خودی کا سودا
- تحریر حامد میر
- جمعرات 17 / جولائی / 2025
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی گیس کن ممالک کے پاس ہے؟ قدرتی گیس کے سب سے زیادہ ذخائر روس، ایران اور قطر کے پاس ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ تیل کے سب سے بڑے ذخائر کن ممالک کے پاس ہیں؟ سب سے زیادہ تیل و نیزویلا، سعودی عرب اور کینیڈا کے پاس ہے۔
چوتھے نمبر پر ایران اور پانچویں نمبر پر عراق ہے۔ پاکستان کا ہمسایہ ملک ایران گیس اور تیل کی دولت سے مالا مال ہے، دونوں ممالک کے درمیان 900 کلو میٹر لمبا بارڈر ہے ۔ پاکستان طویل عرصے سے گیس اور تیل کی قلت کا شکار ہے ۔ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود گیس اور تیل کی قلت پاکستانی معیشت کی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1995 میں ایران سے سستی گیس خریدنے کے ایک منصوبے پر بات چیت شروع کی اور ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کے ساتھ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ شروع کرنے کی ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے ۔ 1996 میں ان کی حکومت کو برطرف کر دیا گیا اور یہ منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا ۔ 2008 میں آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو اس منصوبے کو فائلوں سے باہر نکالا گیا ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک طرف ایران سے سستی گیس اور تیل خریدنے کا فیصلہ کیا، دوسری طرف امریکا کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر بنانے پر توجہ دی کیونکہ ایران کے ساتھ لین دین کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ امریکی پابندیاں تھیں۔ کچھ ہی عرصے میں صدر آصف علی زرداری کو احساس ہوا کہ ایران سے گیس خریدنے پر صرف امریکا نہیں بلکہ سعودی عرب کو بھی تحفظات ہیں۔
پاکستان کسی بھی صورت سعودی عرب کو ناراض نہیں کر سکتا تھا لہٰذا صدر آصف علی زرداری نے چین کی تائید سے ایران اور سعودی عرب میں مفاہمت کیلئےکوششوں کاآغاز کیا۔ جون 2011 میں صدر زرداری ایران گئے انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت الله علی خامنہ ای کے ساتھ ایک طویل اور ون ٹو ون ملاقات کی ۔ ایک ماہ کے اندر اندر جولائی 2011 میں صدر زرداری نے ایران کا ایک اور دورہ کیا اور خامنہ ای کے ساتھ پھر طویل ملاقات کی۔ دوسری طرف چین کی حکومت نے سعودی عرب سے بیک ڈور ڈیلو میسی شروع کی جس کے بعد ایران اور سعودی عرب میں ڈیڈ لاک ختم ہوا تو 2013 میں صدر زرداری نے ایرانی صدر احمدی نژاد کے ہمراہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا افتتاح کر دیا ۔
کچھ عرصے کے بعد نواز شریف وزیرا عظم بن گئے اور زرداری صاحب کی پہلی ٹرم ختم ہو گئی ۔ نواز شریف پربہت دباؤ آیا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پراجیکٹ سے نکل آئیں ۔ انہوں نے اس پراجیکٹ پر خاموشی اختیار کرلی اور قطر سے گیس خریدنی شروع کر دی۔ 2018 میں عمران خان وزیر اعظم بن گئے ۔ انہیں بھی مشورہ دیا گیا کہ ایران سے تجارت کا خیال دل سے نکال دیں ۔ انہوں نے بھی یہ منصوبہ ختم کرنے سے انکار کر دیا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ 2009 کے بعد پاکستان کی ہرسیاسی حکومت کو ایران سے گیس خریدنے سے منع کیا گیا لیکن کسی حکومت نے یہ منصوبہ ختم نہیں کیا ۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ جب بھی کوئی پاکستانی حکومت گیس اور تیل مہنگا کرتی ہے تو عوام اُسے بد دعائیں دیتے ہیں ۔ سیاسی حکومتیں محض امریکا کی خوشنودی کیلئے ایسا منصوبہ ختم نہیں کر سکتیں جس سے پاکستان عوام کو فائدہ ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور ایران نے جب گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا آغاز کیا تواس میں کسی تنازعے کی ثالثی کیلئے فرنچ لا کے تحت قائم ایک عالمی عدالت کو ثالث بنایا گیا۔ پاکستان اس معاہدے سے نکل جاتا تو اسے کم از کم 18 ارب ڈالر ادا کرنے پڑتے ۔ اس معاہدے پر اتفاق رائے 1995 میں ہوا ۔ باقاعدہ آغاز 2009 میں ہوا۔ افتتاح 2013 میں ہوا اور 2024 میں اسے ہر صورت مکمل کرنا تھا ۔
