ڈاکٹر عافیہ صدیقی، اسلام ہائی کورٹ اور توہین عدالت

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحت اور وطن واپسی سے متعلق رپورٹ جمع نہ کرانے پر وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے تمام ارکان  کو  توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے اور دو ہفتے میں اس کا جواب دینے کا حکم دیا ہے۔  عافیہ صدیقی کے حوالے سے  ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے    عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی ہوئی ہے۔

عافیہ صدیقی دہشت گردی  میں معاونت اور ایک امریکی اہلکار پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں نیویارک کی ایک عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور 2010  سے امریکی جیل میں قید ہیں۔  انہوں نے امریکہ سے اچانک فرار ہونے سے پہلے طویل مدت  اس ملک میں گزاری اور وہاں کی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے  تعلیم حاصل کی ۔ اس لیے یقین سے یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ وہ صرف پاکستان کی شہری ہیں یا ان کے پاس  امریکی شہریت بھی ہے۔   ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملہ کوطویل عرصہ سے پاکستان کی قومی سیاست میں اہم عنصر کے طور پر شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن کوئی بھی حکومت ان کی رہائی کے لیے کوئی مناسب اقدام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔  ان کے اہل خاندان  عافیہ صدیقی کی سرگرمیوں اور رجحانات کے بارے میں یک  طرفہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ البتہ   اس کہانی کا دوسرا رخ بھی  ہےجس کے مطابق عافیہ صدیقی طویل عرصہ تک دہشت گرد گروہوں کے ساتھ ملوث رہیں اور ان کی اعانت کرتی رہی ہیں۔ نائن الیون کے بعد جن دہشت گردوں کو خاص طور سے  تلاش کیا جاتا رہا ہے، ان میں عافیہ بھی شامل  تھیں۔

پاکستان میں عافیہ صدیقی کے خاندان اور  ایک خاص مذہبی و سیاسی لابی نے جس میں جماعت اسلامی پیش پیش رہی ہے  ، انہیں ’قوم کی بیٹی‘ قرار دینے کی مہم چلائی ہے۔ لیکن کوئی شخص ابھی تک پاکستانی عوام کو یہ بتانے سے قاصر رہا ہے کہ عافیہ صدیقی کس حوالے سے  پاکستان کی بیٹی قرار پاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کون سا ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی وجہ سے انہیں قوم و ملک کی عزت  و غیرت قرار دیا جائے۔ اہل پاکستان کو چونکہ  مذہب اور عقیدہ کے نام پر گمراہ کرنے کا طریقہ عام ہے، اس لیے عافیہ صدیقی کے معاملہ میں بھی یہی وتیرہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس معاملہ کو پھیلانے اور اٹھانے والی لابی نے   ہر پاکستانی حکومت  پر اس معاملہ میں دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے ہر حکومت بیان بازی کی حد تک  عافیہ صدیقی کو اہم شہری قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کے  دعوے کرتی رہی ہے۔ 

البتہ یہ کسی پاکستانی حکومت یا عدالت کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالے ۔  عافیہ صدیقی کو نہ تو پاکستان سے گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ان کا کوئی جرم پاکستان میں سرزد ہؤا۔  انہیں افغانستان میں امریکی فوج نے پکڑا تھا اور ایک امریکی عدالت نے انہیں طویل المدت سزا دی ہے۔ اس سزا کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کی جاسکتی ہے لیکن پاکستان کے لوگوں کی کوئی رائے یا اس کی حکومت کی کوئی اپیل یا کوئی عدالتی فیصلہ کسی امریکی حکومت یا عدالت کو اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود پاکستانی حکومت نے اپنے سفارت خانہ کے ذریعے عافیہ صدیقی کو  قونصلر سہولتیں  اور وکیلوں کی خدمات  فراہم کی   ہیں۔ کوئی حکومت بیرون ملک سنگین الزامات میں  قید کسی پاکستانی شہری کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ عافیہ صدیقی کا خاندان امریکی عدالتی نظام میں اپنا مقدمہ چلانے  میں ناکام ہے لیکن پاکستان میں رائے عامہ ہموار کرکے پاکستانی حکومت کو ایسے کسی اقدام پر مجبور کیا جارہا ہے جس کا شرمندگی کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔

اس کے باوجود پاکستان کی سرکاری سفارتی پوزیشن یہی ہے کہ عافیہ صدیقی بے گناہ ہے اور اسے امریکی جیل سے رہا ہونا چاہئے۔ یہ سفارتی پوزیشن پاکستانی حکومتیں مختلف طریقوں سے گزشتہ پندرہ سال کے دوران امریکی حکومت تک پہنچانے کی کوشش بھی کرتی رہی ہیں۔   گزشتہ سال تو   سابق صدر جو بائیڈن  کے پاس عافیہ صدیقی کی صدارتی معافی کے لیے مہم بھی چلائی گئی تھی اور اسے وائٹ ہاؤس پہنچایا بھی گیا تھا لیکن صدر بائیڈن نے عہدہ چھوڑنے سے پہلے انہیں معافی  نہیں دی۔ اس کا ایک ہی مطلب اخذ کیا جاسکتا ہے کہ امریکی  نظام عافیہ صدیقی کو اپنے مفادات کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے اور کسی بھی قیمت پر اسے سزا پوری کرنے سے پہلے رہا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔   پاکستان  میں عافیہ صدیقی کا کیس چونکہ صرف پروپیگنڈا اور میڈیا مہم جوئی پر استوار ہے ، اس لیے عافیہ صدیقی لابی کسی بھی طرح اس معاملہ کو زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے اور حکومت سے عافیہ صدیقی کے لیے رعائتیں لینے کا بھی یہی مقصد ہے۔

