توہین مذہب، میڈیا اور قومی ضمیر

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے توہین  عدالت کے بے بنیاد مقدمات کے بارے میں دائر درخواستوں پر  کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کیا ان قوانین کا غلط استعمال تو نہیں ہورہا۔  البتہ ملک کے چند مذہبی رہنماؤں کے علاوہ  قومی میڈیا، تجزیہ نگار اور سماج سدھار  کا کام کرنے والے بیشتر عناصر منہ  میں گھنگھنیاں ڈالے ہوئے ہیں۔

یہ معاملہ دو پہلوؤں سے اہم اور قابل غور ہے۔ توہین مذہب کے نام پر  ملکی قوانین سخت ہیں اور ان کے تحت  کسی شخص پر الزام عائد ہونے کے بعد   اس کی ضمانت نہیں ہوسکتی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے شخص کو کسی عدالت سے انصاف کی توقع نہیں ہوتی کیوں کہ ملک میں توہین مذہب کے حوالے سے ایسا  سنگین اور اشتعال انگیز ماحول بنا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص اس بارے میں بات کرتے ہوئے خوف محسوس کرتا ہے۔ سب سے پہلا خوف تو مذہبی معاملات پر  عمومی کم علمی  کی بنیاد پر پیدا  ہوتاہے۔   بیشتر مسلمان ایسے معاملات میں کسی رائے کا اظہار کرنے سے گھبراتے ہیں کہ کہیں غلطی سے ان سے توہین مذہب یا توہین رسالت سرزد نہ ہوجائے۔ اس رویہ سے کم از کم یہ طے  ہوجاتا ہے کہ پاکستانی عوام توہین مذہب کی اجازت دینے کے حامی نہیں ہوسکتے۔ تاہم سب سے   بڑا خوف ان نام نہاد مذہبی گروہوں اور رہنماؤں نے پیدا  کیا ہے جو  توہین مذہب کو  جذباتی نعرہ بنا کر عام شخص تو کیا کسی  بھی جج یا حکومتی عہدیدار  کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں  تاکہ   شدت پسندی کی فضا کو اپنے سیاسی و سماجی مفادات کے لیے استعمال کرسکیں۔

اسی رویہ سے  اس معاملے کا دوسرا پہلو سامنے آتا ہے کہ  عام طور سے کوئی سخت قانون بنانے  کا مقصد لوگوں میں سزا کا خوف پیدا کرنا ہوتا ہے۔ تاکہ  اگر کوئی شخص توہین مذہب کا ارادہ کرتا بھی ہے تو قانون کی مقرر کردہ سزاؤں کے خوف سے وہ  ایسا جرم کرنے سے گریز کرے۔ قوانین عام طور سے معاشرتی اصلاح کے نقطہ نظر سے ہی بنائے جاتے ہیں۔ کوئی بھی نظام قانون عام شہریوں کو جیلوں میں بند کرکے کوئی مقصد حاصل نہیں کرتا۔ بلکہ چند لوگوں پر ایسی سختی کا مقصد باقی شہریوں کے لیے ایک مثال قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح  معاشرے میں کسی بھی قسم کے جرم کے خلاف  ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس اصول قانون کے تحت توہین مذہب کے قوانین کا بنیادی مقصد شہریوں کو پھانسی چڑھانا یا طویل مدت تک جیلوں میں بند رکھنا نہیں ہے بلکہ اس سے معاشرے میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ توہین مذہب ایک قبیح فعل ہے اور اس سے گریز کیا جائے۔  تاہم اگر کوئی قانون یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا اور اس کے نفاذ کے باوجود  کسی جرم میں کمی واقع نہیں ہوتی تو معاشرے کے نمائیندہ لوگوں کو  اس قانون  پر ازسر نو غور کرکے ایسی  تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں جن کے تحت ایک ناپسندیدہ صورت حال ختم ہوسکے۔