2022 میں شہباز شریف وزیر اعظم بنے تو ملک بدتر ین معاشی بحران کا شکار تھا ۔ ڈیفالٹ کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا ۔ پاکستان کبھی چین اور کبھی سعودی عرب سے قرض لے کر ڈیفالٹ سے بچ رہا تھا ۔آئی ایم ایف سے معاہدے کی کوشش کی جا رہی تھی اور اس صورتحال میں امریکا کو ناراض کرنا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر خاموشی اختیار کی گئی ۔ مارچ 2023 میں ایک بڑا بریک تھرو ہو گیا ۔ ایران اور سعودی عرب میں مفاہمت کی کو ششیں کامیاب ہو گئیں اور چین نے دونوں ممالک میں صلح کروا دی ۔ کسی کو یاد نہ تھا کہ ایران اور سعودی عرب میں دوستانہ تعلقات کی بحالی کیلئے کوششوں کا آغاز کب اور کس نے کن مقاصد کیلئے کیا تھا۔
بہرحال بیجنگ میں ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کے فوری بعد مئی 2023 میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران سے سستی بجلی خریدنے کے ایک معاہدے پر دستخط کر دئیے۔ خیال تھا کہ اب ایران سے گیس خریدنے کے پراجیکٹ کو بھی مکمل کرلیا جائے گا لیکن امریکا نے صاف صاف بتا دیا کہ ایران سے گیس خرید نے کا مطلب پاکستان پر اقتصادی پابندیوں کا آغاز ہوگا ۔ پاکستان نے امریکی دھمکیوں کے باعث اس منصوبے کو پھر التوا کا شکار کر دیا لیکن دوسری طرف ایران کی حکومت بے چین ہو رہی تھی ۔ معاہدے کے مطابق ایران اپنے حصے کی پائپ لائن بچھا چکا۔ اب باقی کام پاکستان نے کرنا تھا اور اگر مارچ 2024 تک پاکستان اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کرتا تو پھر ایران نے پاکستان کو لیگل نوٹس دینا تھا اور اگر ایران لیگل نوٹس نہ دیتا تو ستمبر 2024 کے بعد اُسے نوٹس دینے کا اختیار بھی نہ رہتا۔
ایران نے نوٹس دے دیا جس کے بعد امریکی اور بھارتی میڈیا میں دھوم مچ گئی کہ اب پاکستان نے ایران کو 18 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، نوٹس ملنے کے بعد پاکستان نے فرنچ عدالت میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کی تیاری شروع کردی لیکن اس دوران ایران پر اسرائیل نے حملہ کردیا۔ خلاف توقع پاکستان اور سعودی عرب نے ایران کی بھرپور سفارتی حمایت کی۔ طویل عرصے کے بعد پاکستان اور ایران کے تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوگئی۔ چند دن قبل آذربائیجان میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہمیں گیس پائپ لائن پراجیکٹ کے معاملے پر مزید قانونی کارروائی سے روک دیا ہے۔ اور بات چیت کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے فوری طور پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی جو یہ معاملہ جلد از جلد طے کرے گی۔
سوال یہ ہے کہ اگر یہ معاملہ بات چیت سے طے نہیں ہوتا تو معاہدے کے مطابق معاملہ پھر سے فرنچ عدالت میں جائے گا اور اگر وہاں فیصلہ پاکستان کے خلاف آگیا تو 18 ارب ڈالر کا جرمانہ کیسے ادا ہوگا؟ کیا امریکا یہ جرمانہ ادا کرے گا؟ حکومت ہر دوسرے تیسرے مہینے کبھی پٹرول اور کبھی گیس مہنگی کر کے عوام سے گالیاں سنتی ہے۔ کیا ایران سے سستی گیس، سستا پٹرول اور سستی بجلی خرید کر عوام کو ریلیف نہیں دی سکتی؟ جہاں تک امریکا کی پابندیوں کا خطرہ ہے تو پھر فیصلہ کرلیں کہ اپنی خودی کو بلند کرنا ہے یا 18 ارب ڈالر ادا کرنا ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )