عوام کے مسائل اور حکمران
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 19 / جولائی / 2025
ہماری قومی معیشت ڈیفالٹ ہونے سے بچالی گئی ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق معاشی ابتری کی رفتار پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یعنی معیشت جس تیزی سے گِر رہی تھی اس پر قابو پالیا گیا ہے۔ لیکن بہتری کے سفر کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔
عمرانی دور حکمرانی ایک بھیانک خواب کے طور پر گزر چکا ہے، اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے کافی تگ و دو کے ساتھ بگڑے ہوئے معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ ان کاوشوں کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔سب سے بڑا نتیجہ منفی تاثر کی تبدیلی ہے۔ پہلے تاثر یہ تھاکہ معیشت کا کوئی والی وارث ہی نہیں ہے ،وہ آٹو پر چل رہی ہے۔ عالمی ساہوکاروں کی ناراضی کے بعد معاملات دگرگوں ہوئے بلکہ اس سے پہلے ہی معاملات میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا۔ تاثر یہاں تک بگڑ گیا تھاکہ ڈالر کی قیمت 500روپے تک پہنچنے کی باتیں شروع ہو گئی تھیں۔ شہبازشریف و اتحادیوں کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے معاملات کو اس حد تک جانے سے روک دیا ہے۔ڈالر کی اڑان قابو میں آ چکی ہے۔ ویسے ڈالر اب بھی بلند سطح پر کھڑا ہے لیکن اب اس کی بلندی مستحکم ہے کہیں بے قابو نظر نہیں آ رہی۔
عالمی ساہوکار پاکستان سے خوش ہیں کیونکہ حکمران ان کی ہدایات کے عین مطابق معاملات چلا رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم مان لیتے ہیں اور وہ جیسے کہتے ہیں ہم ویسے ہی کرتے ہیں۔ عالمی زرعی و مالیاتی ادارے ہماری معیشت بارے اچھی خبریں دے رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں بہتری اور بڑھوتی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف عوامی معیشت ہے جو مشکلات میں گھری ہوئی نظر آ رہی ہے۔ عوام میں کسی سطح پر بھی ،کسی طبقے میں بھی اطمینان نہیں پایا جاتا۔ قومی معیشت کی بہتری اپنی جگہ ہوگی۔ اعدادوشمار کچھ بھی بولتے ہوں لیکن جو کچھ صارف مارکیٹوں میں نظر آ رہا ہے اور یہی زمینی حقائق ہیں، وہ خوفناک نہیں، پریشان کن ہیں، اطمینان بخش نہیں ہیں۔ؤ
ہم نے کہا کہ حکومت نے عمرانی دور کا منفی تاثر بدلا یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ اب شہبازشریف اور اتحادی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں تاثر تبدیل ہو رہا ہے۔ مثبت سے منفی کی طرف جا رہا ہے۔ عام آدمی کو اپنے مستقبل کے بارے میں امید ہونا تو دور کی بات ہے ،وہ اپنے حال سے بھی مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے روزمرہ کے مسائل اس کے قابو سے باہر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اشیائےخوردونوش تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ مہنگائی کا طوفان بڑھ رہا ہے، ویسے مہنگائی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی،جس قدر وہ محسوس ہو رہی ہے۔اصل وجہ خرید کی قوت میں کمی ہے۔ حکومت نے ٹیکسوں کی اس قدر بھرمار کر دی ہے کہ عام آدمی کی آمدنی کا کثیر حصہ ان ٹیکسوں کی نظر ہو جاتا ہے۔ ماچس سے لے کر صابن،سرف اور تیل و دال کی خریداری پر ٹیکسوں کی ادائیگی کے ذریعے عام صارف اپنی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کر دیتا ہے۔ اس طرح اس کے پاس اپنی ضروریات کے لئے دستیاب مالی وسائل گھٹ جاتے ہیں۔
