سفارت کاری میں نئے امکانات
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 19 / جولائی / 2025
سفارت کاری پر نظر رکھنے والی ریاست ہی اپنے لیے نئے سیاسی امکانات کو پیدا کرتی ہے۔ وہ ہی آج کی گلوبل دنیا سے جڑی سیاست میں اہمیت رکھتی ہے۔ آج دو بنیادوں پر مفادات حاصل ہوتے ہیں۔ اول، سیاسی، معاشی و داخلی استحکام اور دوئم، سفارت کاری میں مثبت چہرہ۔
حالیہ پاک بھارت کشیدگی یا ایران اور اسرائیل تنازعہ کے بعد پاکستان کی اہمیت اور ریاستی تشخص کو دنیا کی سیاست میں اہمیت ملی ہے۔ ہمارے بارے میں شکوک و شبہات یا غلط فہمیاں کافی حد تک دور ہوئی ہیں ۔ پاکستان کا تشخص اب عالمی بالخصوص علاقائی سیاست میں بھارت کے مقابلے میں توازن اور برابری کی بنیاد پر سامنے آیا ہے۔ حالیہ کشیدگی میں جو توازن پر مبنی پالیسی پاکستان نے اختیار کی، اس نے بھارت کو سفارت کاری کے محاذ پر پسپائی پر مجبور کیا۔ اور ہمیں بطور ریاست سفارت کاری کے نئے مواقع دیے ہیں۔ ان کی بنیاد پر ہم اپنی ریاست اور حکومت کا سیاسی قد عالمی اور علاقائی سطح پر بڑھا سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان موجودہ حالات میں علاقائی اور جغرافیائی سیاست میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور اس کی حیثیت ایک پرامن ریاست کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ کوشش کی کہ وہ علاقائی اور عالمی سیاست میں پاکستان کو تنہا کرے، اسے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والی ریاست کے طو ر پر دیکھا جائے۔ مگر پہلگام واقعہ کے بعد سے لے کر اب تک بھارت کی پاکستان مخالف مہم جوئی اورسفارت کاری ،یں اختیار کی جانے والی منفی سرگرمی داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ناکام ہوئی ہے ۔ اس ناکامی نے بھارت کو نہ صرف سیاسی تنہائی میں مبتلا کیا ہے بلکہ اس کی داخلی سیاست بھی تنقید کی زد میں ہے۔
دنیا میں بھارت کے اس بیانیہ کو کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے، کسی بھی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا ۔ بھارت کے بیانیہ کے مخالف پاکستان کی حمایت میں جو بیانیہ سامنے آیا ہے، وہ یقینی طور پر خطہ سمیت دنیا میں بھارت کی مشکلات کو بڑھانے کا سبب بنا ہے۔ بھارت میں یہ رائے مضبوط ہورہی ہے کہ نریندر مودی کی پاکستان مخالف مہم نے بھارت کا دنیا میں سیاسی مقدمہ کمزورکیا ہے۔
پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حالیہ بہت سے علاقائی معاملات میں اپنے کارڈ بہت اچھے کھیلے ہیں اور اس نے اسٹرٹیجک سطح پر خود کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا ہے۔
ایک طرف بھارت کے مقابلے میں سیاسی ، دفاعی اور سفارت کاری میں برتری کا پہلو تو دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی اور نئے مثبت تعلقات کا سامنے آنا ، پاکستان کے لیے چین کا اسٹرٹیجک پارٹنر بننا، افغانستان سے بہتر ہوتے تعلقات اور مڈل ایسٹ کی سیاست میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ظاہر کرتی ہے کہ ہم دنیا اور علاقائی سیاست میں ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف اور مثبت جگہ پر کھڑے ہیں۔ پاکستان بنیادی طورپر عالمی اور علاقائی سطح پر اپنے لیے نئے سیاسی، سفارتی اور معاشی امکانات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
پاکستان کے لیے عالمی سیاست میں نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ دنیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اب ایک نئے انداز میں دیکھ رہی ہے جو بطور ریاست پاکستان کے لیے خوش آئند پہلو ہے۔ بالخصوص پاکستان کے بارے میں دنیا میں یہ رائے مثبت بنی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کی اہم ترجیحات کا حصہ ہے۔ اسی طرح دنیا میں اس بات کو بھی اہمیت ملی ہے کہ پاکستان نے ایران اسرائیل تنازعہ کے خاتمہ میں بھی سفارت کاری کی بنیاد پر اہم کردار ادا کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ بہتر تعلقات اور روس کے ساتھ نئے امکانات جہاں ہمارے لیے سودمند ہے، وہیں بھارت کو اس بات پر پریشانی ہے کہ پاکستان عالمی اور علاقائی تعلقات میں نئے رشتے استوار کررہا ہے جو بھارت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے ۔
ان حالات میں بھارت کی ایک نئی مشکل یہ بھی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تسلسل کے ساتھ پاک بھارت تنازعہ میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کی پیش کش کر رہے ہیں۔ جو بھارت کو قبول نہیں بلکہ اس کے لیے یہ سفارت کاری کے محاذ پر ایک بڑا جھٹکا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ سفارت کاری کو بنیاد بنا کراپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں اپنا مقدمہ مضبوط کرے۔ ہمیں دنیا کے تحفظات کو دور کرنا ہوگا کہ پاکستان دہشت گرد نہیں بلکہ ایک پرامن ریاست ہے جو تنازعات کو جنگوں کی بجائے بات چیت کی مدد سے حل کرنا چاہتا ہے ۔
آج کی دنیا بیانیہ کی دنیا ہے اور جو ملک دنیا میں اپنا بیانیہ مثبت طور پر پیش کرے گا، اسی ملک کا بیانیہ قابل قبول ہوگا۔ ہمیں فعال سفارت کاری کے لیے ایسے لوگوں پر انحصار کرنا ہوگا جو عالمی سطح پر ہمارا تشخص مثبت بنا سکیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنے داخلی نظام کو بھی درست کرنا ہے اور اس میں موجود سیاسی ، معاشی، سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ اگرچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو اس بات کا ادراک بھی ہے کہ دنیا ہم سے کیا چاہتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ میں ریاستی اقدامات میں کافی سنجیدگی بھی نظر آتی ہے۔
پاکستان کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ داخلی استحکام اور سلامتی کے بغیر ہم سفارت کاری کے محاذ پر بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ سفارت کاری کے عمل میں محض جذباتیت سے ہم کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ قومی سطح پر سیاسی تقسیم ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے ۔ سیاسی تقسیم کے پہلو کو نظرانداز کرنے کی پالیسی سے پاکستان سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہوسکتا۔ اصل چیلنج ادارہ جاتی مضبوطی کا ہے۔
اگر پاکستان نے داخلی، علاقائی اور عالمی سیاست میں موجود نئے امکانات سے فائدہ اٹھانا ہے تو ہمیں ماضی کی پالیسیوں سے باہر نکل کر کچھ نیا کرنا ہے۔ جب تک ریاست اور حکومت کے تمام فریق مل کر کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار نہیں کریں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ ہم ان نئے امکانات سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)