بدقسمتی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحٰق بھی  اس حوالے سے  دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ، اسی پروپیگنڈا کا دباؤ محسوس کررہے ہیں۔ بصورت دیگر ایک معمول کی درخواست پر جذباتی ریمارکس  دینا، اسے عدلیہ کی آزادی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججوں کی خود مختاری اور انتظامی اختیارات سے منسلک کرنا اور  پوری وفاقی حکومت کو جواب نہ دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے  جیسے انتہائی اقدامات دیکھنے میں نہ آتے۔  جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے آج کی سماعت میں عافیہ صدیقی کو  ’قوم کی بیٹی‘ قرار دیا اور کہا کہ حکومت ان کی رہائی کے لیے راست اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔  حیرت کی بات ہے کہ اگر کوئی جج کسی  درخواست گزار کے ساتھ اس قدر ذاتی ہمدردی رکھتا ہو اور اس کے معاملہ میں جذباتی طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور  ہو تو وہ کیسے اس مقدمہ کی غیر جانبداری اور صرف قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے سماعت کرسکتا ہے؟ کیا پاکستانی قانون کی کوئی شق کسی عدالت یا جج کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی  درخواست گزار کے بارے میں یہ رائے دے سکے کہ  وہ قوم  کی بیٹی یا بیٹا ہے؟

جسٹس سردار اعجاز اسحٰق  نے دوران سماعت خود ہی یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ  حکومت نے ان کے سابقہ احکامات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہؤا ہے لیکن کسی وجہ سے  اس پٹیشن پر ابھی تک سماعت نہیں ہوسکی۔ اس کے باوجود   معزز جج نے وزیر اعظم ہی نہیں وفاقی کابینہ کے ہر رکن کو توہین  عدالت کا نوٹس دیا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بھی  کاوش  عدالتی اختیار کی عمومی حدود سے  تجاوز  ہی کہلائے گی۔  یوں  بھی عافیہ صدیقی  بیرون ملک سزا بھگتنے والی واحد پاکستانی شہری نہیں ہیں ۔ ہزاروں پاکستانی شہری درجنوں ممالک میں  قید ہیں اور مختلف جرائم کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ کیا اعلیٰ عدلیہ کے فاضل ججوں کو ان کے بارے میں غور کرنے یا حکم دینے کا بھی خیال آیا؟  یا ملک کے شہریوں  کی ذہن سازی کے افسوسناک عمل کا حصہ بن کر اسلام آباد ہائی  کورٹ کے ایک معزز جج عافیہ صدیقی کے حقوق کا علم بلند کرکے خود  اپنی   واہ واہ کرانے کا شوق رکھتے ہیں؟

کسی ملک میں سرزد ہونے والے جرم اور عدالت سے ملنے والی سزا کے بارے میں کوئی دوسرا  ملک مداخلت نہیں کرسکتا۔ پاکستان بھی کسی ایسے معاملہ میں کسی ملک کی بات  نہیں سنے گا  جس کو اس کے عدالتی نظام میں  سزا سنائی  گئی ہو اور وہ  اپنے مبینہ جرم کی سزا بھگت رہا ہو۔  اسامہ بن لادن کیس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی گرفتاری اور سزا ، اس ضمن میں نمایاں مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان نے امریکی خواہش و دباؤ کے باوجود  انہیں رہا کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں  کی حالانکہ پاکستان کو سفارتی و معاشی لحاظ سے امریکی مدد وتعاون کی ضرورت رہتی ہے۔  ایسے میں کوئی پاکستانی حکومت درخواست کرنے کے علاوہ   کیسے امریکہ سے کسی قیدی کو رہا کرانے یا سہوتیں دلانے  میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہے؟

عافیہ صدیقی کے  متنازعہ  اور پیچیدہ معاملہ میں ایک پاکستانی جج کے جذباتی ریمارکس اور وفاقی حکومت کے ہر رکن کو توہین عدالت کا نوٹس دینے جیسا افسوسناک اقدام  درحقیقت وسائل کے ضیاع اور سستی شہرت حاصل کرنے کے ہتھکنڈے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اصولی طور  پر ملکی عدالتوں کو بین  الملکی معاملات  میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہئے۔ دوسرے  ممالک کے ساتھ تعلقات  کا تعین وفاقی حکومت کا  استحقاق ہے۔ کسی بھی اعلیٰ عدالت کی طرف  سے اس حق کو مسترد کرنے کا رویہ ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔ 

یہاں یہ بیان کرنا شاید غیر ضروری نہیں ہوگا کہ چند روز پہلے  جسٹس سردار اعجاز اسحٰق نے ہی ایک نام نہاد بلاسفیمی گینگ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے  کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے بعد مولانا فضل الرحمان سمیت متعدد مذہبی رہنماؤں نے ایسے بیانات جاری کیے تھے جو صریحاً توہین عدالت  قرار دیے جاسکتے ہیں۔ لیکن فاضل  جج نے کسی مذہبی رہنما کی عدالتی طریقہ کار کے بارے میں ہتک آمیز باتیں کہنے پر سرزنش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ فاضل جج کو  عافیہ صدیقی کے معاملہ میں بھی توازن   و اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ورنہ ملکی حکومت کے ساتھ عدالت بھی شرمسار ہوگی۔