اوسلو کا گرونلاند
- تحریر خالد محمود اوسلو
- جمعہ 18 / جولائی / 2025
گرونلاند اوسلو شہر کے مرکز میں واقع ہے اور تارکین وطن کی سماجی اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز ہونے کے ناطے معروف کثیرالثقافتی علاقہ ہے۔ آج سے کوئی چار سو سال قبل یہ علاقہ اوسلو کے ساحل سمندر کا حصہ تھا جو بتدریج ارتفاع زمین اور بیورویکا میں باندھےگئے بند کے نتیجہ میں خشکی میں تبدیل ہو گیا۔
خشکی کا حصہ بننے کے بعد موسم بہار میں یہاں کا ہر کونا ہریالی سے ڈھک جاتا اور ہر طرف سبزہ دکھائی دیتا اور اسی سے اس علاقے کا نام ماخوذ ہوا یعنی Grønland جس کے اردو معنی سبزہ زار کے ہیں۔ یہ علاقہ سترہویں صدی کے آغاز تک کسی خاص اہمیت سے محروم تھا۔ لیکن 1624 میں گاملے بھیین کےمقام پر آباد پرانا اوسلو شہر جب آگ سے جل کر خاکستر ہوا تو پھر اس کو نئی جگہ پر آباد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دریا آکر Akerselva کے مغرب میں موجودہ شاہی قلعہ کی جگہ کا انتخاب کیا گیا۔
نئے شہر کو اس وقت کے بادشاہ کرسچیان چہارم سے منسوب کرتے ہوئے کرسچیانیا کا نام دیا گیا۔ شہر کی دریائے آکر کے مغرب میں منتقلی دفاعی حکمت عملی کا نتیجہ تھی کیونکہ اوسلو پر بیشتر حملہ آور مشرق کی جانب سے آتے تھے۔ لہذا دریائے آکر دفاعی حصار کا تصور ٹھرا۔ نئے شہر کا مشرق کے ساتھ رابطے کا واحد ذریعہ گرینرلوکا Grunnerløkka کا پُل تھا۔ جس سے شہر کی رسائی کافی دشوار سمجھی جاتی تھی۔ لہذا شہر و مشرقی مضافات سے ملانے کے لیے 1654 میں واترلانڈ Vaterland کے مقام پر نیا پُل تعمیر کیا گیا اوراس سے منسلک شاہراہ گرون لینڈ اور گرون لاندلائیرے
Grønlandsleiret۔ grønlandsgate
تعمیر ہوئے جو اس نئے پل سے شہر کے رابطے کی اہم اور مرکزی شاہراہ بنے۔
اور اگر آج بھی غور کیا جائے تو اوسلو کے مغرب سے گرو نلاند تک رسائی کی اہم شاہراہ یہی ہے۔ اس پُل سے لے کر تھوئین بیکن Tøyenbekken تک سڑک کے دونوں اطراف شاہی محل کی ملکیت تھی جہاں پر فوج کے سپاہی دستکار اور بارود کے کاریگر آباد کیے گئے ۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ راستہ اہم حثیت اختیار کر گیا اور جلد ہی معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ نئے شہر میں اجناس کی آمدورفت اسی واترلاند پُل سے ہوتی تھی اور یہاں پر شہر کوجانے والی اشیأ پر ٹیکس کے لیےمحصول چونگی بھی قائم تھی۔ بیشتر کسان محصول سے بچنے کے لیے گرون لاند پر ہی اپنے ٹھیلے لگا لیتے جہاں پر کرسچیانیا کے شہری خریداری کے لیے پہنچ جاتے۔ گرونلاند کا علاقہ جلد ہی زرعی اجناس کی خرید و فروخت کے ساتھ مویشیوں کے کاروبار کا مرکز بن گیا۔ گرونلاند تھورگ Grønlandstorg پر اوسلو کی سب سے بڑی منڈی مویشیاں قائم ہوگئی جہاں مویشیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ہوتا تھا ۔ لیکن اس علاقے کی شہرت اچھی نہ تھی ۔ یہاں پر اوسلو کا بدنام زمانہ جسم فروشی کا بازار بھی آباد تھا جو سمال گانگن smalgangen کے کوچہ میں تھا۔ آج بھی تعمیرنو کے بعد یہاں ایک خیابان کو سمال گانگن smalgangen کا نام دیا گیا ہے۔ جسم فروشی کے کاروبار کا زیادہ تر انحصار شہر کے اُمرا اور زرعی اجناس کو فروخت کرنے کے لیے آنے والےکسانوں پر تھا۔
