شام پر اسرائیلی حملہ اور دروزی فرقہ؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 20 / جولائی / 2025
مڈل ایسٹ کے تازہ منظرنامے کی تصویر کا ایک رُخ تو یہ ہے کہ یہاں دسمبر 2024 میں شامی صدر بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے بعد اسرائیل خطے کی ایک منی پاور کی حیثیت سے ابھرا ہے۔
اس نے لبنان میں مضبوط ایرانی پراکسی حزب اللہ کے قائد حسن نصر اللہ کو ہی نہیں مارا بلکہ اتنی مضبوط جنگجو تنظیم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ غزہ میں حماس کی طاقت کو کچلنے کے لیے وہ عالمی تنقید کے باوجود غزہ میں انسانی حقوق کی پائمالی سے بھی گریز نہیں کررہا۔ لبنان اور شام جیسے عرب ہمسایہ ممالک پر حملے کرتے ہوئے وہ 13جون کو ایران جیسے بڑے ملک پر بھی چڑھ دوڑا اور ابھی 15جولائی کو اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر شام پر چڑھائی کرتے ہوئے دمشق میں صدارتی محل کے قریب واقع وزارت دفاع اور شامی فوجی ہیڈکوارٹر پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں جن میں اگرچہ انسانی ہلاکتیں تو زیادہ نہیں ہوئیں تین افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہونے کی رپورٹ آئی مگر یہ شامی حکومت کو خوفزدہ کرنے کی کارروائی ضرور قرار دی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ترکی نے شامی صدر احمد الشرع کو محفوظ مقام پر پہنچانے کا اہتمام کیا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر سفارت کاری کرتے ہوئے امریکی دباؤ کے تحت فوری جنگ بندی کروائی۔
یہ سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کا دباؤ ہی تھا کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ نے ہنگامی طور پر تمام فریقین سے روابط کرتے ہوئے نہ صرف فوری جنگ بندی کروائی بلکہ مستقبل کے لیے ایک لائحہ عمل بھی طے کیا گیا تاکہ آنے والے دنوں میں ایسی صورتحال کے احتمال کو روکا جاسکے۔
اب آتے ہیں اس سوال پر کہ یہ تازہ جنگی صورتحال پیدا کیوں ہوئی؟ نئی شامی قیادت جس کے صدر ابومحمد الجولانی یا اپنے اصلی نام کے ساتھ احمد الشرع سابق صدر بشارالاسد کا تختہ الٹتے ہوئے ایک انقلاب کے ذریعے برسرِ اقتدار آئے ہیں۔ سب کو یہ بھی معلوم ہے کہ حافظ الاسد کے بعد بشارالاسد کا بھی شام میں بدترین استبداد قائم تھا جو بھاری سنی میجارٹی کے بالمقابل ایک چھوٹی علوی شیعہ مینارٹی کے نمائندے تھے۔ یوں ان کمزور بنیادوں پر استوار اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے انہیں مسلح عسکری کاروائیوں کے ذریعے جبر کا حربہ اپنانا پڑتا۔ پچھلے قریباً14برسوں سے شام میں ایک طرح سے خانہ جنگی کا ماحول تھا۔ الشیخ احمد الشرع کا ماضی القاعدہ اور داعش سے ہوتے ہوئے ایک دہشت گرد تنظیم النصرہ فرنٹ سے منسلک ہے۔ یہ تنظیم جس نوع کی جہادی کاروائیاں ڈالتی تھی انہی کے باعث امریکا نے ان کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر اناؤنس کر رکھی تھی۔ اب جب ترکی اور سعودی عرب کے تعاون سے شیعہ انقلاب کے ردِ میں دمشق سنی انقلاب سے بہرہ ور ہوا ہے تو ایک لحاظ سے پورا منظرنامہ ہی تبدیل ہوگیا۔
