خیبر پختون خوا اسمبلی کے نئے ارکان کی حیثیت مشکوک رہے گی!

بہت لے دے کے بعد بالآخر خیبر پختون خوا   اسمبلی کے  خصوصی نشستوں پر نامز ہونے والے 25 ارکان نے حلف اٹھا لیا۔ یوں یہ ارکان سوموار کو کے پی کے سے سینیٹ کی نشستوں کے لیے ہونے والے انتخاب میں ووٹ ڈال سکیں گے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی  نے ان ا رکان سے حلف  لیا۔

اس سے پہلے صوبائی اسمبلی کے اسپیکر  بابر سلیم سواتی نے کورم پورا نہ ہونے پر  اسمبلی کا اجلاس  24 جولائی تک ملتوی کردیا تھا جس کی وجہ سے نئے ارکان اسمبلی  سے حلف نہیں لیا جاسکا۔  مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے نمائیندوں نے اس طریقہ کو غلط قرار دینے کی کوشش کی لیکن صوبائی اسپیکر نے بھی اپوزیشن کی باتوں کو ویسے ہی ہوا میں اڑا دیا جیسا کہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کو نظر انداز کرنے اور بے وقعت قرار دینے کے لیے ہر حد سے گزرنے پر آمادہ رہتی ہے۔ اس صورت حال میں الیکشن کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور  چیف جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے گورنر خیبر پختون خوا کو حلف لینے کے لئے نامزد کردیا تھا۔ اس طرح یہ  مرحلہ بھی طے ہوگیا۔ تحریک انصاف اسے جمہوریت کی توہین اور  وفاق کی حکمران جماعتیں آئینی انتظام کی فتح قرار دے رہی ہیں۔

خیبر پختون خوا اسمبلی میں اسپیکر کی طرف سے حلف نہ لینے پر مسلم لیگ  (ن) تو اس قدر سیخ پا تھی کہ اس کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ’پی ٹی آئی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اس کا آئینی تقاضوں اور جمہوری روایات سے کوئی تعلق نہیں۔  اپوزیشن  ارکان کا حلف اُٹھانے کا راستہ روکا گیا۔  یہ وہی غیر آئینی اور غیر جمہوری رویہ ہے جو بانیٔ پی ٹی آئی نے عدم اعتماد سے بچنے کے لیے اختیار کیا تھا۔یہ حقیقت اور پختہ ہو گئی ہے کہ یہ جماعت جمہوری ایوانوں کے لیے نہیں۔ یہ جماعت صرف سڑکوں، چوراہوں، ہنگاموں اور پُرتشدد احتجاج کے لیے بنی ہے‘۔

حیرت انگیز طور پر یہ سخت تنقید ایک ایسی جماعت کے نمائیندے  کی طرف سے سامنے آئی ہے جس نے کسی استحقاق کے بغیر سپریم کورٹ کے ایک  متنازعہ فیصلہ کے نتیجے میں اقلیتوں و  خواتین کی اضافی سیٹوں میں  شراکت داری کی ہے۔ اس بند بانٹ میں دیگر حصہ دار پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (ف)  ہیں۔  تحریک انصاف  کے حق کی نشستوں پر قبضہ کرتے ہوئے ان پارٹیوں کو جمہوریت، آئین اور روایت کا ہر سبق بھول گیا لیکن اگر تحریک انصاف  کے پی کے میں اپنی اکثریت کے بل بوتے  پر اس طریقے کے خلاف معمولی سے مزاحمت کررہی ہے تو اسے   آئین  مخالف ہونے کا طعنہ دیا جارہا ہے۔   حیرت انگیز طور پر عرفان صدیقی کو اپنی پارٹی کی طرف سے  دوسری پارٹی کی سیٹوں پر قبضہ کرتے ہوئے کسی آئینی اخلاقیات کا خیال نہیں آیا۔  مسلم لیگ (ن) اور ا س کھیل میں ساتھ دینے والی دیگر پارٹیوں کو ایک لمحہ کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہؤا کہ  گزشتہ سال فروری میں ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف نے جو بھی کامیابی حاصل کی ہے، اس کے  مطابق یہ سیٹیں اسی کا حق تھیں لیکن  الیکشن کمیشن کی طرف سے معاملہ لٹکا کر اور 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات پر حکومتی کنٹرول مسلط کرکے فل کورٹ کا ایک ایسا فیصلہ تبدیل کرایا گیا جس میں تحریک انصاف کو اس کی انتخابی کامیابی کی بنیاد پر عوام کا نمائیندہ ہونے کی حیثیت میں مخصوص سیٹیں  دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن  نے اس حکم پر عمل نہیں کیا۔ اس دوران چھبیسویں آئینی  ترمیم کے ذریعے   دو  مقصد حاصل کیے گئے۔  ایک تو سنارٹی کے اصول پر سب سے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس بننے سے روک دیا گیا۔ دوسرے   سپریم کورٹ  کے13 رکنی بنچ نے آٹھ پانچ کی اکثریت سے یہ اصول طے کیا کہ   رسمی غلطیوں سے قطع نظر تحریک انصاف نے انتخابات میں بھاری بھر کم کامیابی حاصل  کی تھی ، اس لیے اسی پارٹی کو مخصوص سیٹوں میں حصہ ملنا چاہئے۔  اس فیصلہ  میں ہزار نقص نکالنے کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا  کہ زمینی حقائق کے مطابق یہی سچ تھا اور تحریک انصاف کی تمام تر سیاسی  غلطیوں کے باوجود اس کے ارکان اسمبلی کی تعداد کے حساب سے  اسے مخصوص نشستوں کا حصہ ملنا چاہئے تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے  اس حکم پر عمل کرنے سے گریز کیا اور اس دوران چھبیسویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کا اہتمام ہو گیا تاکہ  تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں پر قبضہ جمایا جاسکے۔