شاید اسی لیے یہاں سے نارویجن زبان کی اصطلاح بھوندے فانگت bondefanget تشکیل پائی، جسے کسان کا شکنجہ کہا جاسکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسان اپنا مال اور مویشی بیچ کر جیبیں بھر لیتے تو یہاں آباد عشرت کدوں کے مالکان ان سادہ لوح کسانوں کو ورغلا کر شراب و شباب ک ےسحر میں پھنساتے اور ان کے سارے پیسےہتھیا لیتے۔ یہ کسان خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتے۔ اس علاقے کی خراب شہرت کی وجہ سے شہر کی اشرافیہ اس کے قریب رہائش پذیر ہونے سے کتراتی تھی جس کی وجہ سے یہ علاقہ ہمیشہ پسماندہ اور کم مراعات یافتہ طبقے کا مسکن رہا۔ اس علاقے میں رہائش پذیر افراد کرایہ دار ہوتے تھے اور مالکان مکان خود یہاں نہیں رہتے تھے۔
گرونلاند کو 1859 میں باضابطہ طور پر درالحکومت کرسچیانیا کا حصہ بنایا گیا اور اس کے ساتھ ہی یہاں پر کچھ بڑی عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ 1869 میں گرونلاند کا کلیسا تعمیر کیا گیا جس کو عرصہ دراز تک اوسلو کے سب سے بڑے کلیسا کا اعزاز حاصل رہا۔ یہاں ہی اوسلو کی پہلی اصلاحی جیل botsfengsel تعمیر کی گئی جہاں پر قیدیوں کو ایک دوسرے سےعلیحدہ رکھا جاتا تھا تاکہ وہ دوران قید ایک دوسرے کےمنفی اثرات سے محفوظ رہیں اور ان کو راہ راست پر لایا جاسکے۔ یہاں پر اوسلو کا فائیر برگئیڈسٹیشن 1869 میں تعمیر کیا گیا۔ یہاں کی چوتھی قدیم عمارت آسیلے Asylet ہے۔
یہ قدیم عمارتیں آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں اور ان میں سے تین عالیشان عمارتیں کسی خاص عوامی تصرف و افادیت کے قابل بنائےجانے کی منتظر ہیں۔ آج کا گرولاند ایک گنجان آبادی میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس کی شناخت کثیرالثافتی و کثرالمذہبی معاشرہ کی آئینہ دار ہے۔ مرکزی حکومت کے کئی اہم اداروں کے علاوہ بڑی تعداد میں مساجد کے ساتھ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہیں اور تارکین وطن کی مختلف دکانیں اور کھانوں کے مراکز اب گرون لاند کی زینت ہیں۔ اس علاقے کی تعمیرنو پر کئی گلی کوچے پرانے تاریخی کرداروں کے نام سے منسوب ہیں جن میں ایک مرکزی جگہ کا نام اولافیا olafiaplassen ہے۔
اس نام کا تعلق آئس لینڈ کی خاتون olfia johannesdatter سے ہے۔ وہ جسم فروشی سے وابستہ نادار اور غربت کی شکار خواتین کی امداد کی خاطر اس علاقے میں رہائش پذیر ہوئی تھی۔ اور معاشرے کی دھتکاری ہوئی بے گھرخواتین کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول کر انہیں جنسی امراض کے علاج کی سہولیات کے ساتھ ہر ممکن مدد مہیا کی۔ اپنے وقت میں وہ اوسلو کی سب سے معروف خاتون تھی جو ناداروں کی دستگیری کی شہرت رکھتی تھی۔ اس کی ان خدمات کے اعتراف میں واترلاند پارک کے اندر اس کا مجسمہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
گرون لاند آج انتہائی پُررونق اور مخصوص پہچان کا حامل بن چکا ہے جس کی فضا مصالحوں کی خوشبو سے ہمہ وقت مہکتی رہتی ہے۔