ناروے کا سانحہ 22 جولائی

22 جولائی 2011 ناروے کی تاریخ کا انتہائی غم انگیز اور دردناک دن ہے۔ اس دن  میں ایک نارویجن نسل پرست دہشتگرد نے اوسلو کے نواح میں اُوت اُویا کے جزیرہ پر جاری نارویجن آربائیدر پارٹی کی یوتھ لیگ کے سالانہ کنونش پر حملہ آور نے 69 نہتے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

آندرش بھیرینگ بھرہیوک نامی دہشتگرد نے اُوت اُویا پرحملہ آور ہونے سے پہلے اوسلو شہر کے مرکز میں واقع وزیراعظم سیکرٹریٹ کے سامنے ایک بارود سے بھری گاڑی کو اُڑا کر مرکزی حکومت کے دفاتر کو تباہ کیا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوئے۔ وزیراعظم دفتر کے باہر دہشگردی کی واردات کے بعد وہ دوسری گاڑی میں بیٹھ کر اُوت اُویا کی جانب روانہ ہوا۔ اُوت اُویا کا جزیرہ اوسلو کے مغرب میں 40 کلو میٹر کے فاصلے پر تھیری فیورد Tyrifjord کے اندر واقع ہے۔ جہاں پر ہر سال آربائیدر پارٹی کی تنظیم نوجوانان کا سالانہ سیاسی تربیتی کیمپ منعقد ہوتا ہے جو ملکی سیاست میں بحث مباحثے کا بڑا اہم اجتماع بھی مانا جاتا ہے۔

اس اجتماع میں پورے ناروے سے پارٹی کی نوجوان تنظیم کے مندوب شریک ہوتے ہیں۔ یہ جزیرہ پارٹی کی تنظیم نوجوانان کی ملکیت ہے جس کو 1933 میں ناروے کی مزدور تحریک نے دائیں بازو کی پارٹی ہائیرے کے سیاستدان اورسابق وزیراعظم ینس کرسچیان براتلی سے خریدا تھا۔ ابتدا میں یہ جزیرہ اوسلو کے غریب اور مزدوروں کے بچوں کے لیے موسم سرما کی چھٹیاں منانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ لیکن 1951 میں اس کو باضابطہ طور پر نوجوان تنظیم کو تحفہ کر دیا گیا اور پھر یہ بائیں بازو کی سیاسی جماعت کے نوجوانوں کی سیاسی تربیت گاہ کا مرکزبن گیا۔ اس جزیرہ پر رسائی کے لیے تھور بیورن Thorbjørn نامی کشتی ہر وقت موجود رہتی ہے، جو یہاں پر منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکا کو پہنچانے کا واحد ذریعہ ہے۔

22 جولائی 2011 میں اوسلو میں دہشتگردی کی واردات کرنے کے بعد نسل پرست دہشتگرد تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے بعد اُوت اُویا کے سامنے موجود کشتی کے گھاٹ پر پہنچتا ہے اور کشتی کے عملہ کو جزیرے پر لے جانے کے لیے کہتا ہے۔ اُس نے اپنی پوری منصوبہ بندی بڑی باریک بینی سے کر رکھی تھی کیونکہ جب وہ اُوت اُویا جانے کے لیے پہنچا تو اُس نے نارویجن پولیس کی وردی زیب تن رکھی تھی اور خود کو پولیس اہلکار کے طور پر متعارف کروایا۔ کیونکہ اوسلو میں کوئی دو گھنٹے پہلے ساڑھے تین بجے کے قریب پیش آنے والی دہشتگردی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل چکی تھی اور اس وقت یورپ میں اسلامی انتہا پسندی کے نام پر پیش آنے والے چند واقعات کے پس منظر میں، اس واقع پر بھی یہی چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں ۔ لہذا اس دہشتگرد نے اس خوف اور دہشت کی فضا سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خود کو پولیس کا اہلکار بتاتے ہوئے، حفاظتی تدابیر کے لیے جزیرہ تک پہنچنے کو جواز بنایا۔

وہاں پہنچتے ہی سب سے پہلے اُس نے ایک پولیس اہلکار جو وہاں رضاکارانہ حفاظتی ڈیوٹی کے لیے موجود تھا، کو گولی مار کر ہلاک کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ سے نوجوانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں نوجوانوں نے بھاگنا شروع کیا۔ کچھ جان بچانے کے لیےمختلف عمارتوں کے اندر چُھپنے کی کوشش کرتے رہے تو کچھ نے جزیرے پر موجود چھوٹی چھوٹی غاروں میں پناہ لی۔ بہت سے نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں نے سمندر میں چھلانگ لگا دی لیکن ظالم دہشتگرد کنارے پر کھڑے ہو کر ان کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتا رہا۔ بڑی تعداد میں کچھ بچے تیر کر دوسرے کنارے پہنچے لیکن اکثریت کو اس وقت جزیرہ کے اردگرد اپنی نجی کشتیوں میں سیر کرنے والوں نے سوار کر کے بچایا۔ اسی عرصہ کے دوران بڑے ہی رقت آمیز مناظر بھی رونما ہوئے اور خاص کر دل کو ہلا دینے والی کہانیاں جب بہت سے بچے فون پر اپنے والدین کو اس بے رحمانہ قتل عام کا بتاتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ چھپنے کی کوئی جگہ نہیں، ساتھ ہی والدین سے یہ کہہ رہے تھے کہ شاید اب ہمارا آخری وقت آ چکا ہے۔ اور ہم بچ نہ پائیں گے۔ لہذا ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو بہت چاہتے ہیں اور پیار کرتے ہیں۔

کئی ایسے بھی تھے جو فون کرتے کرتے خاموش ہو گئے اور پھر اُن کے فون بھی ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے اور والدین کو اُن کے لاشے ملے۔ اس واقع میں جہاں درد اور دکھ پنہاں ہے، وہیں اُس نے نارویجن پولیس کی اہلیت کو بھی گزند پہنچائی اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے ناروے کبھی ایسی دہشتگردی سے دوچار نہیں ہوا تھا۔  شاید کبھی ایسا سوچا بھی نہ ہو۔ پولیس کی اہلیت پر پہلا سوال یہ تھا کہ حفاظت کے حوالے سے آنے والی جدیدیت کے باوجود یہ کیسے ممکن ہوا کہ اوسلو کے وسط میں اور وزیراعظم سیکرٹریٹ جیسی احساس ترین جگہ پر دہشگردی کی واردات کرنے والا بغیر کسی رکاوٹ کے اتنا طویل سفر طے کر کے نئی جائے واردات پر کیسے پہنچ گیا۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ اتنی بڑی واردات ہو جانے کے بعد اوسلو کے گرد ونواح میں پولیس کو فوراً الرٹ کیوں نہ کیا جاسکا ۔ کیونکہ اوسلو میں کیے جانے والے دھماکے کے تقریباً دو گھنٹے بعد اُوت اُویا میں قتل عام شروع ہوا اور پھر جب وہاں سے پولیس کو مدد کے لیے طلب کیا گیا تو پولیس کوئی ایک گھنٹہ بعد وہاں پہنچی۔ حتیٰ کہ پولیس کی کشتی بھی راستے میں خراب ہو گئی۔

اُوت اُویا پہ قتل عام کرنے والے نسل پرست دہشتگرد ایک زمانے میں ناروے کی دائیں بازو کی جماعت فریم سکرتس پارٹی کا ممبر رہ چکا تھا۔ اُس نے اس دہشتگردی کو انجام دینے کے لیے آربائیدر پارٹی کی نوجوان قیادت کو نشانہ بنانے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہ جماعت اپنے سیاسی نظریہ کے پیش نظر ایک کثیرالثقافتی معاشرے کی تشکیل پر یقین رکھتی ہے۔ لہذا اُس نے تشدد کے ذریعے اس جماعت کو اس کی نظریاتی اساس پر سزا دینے کے لیے، یہ قتل عام کیا۔

اس قتل عام میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت ناوریجن تھی لیکن کچھ تارکین وطن نوجوان بھی ہلاک ہوئے تھے۔ یہ دن ناروے کی تاریخ میں سیاہ ترین اور کرب و دکھ کی علامت ہے۔ گو دہشتگرد تاحیات قید میں بھیجا جا چکا ہے لیکن اس واقع  نے پرُامن معاشرے کی شہرت رکھنے والے ناروے کی بنیادوں کو جنجھوڑ  کے رکھ دیا ہے جس سے ہر 22 جولائی کی صبع پورا ناروے اشکبار ہوتا ہے۔