سب سے زیادہ غیرمنصفانہ اور ظالمانہ وصولیاں بجلی اور گیس کے بلوں پر ہوتی ہیں۔ بجلی کے بلوں میں صارف 13کے قریب مختلف ٹیکس ادا کرتا ہے۔ استعمال شدہ بجلی کی قیمت کے برابر بھی اسے ٹیکس ادا کرنا پڑتے ہیں۔ کئی بار تو ایسابھی ہوتا ہے کہ کئی ماہ پہلے استعمال شدہ بجلی، جس کی قیمت وہ پہلے ہی ادا کر چکا ہوتا ہے، کے بل کی مد میں بھی اسے اضافی ادائیگیاں کرناپڑتی ہیں۔ ہمارا نظام سو فیصد ظلم و استحصال پر مبنی ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال بجلی کے میٹر کا کرایہ ہے۔ صارف اس میٹر کی قیمت پہلے ہی ادا کر چکا ہوتا ہے لیکن اسے ہر ماہ اپنے ہی خرید کردہ میٹر کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ پھر 200یونٹ تک بجلی کی قیمت اور 201 سے نئے سلیب کا نفاذ،کس قدر احمقانہ اور ظالمانہ اپروچ ہے۔ عوام بلبلا رہے ہیں،چیخ و پکار مچا رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ عالمی منڈی میں قیمتیں گِر رہی ہیں، ان میں کمی آ رہی ہے،لیکن ہمارے ہاں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں۔ پٹرول کی قیمت ایک ایسا جادوئی آلہ ہے جو پورے نظام معیشت میں حرکت پیدا کردیتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہر شے کی قیمت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اشیاصرف بشمول اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس پر مستزاد ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ بجٹ 2025-26صرف اور صرف ٹیکس وصولیوں کا نام ہے قومی معیشت پر قرضوں کابوجھ ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ ایک عرصے سے ہم قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لئے بھی قرضہ لینے کی پالیسی پر گامزن ہو چکے ہیں۔ اس لئے قرضوں کا بوجھ ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔
ہم نے مئی میں ایک عظیم الشان کامیابی حاصل کی ہے۔ بھارت کو شرمناک شکست سے ہمکنار کیا ہے۔ جنگ کے اخراجات بھی تو کہیں سے پورے کرنے ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ ہم بھارت کے ساتھ ابھی تک حالتِ جنگ میں ہیں۔ بھارت اپنی شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔ نئی جنگ کی تیاری کررہاہے،اسلحہ دھڑا دھڑ خرید رہا ہے، اپنی شکست کا بدلہ لینے کی تیاری کررہا ہے۔ ہمیں بھی اپنے دفاع کی مقابلتاً تیاری کرنی ہے۔ اس کے لئے بھی پیسے چاہئیں۔ دفاع سب سے زیادہ اہم ہے۔ ملک ہوگا تو سب کچھ ہوگا۔اس کے علاوہ ہم فتنہ الخوارج کے ساتھ بھی مسلسل حالتِ جنگ میں ہیں، ہر روز معرکہ آرائی ہوتی ہے۔ ہمارے افسر و جوان قربانیوں کی لازوال داستان رقم کررہے ہیں۔ فوج کی موبلائزیشن بھی ایک مہنگا کام ہے۔ اس پر روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ قومی قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات ہمارے وسائل کا بہت بڑا حصہ لے جاتے ہیں ۔یہ اخراجات ایسے ہیں کہ ان میں کمی ممکن نہیں ہے ۔اس کے بعد سرکاری مشینری کو چلانے اور چلتا رکھنے کے لئے جو اخراجات ہوتے ہیں، ان میں کمی ہوسکتی ہے۔ لیکن ہمارے فیصلہ ساز ان میں کمی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ کس طرح اپنے اخراجات پر قومی مفادات کے لئے کٹ لگائیں گے۔ ہاں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کا خاتمہ انہیں اچھا لگتا ہے۔ اس پر فوری عمل درآمد بھی کر دیا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے بزرگ ملازمین کے مسائل میں اضافہ تو ہوگالیکن قومی بجٹ میں بہتری ہرگز نہیں ہوگی۔
سولر توانائی کے حصول کے لئے عامتہ الناس نے کاوشیں کیں ایک مارکیٹ معرض وجود میں آئی، کچھ لوگوں کو ریلیف ملنا شروع ہوا لیکن حکومت نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے سولر سیکٹر کا بھی بیڑہ غرق کرنا شروع کر دیا ہے۔ عوام نے خود ہی جو ریلیف لینے کی کوشش کی تھی ،حکومت اسے بھی زحمت بنانے پر تلی بیٹھی ہے۔ مجھے یقین واثق ہے کہ حکومت اپنی دیگر کاوشوں میں کامیاب ہو یا نہ ہو، اس میں کامیاب ہو جائے گی۔ کیونکہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جو پالیسی عوام کی تکالیف میں اضافہ کرتی ہے، وہ ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)