذ کی طرح گھول کر پلا دی گئی ہے۔ لیکن خالی محبتوں سے حاصل حصول کیا ہوتا ہے؟ جب تک کہ اندر سے کوئی اشارہ کنایہ نہ ہو، کوئی آنکھ مچولی نہ ہو جس کی گنجائش سانحہ 9 مئی کی شتابی نے راکھ کی چنگاری جتنی بھی نہیں چھوڑی ہے۔ کن آشاؤں کے ساتھ یہ بھاری پتھر اٹھایا تھا لیکن صد حیف سارے بانس الٹے ہوکر بریلی کو چلے گئے۔
اب سوشل میڈیا میں براجمان لال بجھکڑ روز نت نئی فیک نیوز اڑاتے رہتے ہیں، اس امید پر کہ دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ کبھی ہوائی اڑائی جاتی ہے کہ نوازشریف کی جمہوریت نوازی نے ان کی ذہنی کایا پلٹ کردی ہے اور وہ قیدی نمبر 804کو ملنے جلد اڈیالہ جیل یاترا کا پروگرام بنارہے ہیں۔ ارے بھلے مانسو! تم نے اس معصوم پر جتنا کیچڑ پھینکا ہے، اس کے بعد کیا اسے اس قابل رہنے دیا ہے کہ وہ کھلاڑی کے سٹیج سے گرنے کی طرح اظہارِ ہمدردی کرتے اپنی روایتی معصومیت کے ساتھ وہاں جاپہنچے۔ سچ ہی کہتے ہیں بندہ کسی کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے کم از کم کمینگی کی حدتک نہ جائے۔ افسوس کہ آپ لوگوں نے اپنے اچھے وقتوں میں ہر حد کو پار کر ڈالا۔
اب ذہنی کسمپرسی و عملی بدحالی اس پاتال تک پہنچ چکی ہے کہ لندن سے انگلش سپیکنگ دو شہزادے آئیں گے اور عوام کالانعام ان کی محبت میں دیوانہ وار اٹھتے ہوئے پاگلوں کی طرح گھروں سے باہر نکل پڑیں گے۔ یوں 77 میں بھٹو کے خلاف تحریک کا سماں بندھ جائے گا۔ میرے پیارے شیخ چلی صاحبان! اپنے اس ادھیڑپن سے باہر نکلیے، ایک طلاق یافتہ ماں کے بچوں سے ایسی لمبی چوڑی امیدیں باندھنے سے قبل اپنے لیڈر جناح تھرڈ کی اکھڑ مزاجی پر ہی ایک نظر ڈال لیجئے۔ وہ مغربی ماحول کے بچے اپنے جیسے تیسے ابا کو دیکھنے یا اس کے متھے لگنے ہی آجائیں تو کھلاڑی کی کچھ نہ کچھ منہ رکھی ہوجائے گی۔ لیکن پانچ اگست کی جس خام خیالی کے آپ لوگ نیندوں میں سپنے دیکھ رہے ہیں، ایسے کسی جعلی خواب کو ان کی اماں سورج کی کھلی و ننگی روشنی میں توڑ پھوڑ ڈالے گی۔ واقعی بندہ جب کوئی خیالی پلاؤ پکائے تو مصالحہ جات کی کمی ہوتی ہے نہ کوئی حد۔
براہِ کرم اس تلخ حقیقت کا ادراک فرمالیں کہ آپ کے لیڈر کی رہائی کے لیے اگر کوئی جان جوکھوں میں ڈالے گا تو وہ لندن سے آیا ہوا کوئی امیر کبیر بچہ نہیں بلکہ پاکستان میں غربت و افلاس کے مارے ہوئے کسی عام عوام کا شیدائی بچہ ہی ہوگا۔ لیکن اب یہ بیوقوف یا جنونی بھی کم از کم اتنی سی بات تو سمجھ ہی چکا ہے کہ اسے اگر اپنی جان لڑانی ہے تو اپنے مصائب، مسائل اور دکھوں کو دور کرنے کے لیے نہ کہ کسی اناپرست کو اقتدار کے سنگھاسن پر دوبارہ بٹھانے کے لیے۔
دوسری طرف اس غریب نوجوان کو 9مئی کے بعد اپنے ساتھ ہونے والے حسن سلوک کا کچھ نہ کچھ ادراک تو ہوچکا ہے۔ جب امیر یا بڑے لوگوں نے اس کو پہچاننے سے انکار کردیا تھا جن کے لیے یہ غریب اپنی جان پر کھیل گیا۔ مابعد 26نومبر کو اسے جس طرح ڈی چوک میں بے یارومددگار چھوڑکر لیڈرشپ اپنی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھتے رفوچکر ہوئی، پہلے اس کی یادداشت سے یہ کھرچیے۔ پھر 5اگست کی پٹی پڑھائیے۔ باایں حالات علی امین سچا ہے کہ 16اگست 46 جیسی کال کو وہ کیوں نہ ضیا الحق کے نوے دنوں تک پھیلادے تب کہیں دیکھاجائے گا کہ فیلڈ میں کونسا مارشل رہتا ہے یا پھر کون جیتا ہے تیری اڈیالہ سے واپسی تک۔
آخر میں تمام سیاسی پارٹیوں کی لیڈرشپ سے گزارش ہے کہ اگر وہ خود کو سیاستدان یا سیاسی کہتے ہیں تو خدارا ہٹلر ثانی بننے یا اس جیسی زبان استعمال کرنے سے گریز فرمائیں۔ افسوس اس وقت ہماری سیاست میں ایسے گھس بیٹھیے موجود ہیں جو خود کو سیاسی کہتے ہیں مگر بات کرتے ہوئے آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے ایک خاتون لیڈر محترمہ عالیہ حمزہ کے متعلق بات کرتے ہوئے جو توہین آمیز الفاظ بولے اور جو بُرا لب و لہجہ اپنایا، وہ کسی بھی سیاسی بندے کے شایانِ شان نہیں۔ اگر پارٹی لیڈرشپ میں دم خم ہوتا تو اسی روز سیکرٹری جنرل کے عہدے پر کسی مہذب اور ذمہ دارشخص کو لایا جاچکا ہوتا۔