آبادی کا بم

مجھے یاد ہے ایک بار میں نے جناب مجیب الرحمن شامی سے یہ سوال پوچھا تھا پاکستان کا اصل مسئلہ آپ کے نزدیک کیا ہے۔ انہوں نے اس کا جواب صرف تین لفظوں میں دیا تھا ”آبادی کا بم“۔

کل جب میں پنجاب پاپولیشن اینڈ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی سابق ڈی جی ثمن رائے سے بات کررہا تھا تو میں نے یہی جملہ انہیں سنایا۔ وہ کہنے لگیں پاکستان کے مسئلے کی اس سے اچھی تعریف کوئی نہیں ہو سکتی۔ پھر ان سے اس مسئلے پر بہت سی باتیں ہوئیں۔ ثمن رائے ان بیورو کریٹس میں سے ہیں جو معاشرتی ایشوز پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے 2016میں سوشل پالیسی پر اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کا اس حوالے سے گہرا مطالعہ ہے کہ قوموں کی زندگی میں خوشحالی کیسے آتی ہے۔ ان کا سوال تھا کہ اگر آپ کوئی منصوبہ ایک خاص آبادی کو سامنے رکھ کر بناتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس علاقے کی آبادی دوگنا ہو جاتی ہے تو اس منصوبے کی ساری افادیت دھری کی دھری رہ جائے گی۔

انہوں نے یہ حیران کن تجزیاتی بات بتائی کہ بنگلہ دیش میں آبادی کی شرح اس لئے کم ہو گئی ہے کہ وہاں خواتین کو ہنرمند بنا کر کام پر لگا دیا گیا ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ جب بنگلہ دیش مشرقی پاکستان تھا تو اس کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی، اس زمانے میں یہ تصور عام تھا کہ بنگالیوں کو سوائے بچے پیدا کرنے کے اور کوئی کام نہیں۔ وہاں آبادی کی شرح میں کمی واقعی ایک اہم بات ہے۔ مجھے خیال آیاکہ بنگالیوں نے تو اپنی خواتین کو ہنرمند بنا کے کام پر لگا دیا جو زرمبادلہ بھی کما رہی ہیں اور اس سوچ سے بھی باہر نکل چکی ہیں کہ عورت کا کام صرف بچے پیدا کرنا ہی ہے۔ ہم اس کے برعکس کیا کررہے ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے میٹھے زہر کے ذریعے عورتوں کو بھکاری اور مفلوج بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اربوں روپے اگر انہیں ہنرمند بنانے اور روزگار دینے پر خرچ کئے جائیں تو یہاں بھی بنگلہ دیشی ماڈل نافذ کیا جا سکتا ہے۔ مگر ایسا ہوگا نہیں کیونکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک گورکھ دھندہ ہے جس میں کرپشن کتنی ہے یا کرپشن کے مواقع کتنے ہیں اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

خیر یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ 25کروڑ آبادی کے پاکستان میں ہر سال 60لاکھ بچوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ دنیا میں بلند ترین شرح ہے۔ ثمن رائے نے اس حوالے سے خاصی تحقیق کی ہوئی ہے، وہ بتاتی ہیں کہ اس 25کروڑ آبادی میں سے تقریباً 13کروڑ آبادی پنجاب کی ہے۔ اس تیرہ کروڑ آبادی میں تقریباً نصف سے کچھ کم خواتین ہیں لیکن جو سب سے اہم بات ہے وہ اس خواتین کی آبادی میں ایسی خواتین کی تعداد چالیس فیصد ہے جو ماں بننے کے قابل ہیں۔ اب یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ آپ جتنی بھی ترقیاتی سکیمیں بنا لیں، تعلیم و صحت کے جتنے بھی منصبوے مکمل کریں وہ اس شرحِ افزائش کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

ثمن رائے نے بتایا وہ کچھ عرصہ پہلے انڈونیشیا گئیں تو وہاں ایک صدارتی حکم کے ذریعے تمام محکموں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے علیحدہ علیحدہ منصوبے بنانے کی بجائے ایسے منصوبے بنائیں جو ایک دوسرے کے مقاصد کو پورا کریں۔ اس طرح ایک ہمہ گیر ترقی کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا مریم نوازپنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں، پنجاب تیرہ کروڑ آبادی کا صوبہ ہے جو دنیا کے گیارہ بارہ بڑے ملکوں کے برابر ہے۔ اگر یہاں بھی انڈونیشین ماڈل نافذ کیا جائے جس میں خواتین کو ہنرمند بنانا پہلی ترجیح ہے تو ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز بہت سے نئے منصوبے متعارف کروا رہی ہیں، ہمہ گیر ترقی کے اس ماڈل کو بھی پنجاب میں نافذ کر دیں تو یہ ان کے دور کا بہت بڑا انقلابی قدم ہوگا۔ ثمن رائے کی باتیں اور موضوع پر یقینا ًبڑی اہمیت کی حامل ہیں۔

