گورنر خیبرپختونخوا کل مخصوص نشستوں کا حلف لیں گے
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ آج خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین اور اقلیتی نشستوں کے منتخب ارکان نے عہدے کا حلف نہیں لیا۔ اب پشاور ہائی کورٹ نے گورنر خیبر پختون خوا کو حلف برداری کے لیے مقرر کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ایک مراسلہ ارسال کیا تھا۔ مراسلے میں درخواست کی گئی تھی کہ کسی مناسب فرد کو حلف برداری کے لیے نامزد کیا جائے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اب گورنر خیبرپختونخوا کل مخصوص نشستوں کا حلف لیں گے۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق اسی روز جرگہ ہال میں سینیٹ انتخابات کا عمل 11 بجے شروع ہوگا۔ آئی جی کے پی، چیف سیکریٹری، آئی جی ایف سی فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فول پروف سیکیورٹی ہو تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔
خیبرپختونخوا میں مخصوص ارکان اسمبلی کی حلف برداری کے وقت میں تبدیلی کے بعد حلف برداری تقریب آج شام 6 بجے گورنر ہاؤس پشاور میں ہوگی۔ ڈان نیوز کے مطابق مخصوص نشستوں پر نامزد ہونے والے ارکان اسمبلی کی حلف برداری کے لیے تمام ارکان اسمبلی کو مدعو کردیا گیا ہے۔ وقت کی تبدیلی سے ارکان اسمبلی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
قبل زیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ گورنر خیبر پختونخوا کل صبح 9 بجے مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان سے حلف لیں گے۔ خیبرپختونخوا سینیٹ انتخابات کا عمل کل دن گیارہ بجے شروع ہوگا۔
قبل ازیں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ آج یا کل مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان کی حلف برداری ہوجائے گی۔ کل ہی سینیٹ کے الیکشن بھی ہوں گے۔ پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے خیبرپختونخوا میں مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے حوالے سے حکم نامہ جاری ہونے کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے ارکان کی حلف برداری آج یا کل ہوجائے۔ کل چوں کہ خیبرپختونخوا میں سینیٹ کےالیکشن بھی ہونے ہیں، اسی لیے ارکان کی حلف برداری بھی ہونی لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن میں 6/5 کا فارمولا طے پایا ہے۔ فارمولا طے ہونے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نےکہا کہ ان کےارکان بات نہیں مان رہے۔ گورنر نے کہا کہ اگرباقاعدہ مقابلہ ہوا تو کوشش ہوگی کہ 5 کے بجائے 6-7 سینیٹرز منتخب کرالیں۔ صوبائی حکومت ایسے اقدامات کرے کہ ہارس ٹریڈنگ نہ ہو۔
یاد رہے کہ آج خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان کی حلف برداری ہونی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کے شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کر دی، جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے سے سینیٹ الیکشن بھی کھٹائی میں پڑ گئے تھے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرکے مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان کی حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کرنے کی درخواست کی تھی۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق نے اپوزیشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی کو حلف لینے کا حکم دیا تھا۔
دریں اثنا صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اس کا آئینی تقاضوں اور جمہوری روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سے یہ کیسی مفاہمت ہے کہ ان کے ارکان کا حلف اُٹھانے کا راستہ روک دیا گیا۔ یہ وہی غیر آئینی اور غیر جمہوری رویہ ہے جو بانیٔ پی ٹی آئی نے عدم اعتماد سے بچنے کے لیے اختیار کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے قاسم سوری اور عارف علوی کے ذریعے یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ نہ عدم اعتماد کو روکا جا سکا، نہ ہی اپوزیشن ارکان کے حلف کو روکا جاسکے گا۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ حقیقت اور پختہ ہو گئی ہے کہ یہ جماعت جمہوری ایوانوں کے لیے نہیں۔ یہ جماعت صرف سڑکوں، چوراہوں، ہنگاموں اور پُرتشدد احتجاج کے لیے بنی ہے۔