بارشوں و سیلاب میں 239 افراد جاں بحق

  • منگل 22 / جولائی / 2025

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مون سون بارشوں کے دوران 26 جون سے اب تک 239 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 18 بتائی گئی ہے۔ ان میں سے 10 ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئیں۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے 21 جولائی کے دوران 597 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئیں جہاں 135 افراد مارے گئے۔ پنجاب میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 470 ہے۔ خیبر پختونخوا میں 56 جبکہ سندھ میں 24 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں مون سون کے دوران 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک کے شمالی حصوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی پیش گوئی کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے قومی ایمرجنسی آپریشن مرکز (این ای او سی) نے مون سون بارشوں کے نتیجے میں ملک کے شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف حصوں بشمول گلگت، ہنزہ، سکردو، استور، دیامر، گانچھے، مظفرآباد، وادی نیلم، حویلی، باغ اور پونچھ میں بارشیں متوقع ہے۔

اس کے علاوہ بالائی خیبر پختونخوا بالخصوص چترال، دیر، کوہستان اور نزدیکی پہاڑی علاقوں میں موسلا دھار بارشیں متوقع ہے۔ اس موسمی طرز کی وجہ سے کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے، چٹانیں گرنے اور زمین دھنسنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جو علاقے زیادہ خطرے کا شکار ہیں ان میں کولائی پاس، لوئر کوہستان، اپر کوہستان، تتہ پانی، جگلوٹ، نگر، ہنزہ، روندو، سکردو اور چترال کے متعدد مقامات شامل ہیں۔

این ڈی ایم اے نے ان علاقوں میں موجود مسافروں اور وہاں کے رہائشیوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ چوکس رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں خاص طور پر غیر مستحکم ڈھلوانوں پر نہ جائِں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ منگل کے روز لاہور سمیت صوبے بھر میں دریاؤں کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش کا امکان ہے جس سے ندی نالوں میں طغیانی جبکہ مری کے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ راولپنڈی، فیصل آباد ، گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان، ساہیوال، بہاولپور، جہلم، اٹک، چکوال، مری، گلیات، میانوالی، نارووال، گجرات، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، منڈی بہاؤالدین اور ڈی جی خان میں تیز بارشیں متوقع ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ موسلا دھار بارشوں سے نشیبی علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے جبکہ طوفانی بارشوں سے مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔ مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہے گا۔  سیاحوں اور مسافروں کو اس دوران محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

منگل کے روز پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تھانہ سہالہ کی حدود میں دو افراد گاڑی سمیت برساتی نالے میں بہہ گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ برساتی نالہ آگے جا کر دریاے سواں میں گرتا ہے لیکن اس سے قبل نالے کے اوپر 500 میٹر تک کنکریٹ کور ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق کنکریٹ کے شیڈ کے نیچے اندھیرے اور پانی کے شدید دباؤ کے سبب بہہ جانے والے افراد کو تلاش کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