پاکستان میں چونکہ ایک منتخب پارلیمنٹ کام کرتی ہے اور تمام قانون سازی اسمبلیوں میں ہوتی ہے لہذا پاکستانی معاشرے میں کسی قانون  کی ناکامی کی صورت میں قومی اسمبلی میں ہی ا س معاملہ پر غور کرکے صورت حال سے  نمٹا جاسکتا ہے۔  لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ سابق فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے  دور میں توہین مذہب کے قوانین  میں سخت شقات شامل کرنے کے بعد سے  یوں لگتا ہے کہ  لوگوں میں ’خوف‘ کی بجائے   یہ ’حوصلہ‘ پیدا ہوگیا ہے کہ وہ سماج، ریاست اور مذہبی  اکثریت کو  چیلنج کریں۔ اعداد و شمار میں دیکھا جاسکتا ہے کہ  80 کی دہائی میں توہین مذہب پر سخت سزائیں مقرر کرنے کے بعد سے  ان ’جرائم‘ میں کئی گنا اضافہ ہؤا ہے۔ ترامیم سے پہلے بھی توہین مذہب کے قوانین موجود تھے لیکن قانون شکنی نہیں ہوتی تھی۔ البتہ جب بلاسفیمی پر سزائیں سخت کردی گئیں تو اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی۔ کسی نے اس صورت حال پر غور کرکے اس سنگین تبدیلی کا جواب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملک کے تمام مذہبی رہنما اس صورت حال پر تشویش  میں مبتلا ہوتے اور سماجی رجحان میں نوٹ کی جانے  والی اس تبدیلی کی روشنی میں خود حکومت یا پارلیمنٹ سے درخواست کرتے کہ ان قوانین پر نظر ثانی کی جائے کیوں کہ ضیاالحق کی ترامیم توہین مذہب روکنے کی بجائے ، اس میں اضافہ کا سبب بن  رہی ہیں۔ یا یہ دیکھا جاتا کہ  کیا وجہ ہے کہ توہین مذہب کی شکایات میں اضافہ ہؤا ہے ؟اور کیا عام شہری ذاتی جھگڑے نمٹانے کے لیے تو کہیں ان قوانین کو غلط طور سے استعمال نہیں کررہے؟ یہ دونوں پہلو ہی قابل غور اور تشویش کا سبب تھے۔ لیکن  بدقسمتی سے مذہبی رہنماؤں نے  یہ متوازن اور انسان دوست   طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ اگر کسی سنگین زیادتی کی صورت حال میں سماج کی کسی سطح پر یہ آواز اٹھانے کی کوشش کی بھی گئی کہ توہین مذہب کے قوانین کے تحت ناجائز ور بے بنیاد مقدمات کی روک تھام کے لیے اصلاح کا طریقہ اختیار کیا جائے تو یہ مذہبی رہنما اسے زندگی اور موت کا معاملہ بنا کر کھڑے ہوگئے ۔ اس صورت میں کسی سیاسی پارٹی یا حکومت نے بھی یہ حوصلہ نہیں کیا کہ وہ نام نہاد علمائے دین  کی غیر ضروری پریشانی کو  بھی دور کرتی اور اس کے ساتھ ہی انہیں  بلاسفیمی قوانین پر نظر ثانی پر آمادہ کیا جاتا۔

سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی کمزوری اور مذہبی رہنماؤں کی خود سری ہی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں توہین مذہب   کے قوانین کو ایک ایسے ہتھکنڈے کے طور پر اختیار کرلیا گیا ہے جس کے تحت کسی کی بھی پگڑی اچھالی جاسکتی ہے یا کسی بھی بے گناہ کو پکڑ کر قید کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ ملک میں متعدد ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں کہ مولویوں کے مشتعل کیے ہوئے ہجوم  نے بے گناہ نہتے لوگوں کو مار مار کر ہلاک کردیا اور اسے  حرمت رسول کی نگہبانی کا نام دیا گیا۔ کسی  مذہبی لیڈر  کو ایسے  انسانیت سوز اشتعال کے بعد بھی اصلاح احوال  کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کیوں کہ  ان قوانین کو بیشتر مولوی اور مذہبی رہنما اپنی دکانداری  چمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ہتھکنڈوں نے ملک میں خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا کی ہے کہ کوئی عام شہری تو کیا اعلیٰ عدالت کے جج حضرات بھی اس معاملہ میں مداخلت سے گریز کرتے ہیں۔  لیکن  کوئی بھی معاشرہ اجتماعی ظلم  کی ایسی صورت حال کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ ملکی سیاسی لیڈر اس  ضرورت کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔

 گزشتہ سال سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی مقدمے قائم کراکے لوگوں کو بلیک میل کرنے یا سزائیں دلانے کے ایک ایسے گینگ کا انکشاف ہؤا   جوکئی سو لوگوں کو جعلی  طریقوں سے توہین مذہب کے مقدموں میں پھنسا چکا تھا۔ اس سال جنوری میں انہی متاثرین کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی تھی۔   اس پر غور کے بعد جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے گرزشتہ روز تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا تاکہ توہین مذہب کے قوانین کے تحت ناجائز مقدمے قائم کرانے اور سزائیں دلانے کے جرم  کی تہہ تک پہنچا جاسکے اور بے گناہ لوگوں کو ایسی گھناؤنی سازش سے بچایا جائے۔ ان تحقیقات کے بعد ان عناصر کے مکروہ چہرے بھی نمایاں ہوسکتے ہیں  جو  مذہب کی حرمت کی حفاظت کا علم بلند کرکے درحقیقت اس حرمت کو پامال کرنے اور خود ہی توہین مذہب و رسالت کا ارتکاب کرتے رہے ہیں۔

یہ عدالتی فیصلہ معاشرے کے اس گھناؤنے سچ سے پردہ سرکانے کی ایک جرات مندانہ کوشش ہے۔  جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے  اس حکم میں لکھا ہے کہ ’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس سے بڑھ کر اور کون سا ایسا مقدمہ ہو گا جو عوامی مفاد کا مقدمہ کہلائے گا‘۔ وفاقی حکومت نے تو ابھی اس معاملہ پر کسی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن ملک بھر میں خود کو  انتہاپسند عناصر کا لیڈر ثابت کرنے والے عناصر کی چیخ و پکار شروع ہوچکی ہے۔ اور وہ متعلقہ جج اورا علیٰ عدلیہ پر حرف زنی پر اتر آئے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک کا میڈیا اس اہم سماجی مسئلہ پر رائے عامہ بنانے، حقائق سامنے لانے اور کسی قانون کے ناجائز استعمال کے خلاف دیوار بنانے کا بنیادی سماجی فریضہ ادا کرنے میں پوری طرح ناکام ہے۔ نہ تو اس مقدمہ  کی کوریج کی گئی اور نہ ہی اس سنگین مسئلہ  پر تصویر کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کے لیے کوئی کام کیا گیا ۔  یہ صورت حال کسی خوفزہ یا مردہ معاشرے ہی میں دیکھی جاسکتی ہے۔

اس پس منظر میں اگر  ملاؤں کے دباؤ  میں   توہین مذہب کے نام  پر لوگوں کو پھنسانے والے گروہ اور سرکاری اہلکاروں کو تحفظ فراہم کیا گیا اور  اس معاملہ میں تمام حقائق سامنے نہ لائے گئے تو اس سے   انتہا پسندی کے علاوہ خوف میں اضافہ ہوگا۔  شہری اس وقت معاشی مجبوری کی وجہ سے  ملک چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ  مذہب  کے نام پر بلیک میل کے ماحول میں لوگ یہ کہتے ہوئے پاکستان سے جانے لگیں کہ یہاں کسی کی عزت و جان محفوظ نہیں ہے۔