امریکی صدر ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب آئے تو کراؤن پرنس محمد بن سلمان نے نہ صرف شامی صدر احمد الشرع سے ان کی ملاقات کا اہتمام کروایا بلکہ شام پر عائد تمام امریکی پابندیاں اٹھوانے کا مطالبہ بھی منوالیا۔ جس سے یہ امر واضح ہوا کہ مستقبل میں شام کے اسرائیل سے تعلقات مصر اور جارڈن جیسے تشکیل پائیں گے۔ اس پس منظر میں شام پر حالیہ اسرائیلی حملہ اپنا کوئی جواز نہیں رکھتا۔ لیکن آئیے ہم تصویر کا دوسرا رُخ ملاحظہ کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اسرائیل اور عرب مخاصمت کو جس طرح کفر اور اسلام کی جنگ بناکر پیش کیاجاتا ہے، حقائق اس کی مطابقت میں نہیں ہیں۔ یہ ایک طویل بحث ہے جسے ہم آئندہ کے لیے اٹھائے رکھتے ہیں۔
شام پر حالیہ اسرائیلی حملے کا باعث دروز پر شامی فورسز کا دھاوا ہے۔ ہوایہ کہ 13جولائی کو ایک دروز تاجر کو السوید میں سنی بدو قبائل نے اغوا کرلیا جس پر دروز اور سنی بدووں میں کشیدگی خاصی بڑھ گئی۔ نتیجتاً شامی سرکاری فورسز السویدہ میں داخل ہوگئیں۔ اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ انہوں نے سنی بدووں کی حمایت کرتے ہوئے شیعہ دروز پر سخت حملے کیے۔ یوں 360کے قریب لوگ مارے گئے اور مرنے والوں کی بھاری تعداد دروز کی تھی جس پر گولان ہائیٹس کے دروز نے اپنے شامی دروز بھائیوں کی مدد کے لیے شام میں گھسنے کی کوشش کی۔ لیکن اسرائیلی قیادت نے ان سے کہا کہ تم لوگ اس طرح شام میں گھسے تو اغوا بھی ہوسکتے ہو اور اپنا جانی نقصان بھی کرواسکتے ہو۔ تمہارا یہ غصہ ہم خود شامی قیادت پر نکالتے ہیں۔ اصولاً ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسرائیلی قیادت سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کو حل کرواتی۔ اسرائیل کے جنگجو انتہا پسند ڈیفنس منسٹر نے السویدہ کو چھوڑ دمشق پر یلغار کردی۔ یوں معاملہ سعودی عرب اور ترکی کےذریعے امریکا تک پہنچا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ دروز کون لوگ ہیں اور اسرائیل سے ان کا کیا تعلق ہے؟ جس کی وجہ سے اسرائیل ان کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے، چاہے ابو محمد الجولانی پر حملہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ دروز بنیادی طور پر نصیری علویوں کی طرح شیعہ کا ہی ایک ترقی یافتہ فرقہ قراردیاجاتا ہے جس کا ظہور 11 وی صدی عیسوی کے دوران مصر میں اس وقت ہوا جب وہاں شیعہ فاطمی حکومت الحاکم کی امامت میں برسرِ اقتدار تھی۔ اسی کے امرا میں سے ایک حمزہ بن علی نے اسے خوب بڑھاوا دیا۔ محمد بن اسمٰعیل الدرزی کی مناسبت سے اس فرقے کا نام دروزی مشہور ہوگیا۔ الحاکم کو ان لوگوں نے خدا کا اوتار قرار دیا اور مہدی بھی جس کا آخری زمانے میں دوبارہ ظہور ہو گا۔ دروزی امام علی کو کسی طرح بھی پیغمبر اسلام سے کم یا پیچھے نہیں سمجھتے۔ دونوں ہستیوں کا اونچا مقام مانتے ہیں، اپنے خلوت خانوں میں نمازوں کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن روزوں کی افادیت سے انکاری ہیں۔ زیادہ تر عبادات دن کی بجاۓ راتوں کو کرتے ہیں۔ ان کی آزاد فکری اور انوکھے عقائد کے کارن راسخ العقیدہ مسلم عالم امام ابن تیمیہ نے اپنے دور میں انہیں اسلام سے خارج کرتے ہوۓ کافر ڈیکلئر کر دیا تھا۔ جبکہ فاطمید کی بنائی ہوئی عالم اسلام کی قدیمی لیکن ماڈریٹ یونیورسٹی جامعہ الازہر نے انہیں شیعہ اسلام ہی کا ایک فرقہ قرار دے رکھا ہے۔
تاہم ان کے عقائد خاصے دلچسپ ہیں جو اسلامی کے ساتھ ساتھ قدیم ایرانی، یونانی، ہندی اور یہود فلاسفی کا امتزاج ہیں۔ مثال کے طور پر یہ شاید دنیا کے واحد اور منفرد اہل مذہب ہیں جو گریک فلاسفرز افلاطون اور ارسطو کو بھی پیغمبر قرار دیتے ہیں اور اپنے پیرو کاران میں بھی عام جہلا کے بالمقابل شعور اور تدبر والوں کی تخصیص کرتے ہیں۔ یہ افتراق انہیں ہندو براہمنوں کی اپروچ کے قریب لے جاتی ہے۔ لائف آفٹر ڈیتھ کا کنسیپٹ بھی ان کا روایتی اسلامی نہیں بلکہ ہندو اپروچ کے زیادہ قریب ہے۔ کیونکہ وہ عقیدہء تناسخ کے مطابق اگلے جنموں کے قائل ہیں یعنی آتمائیں اپنے کرموں کی مطابقت میں دوبارہ جنم لیتی ہیں۔ جو چیز بالخصوص انہیں یہود کے زیادہ قریب کرتی ہے، ان میں ایک تو ان کا وحدانیت پر مضبوط ایمان ہے۔ یہ اپنے آپ کو ”المواحدون“ کہتے ہیں یعنی وحدت کے پرچارک۔ اس کائنات کا خالق و مالک خدائے واحد لاشریک ہے جس کی ہستی انسانی شعور و ذہن سے ماورا ہے۔ یہ لوگ اپنے عقائد میں سیدنا ابراہیمؑ اور سیدنا شعیب کی خصوصی اہمیت کے قائل ہیں۔ بلکہ پانچ انبیائے بنی اسرائیل کی عظمتوں کے گیت گاتے ہیں۔ اسرائیلیوں کی طرح ان کا بھی پانچ کونوں والا دروز سٹار فلیگ ہے۔ اس دروز سٹار کے پانچ کونے اپنے مختلف رنگوں میں ایک ایک پیغمبر کی عظمت کا سنبل ہے۔
اسرائیل کی تشکیل میں شریف مکہ اور ان کی ہاشمی آل اولاد کا رول جس طرح واضح ہے، ترک عثمانی خلافت کے خلاف بغاوت میں دروز نے بھی شریف مکہ کا ساتھ دیتے ہوئے اس انقلاب کو پوری تقویت پہنچائی تھی جسے اسرائیلی آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ 1957 میں ایک معاہدے کے تحت دروزی اسرائیلی افواج یا فورسز میں خدمات کے اسی طرح پابند ہیں جس طرح یہود۔ جبکہ اسرائیل میں آباد دیگر مسلم کمیونٹیز جن کی تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے اور وہ اپنی رضامندی سے اسرائیلی فوج کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ان پر اس نوع کی سرکاری بندش نہیں ہے۔ ان مسلمانوں کی ایک تعداد اپنی مرضی سے اسرائیلی فوج کا حصہ ہے، جبکہ دروز کی آبادی کے نوجوان بھاری تعداد میں اسرائیلی آرمی کا نہ صرف حصہ ہیں بلکہ اسرائیلی ریاست کی حفاظت کیلیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے میں پیش پیش ہیں۔ درویش کی انفارمیشن کے مطابق اب تک چایس بیالیس دروز اسرائیلی آرمی میں اپنی جانیں اپنے وطن پر نچھاور کر چکے ہیں۔ اور اسرائیل ریاست نے انہیں وہی اعزاز یا سٹیٹ فیونرل دیا ہے جو وہ یہود کو دیتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں دروز کی تعداد دس لاکھ سے پندرہ لاکھ تک بیان کی جاتی ہے۔ جن میں سب سے زیادہ دروز سیریا میں ہیں۔ سیریا کے جنوبی صوبے السویدہ میں 7لاکھ دروز قبائل بتائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیل میں آباد دروز ایک لاکھ باون ہزار ہیں۔ لبنان میں ڈھائی لاکھ جارڈن میں بیس ہزار اس طرح مڈل ایسٹ سے باہر امریکا، کینیڈا اور کئی یورپی ممالک میں بھی دروز رہائش پذیر ہیں۔ اسرائیل میں دروز کی زیادہ تعداد گولان ہائٹس پر ہے۔ یہ خطہ شامی صوبے السویدہ سے جڑا ہوا ہے اور 1967 سے اسرائیل کے زیرکنٹرول چلا آرہا ہے۔ اسرائیل نے یہاں آباد دروز کی ایک تعداد کو اپنی شہریت بھی دے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے برس گولان ہائٹس پر جب حزب اللہ نے اپنے ڈرون یا میزائل پھینکے تو اسرائیل نے ان مرنے والوں کو اپنے شہری قرار دیا، بچوں کے حوالے سے یہ سانحہ عالمی میڈیا میں بھی رپورٹ ہوا۔
اسرائیلی پرائم منسٹر بنجمن نیتن یاہو نے اپنے تازہ پالیسی بیان میں یہ کہا ہے کہ ہمارا اولین ضابطہ دمشق کے جنوب میں گولان ہائیٹس سے لے کر دروز ماؤنٹس تک کے علاقے کو غیرفوجی خطہ یا بفرزون بنانا ہے۔ جبکہ ہمارا دوسرا ضابطہ اپنے بھائیوں کے بھائیوں کا تحفظ ہے جس سے ان کی مراد گولان ہائٹس کے دروز ہیں۔ جو یہود کے بھائی ہیں۔ جبکہ دروز ماؤنٹین یعنی السویدہ کے دروز ان بھائیوں کے بھائی ہیں۔ ان کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ دمشق حکومت نے یہاں اپنی فورسز بھیج کر دروز کا جو قتل عام کیا ہے ہم اسے قبول نہیں کرسکتے ۔ ان کے بالمقابل شامی صدر احمد الشرع نے کہا ہے کہ شام کی یکجہتی میرے لیے چیلنج اور اولین ترجیح ہے۔ اس لیے النصیری علوی ہوں یا دروز یا کرد یہ لوگ شامی سرحدوں سے باہر مت دیکھیں جو بھی مسائل و معاملات ہیں، شام کے اندر رہتے ہوئے حل کروائیں۔ ہم خود ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
اسرائیلیوں کو احمدالشرع کی اسلامی جہادی جنگجو پہچان سے ایک نوع کا خوف بھی ہے کہ اسرائیل سے ملحق یہ خطہ آنے والے دنوں میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔ اس لیے نیتن یاہو کسی قیمت پر گولان ہائیٹس سے دستبردار ہوں گے اور نہ شامی دروز کی حمایت سے دستکش۔ بلکہ گولان ہائٹس کی بلندی سے عسکری طور پر اسرائیل کو سٹریٹیجیکلی یہ فائدہ پہنچا ہے کہ دمشق پوری طرح ان کی نظروں میں ہے۔ ان کا یہ پلان کہ شامی صوبے السویدہ کو درہ تک بفرزون منواتے ہوئے اپنی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور دروز کمیونٹی سے اپنے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کو مزید بڑھاوا دیں، جن کی بھاری میجارٹی کھلم کھلا اسرائیل کی حمایت میں ہے۔ اس سلسلے میں الشیخ ربیعہ المنذر کے بیانات قابلِ ملاحظہ ہیں۔