تحریک انصاف کو یہ سیٹیں دینے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے آٹھ پانچ کی اکثریت سے گزشتہ سال جولائی میں دیاتھا ۔ تاہم  نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے13 رکنی  آئینی بنچ نے  اس معاملہ پر نظر ثانی کی اپیلوں پر غور شروع کیا تو  سابقہ فیصلے میں شامل دو ججوں نے ان اپیلوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے بنچ کی کارروائی میں شرکت سے انکار کیا۔ اس کے بعد ایک جج نے خود  کو بنچ سے علیحدہ کرلیا۔ دس ججوں  نے بنچ ختم ہوجانے کی دہائی کو نظر انداز کرتے ہوئے سماعت جاری رکھی اور اس سال جون کے دوران   سات تین کی اکثریت سے سابقہ حکم تبدیل کرکے تحریک انصاف  کو مخصوص سیٹوں سے محروم کردیا۔  ملکی قانونی  تاریخ میں یہ سانحہ بھی ایک حوالے کے طور پر یاد رکھا جائے گا کہ نظر ثانی کی درخواستوں پر  فیصلہ کرنے والا  بنچ اصل بنچ سے چھوٹا تھا اور سات ججوں نے  آٹھ ججوں کا فیصلہ تبدیل کیا۔

حکومت  اور اس کی حلیف پارٹیاں اس طریقہ سے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی خواہاں تھیں تاکہ وہ مرضی کے مطابق آئین میں ترامیم کرسکیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی واضح  و شفاف اکثریت  کی طاقت میں کمی مطلوب تھی۔ اب سو اسو ارکان کی اسمبلی میں اپوزیشن کو 52 سیٹیں حاصل ہوگئی ہیں۔ تحریک انصاف میں کوئی فارورڈ بلاک  بنا کر جلد  یابدیر وہاں پر پی ٹی آئی کی حکومت ختم کرائی جاسکتی ہے۔ حکومتی نمائیندے کافی مدت سے اس بارے میں اشارے دیتے رہے ہیں۔  حیرت انگیز طور پر مخصوص نشستوں کی تقسیم کا معاملہ محض انتخابی قوانین اور ضابطے کی کارروائی تک محدود نہیں تھا اور نہ ہی اس میں صرف الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ فریق تھے۔  

فیصلے کرتے ہوئے  الیکشن کمیشن کا جھکاؤ حکومت کی طرف واضح تھا لیکن حکومتی پارٹیاں بھی  مخصوص نشستوں پر نظر ثانی کی درخواستیں دائر کرنے والوں میں شامل تھیں۔ حالانکہ اس سارے عمل میں ان میں سے کسی بھی پارٹی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان نشستوں پر ان پارٹیوں کا کوئی استحقاق تھا جو درحقیقت تحریک انصاف کے حق نمائیندگی کا حصہ تھیں۔  اس مقدمہ میں فریق بن کر اور یک طرفہ فیصلہ سے استفادہ کرکے  مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) نے  صرف اپنے سیاسی مفاد کو پیش نظر رکھا اور ملک کی سیاسی صورت حال یا آئینی پوزیشن کو یک سر نظر انداز کردیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر اب مسلم لیگ (ن) خیبر پختون خوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے  ’احتجاجی‘ طریقے کو غیر آئینی قرار دے کر پی ٹی  آئی کو ملکی سیاست سے غیر متعلق کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

تاہم تحریک انصاف  8 فروری کے متنازعہ انتخابات کے  باوجود سب سے بڑی پارٹی تھی لیکن اقتدار پر قابض پارٹیوں نے اسے اس کا جائز سیاسی حق نمائیندگی دینے سے انکار کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اس صورت حال میں اپوزیشن کے ساتھ  مذاکرات و مصالحت  کے جیسے بھی دعوے کرتے رہیں، عملی صورت حال یہی ہے کہ حکومت کسی بھی قیمت پر تحریک انصاف کی سیاسی قوت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔  سیاسی  انتخابی عمل میں آج کی مقبول پارٹی کل کی معتوب پارٹی بن سکتی ہے لیکن یہ فیصلہ کرنے کا حق بہر صورت ملک کے عوام کو ہے۔ کسی  حجت کے تحت کسی پارٹی  کےمخصوص سیٹوں میں حصہ  پر قبضہ کرکے اس پارٹی کی عوامی قبولیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔  خیبر پختون خوا میں رونما ہونے والی صورت حال سے جو سیاسی افتراق اور بدگمانی سامنے آئی ہے، وہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک حکمران جماعتیں تہ دل سے تحریک انصاف کی مسلمہ پارلیمانی حیثیت تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ حقیقی سیاسی مکالمہ پر آمادہ نہیں ہوتیں۔  

اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے مڈ ٹرم انتخابات کے ذریعے یہ ثابت کیا جائے کہ تحریک انصاف اب عوام کی پسندیدہ پارٹی نہیں ہے۔ ایک اہم و مقبول پارٹی  کی اہمیت کو   مسترد کرنے کا کوئی دوسرا طریقہ کامیاب نہیں ہوگا۔  سیاسی استحکام کی باتیں کرنے والے سب عناصر کو اس پہلو پر توجہ دینی چاہئے۔