میں نے ایک بار ادارہ شماریات میں کام کرنے والے اپنے ایک شاگرد سے پوچھا جو اچھی پوسٹ پر تعینات تھا کہ کیا اربن اور ریورل آبادی کے تناسب میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ اس نے کہابہت زیادہ تبدیلی آ رہی ہے ۔پہلے ریورل اور اربن آبادی کی شرح 70اور 30فیصد تھی، اب 60اور 40فیصدہو گئی ہے۔ یہ توازن بگڑ رہا ہے جو آگے چل کر ہمارے مسائل میں مزید اضافہ کرے گا۔ شہر پھیلتے جا رہے ہیں اور شہروں کے گرد جو باغات اور جنگل ہوتے تھے، وہ ختم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں موسموں کے تغیر و تبدل میں نمایاں فرق آ گیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ مضافات کو ترقی دی جائے، وہاں بھی شہروں جیسی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ شہروں کی طرف آبادی کا رجحان رک سکے۔ اس میں وہ کامیاب بھی رہے ہیں۔ آج امریکہ میں یہ عالم ہے کہ وہاں شہری زمین سستی اور مضافاتی زمین مہنگی ہے۔ گزشتہ دنوں امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں طوفان آیا اور تباہی مچی تو میڈیا نے کہا لاس اینجلس تباہ ہو گیا، حالانکہ وہ لاس اینجلس نہیں اس کے مضافاتی علاقے تھے، جو شہر سے مہنگے تھے۔ میں سوچنے لگا یہاں حکمرانوں میں یہ بصیرت ہی نہیں۔سارا بجٹ چند شہروں پرخرچ کر دیتے ہیں  اور وہ بجٹ اس وقت بے کار ہو جاتا ہے جب ان شہروں کی آبادی اتنی ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

میں آپ کو کل ہی کی بات بتاتا ہوں۔ گلگشت کے برانڈ روڈ سے گزر رہا تھا تو مجھے ایک جگہ گاڑی پارک کرنا پڑی۔ ابھی میں گاڑی سے نکل ہی رہا تھا کہ ایک نوجوان عورت جس کی عمر بمشکل بائیس تئیس سال ہو گی، دروازے کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ اس نے گود میں ایک شیرخوار بچہ اٹھا رکھا تھا جبکہ اس کے ساتھ چار چھوٹے بچے تھے۔ میں نے پوچھا خیرات مانگ رہی ہو، ان کا باپ کہاں ہے۔ کہنے لگی وہ کام نہیں کرتا۔ تو کیا وہ صرف بچے پیدا کرتا ہے اور تمہیں مانگنے کے لئے بھیج دیتا ہے۔ اس نے بے ساختہ کہا بھیجتا نہیں چھوڑ کے جاتا ہے، دو گھنٹے بعد آکر لے جائے گا۔ میں نے سوچا 23سال کی عمر میں یہ پانچ بچوں کی ماں بن گئی ہے، آگے کیا ہوگا۔ اس نے ان بچوں کو پڑھانا ہے نہ کوئی ہنر سکھانا ہے، انہیں اپنے ساتھ مانگنے پر لگا دینا ہے اور وہ بے غیرت باپ ان کی کمائی پر عیاشی کرتا رہے گا۔

اعدادوشمار بتاتے ہیں ،شرح آبادی ناخواندہ طبقے میں سب سے زیادہ ہے۔ پڑھے لکھے طبقے میں شرح آبادی اسی اور نوے کی دہائی کے مقابلے میں کم ہوگئی ہے۔ اب اکثر تعلیم یافتہ گھروں میں دو بچوں کا رواج فروغ پا رہا ہے۔ مگر اس سے مجموعی شرح آبادی میں اس لئے کمی نہیں آ رہی کہ وہ طبقہ جس کا مقصد ہی گھر کے افراد کی تعداد بڑھانا ہے سب کچھ تہہ و بالا کر دیتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)