سانحہ 9 مئی کیس: اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سمیت 36 ملزمان کو 10،10 سال قید

  • منگل 22 / جولائی / 2025

انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا نے 9 مئی 2023 کو میانوالی میں احتجاج کے مقدمے میں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بچھر اور دیگر ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سانحہ 9 مئی 2023 کے حوالے سے میانوالی کے تھانہ موسیٰ خیل میں درج مقدمہ نمبر 72 کا فیصلہ سنا دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر اور رکن قومی اسمبلی احمد چٹھہ سمیت پی ٹی آئی کے 36 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی۔ سزا پانے والوں میں سابق ایم این اے بلال اعجاز بھی شامل ہیں۔ ملزمان پر پُرتشدد احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور دیگر سنگین الزامات عائد تھے۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت سرگودھا کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک احمد بچھر نے کہا کہ عدالت نے سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمے کا قانونی ضابطے پورے کیے بغیر خلاف آئین فیصلہ دیا۔ 26 ویں ترامیم کے بعد حکومت نے عدالتوں کواپنے تابع کر لیا ہے۔ 9 مئی کے سیاسی مقدمات میں ہمیں اسی طرح کے فیصلوں کی امید ہے۔

ملک احمد بچھر نے کہاکہ تحریری فیصلہ موصول ہونے کے بعد ہائیکورٹ سے رجوع کروں گا۔ میری نااہلی کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 21 دسمبر 2024 کو فوجی عدالت نے سانحہ 9 مئی کے کیس میں ملوث 25 مجرموں کو 10 سال تک قید کی سزا سنائی تھی۔

بعدازاں 26 دسمبر 2024 کو فوجی عدالت نے سانحہ 9 مئی 2023 میں ملوث عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت مزید 60 مجرمان کو 10 سال تک قید بامشقت کی سزائیں سنادی تھیں۔ دریں اثنا پاک فوج کے کورٹس آف اپیل نے رواں سال 2 جنوری کو سانحہ 9 مئی 2023 کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔ اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا۔ سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے۔ راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔ ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

دریں اثنا وزیرِ مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ نو مئی مقدمات میں سرگودھا کی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ نومئی کومنصوبہ بندی کے تحت200سے زائد مقامات پر حملے کیے گئے، انسداد دہشت گردی عدالت میں تمام ملزموں کا شفاف ٹرائل ہوا۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ ریاست کی رٹ کوچیلنج کریں گے تو قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ پانچ اگست کا چورن بیچنے والے ہوش کے ناخن لیں،  نوجوان ان کے ناپاک عزائم کا بالکل حصہ نہ بنیں۔ نوجوان ریاست دشمن جماعتوں سے لاتعلقی کا اعلان کریں، نوجوان کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے بطور ایندھن استعمال نہ ہوں۔