سانحہ 9 مئی پر سزاؤں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

سرگودھا اور لاہور میں  انسداد دہشت گردی کی دو مختلف عدالتوں نے  پاکستان تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں کو سانحہ 9 مئی میں ملوث ہونے  پر دس دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سرگودھا عدالت سے 36 جبکہ لاہور عدالت سے 10 ملزمان کو  سزائیں ملی ہیں۔ پارٹی کے نائب چئیرمین شاہ محمود قریشی   سمیت 6 ملزموں کو بری کردیا گیا ہے۔

دو سال سے زیادہ مدت گزرنے کے بعد بالآخر ان مقدمات کے فیصلے سامنے آئے ہیں۔ اب متاثرین اعلیٰ عدلیہ سے رابطہ کرکے ریلیف لینے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس حد تک یہ فیصلے خوش آئیند ہیں لیکن ملک میں موجودہ حکومتی نظام  میں عدالتوں کی بے بسی اور جانبداری کے بارے میں جو  تاثر موجود ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ سزائیں اس سیاسی بیانیہ کو مضبوط کریں گی کہ حکومت عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو  سزائیں دلا کر اپنا غیر قانونی اقتدار قائم رکھنا چاہتی ہے۔ حالانکہ  اگر ان تمام ملزموں کو بری بھی کردیا جاتا تو بھی  عدالتوں کے  بارے میں تحریک انصاف کے  مؤقف میں سر مو فرق نہ آتا۔ کیوں کہ پارٹی یہ طے کرچکی ہے کہ  مخالفت میں آنے والے ہر عدالتی فیصلے کو  نظام عدل کا خون اور موافقت میں آنے والے فیصلے کو عدالتی  خود مختاری کی علامت  بنا کر پیش کیا جائے۔

جیسے یہ  توقع کی جارہی تھی کہ  انسداد دہشت گردی کی عدالتیں سانحہ 9 مئی کے ملزموں  کوطویل المدت سزائیں دیں گی،  ویسے ہی  یہ بھی نوشتہ دیوار تھا کہ تحریک انصاف ان فیصلوں کو مکمل طور سے  عدالتی نظام کی ناکامی اور  ناانصافی  پرمحمول کرے گی۔  لہذا عدالتی فیصلوں کے بعد ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ ’سزائیں قانون کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر دی گئی ہیں۔ عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ آج کے فیصلوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عدالتیں ناکام ہو گئی ہیں۔ آج متنازع فیصلوں میں ایک نئے فیصلے کا اضافہ ہوا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر پنجاب سمیت پی ٹی آئی کے 3 اراکین پارلیمنٹ کو سزا ہوئی ہے‘۔

دوسری طرف حکومت کے ترجمان  اور وزیرمملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ’  9مئی مقدمات میں عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس دن منصوبہ بندی کے تحت200سے زائد مقامات پر حملے کیے گئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں تمام ملزموں کا شفاف ٹرائل ہوا۔  9 مئی کیس میں انصاف کا بول بالا ہوا ہے۔ تمام شواہد پیش کیے گئے، تمام تقاضے پورے کیے گئے، فیصلہ آئین و قانون کے مطابق ہے۔ فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو کہتے ہیں فیصلہ منظور نہیں‘۔

سرگودھا و لاہور کی انسداددہہشت گردی عدالتوں نے  بالترتیب 36 اور  10 افراد کو سزائیں دی ہیں۔  ان میں سے بیشتر کو دس دس سال کی قید  کا حکم دیا گیا ہے۔ سزا پانے والوں میں تحریک انصاف کی ممتاز لیڈر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر عمر سرفراز شامل ہیں۔  اسی طرح سرگودھا عدالت  نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بچھر اور دیگر ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ واضح رہے  گزشتہ دنوں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اپوزیشن لیڈر سمیت تحریک انصاف کے متعدد ارکان پر وزیر اعلیٰ کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی کرنے پر  اسمبلی اجلاس میں شرکت پر پابندی لگائی تھی اور الیکشن کمیشن میں ان کی  نااہلی کی درخواست بھی دائر کی تھی۔ تاہم بعد میں اس بارے میں اپوزیشن سے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوشش کی گئی۔ لاہور کی عدالت نے آج  جو فیصلہ سنایا ہے اس میں تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی سمیت 6 افراد کوسانحہ 9 مئی کے  الزامات سے  بری بھی کیا گیا ہے۔

ملک کا عدالتی نظام سست  اور پیچیدہ ہے۔ اسی لیے سانحہ 9 مئی کے 26 ماہ بعد  سزاؤں  کا اعلان ہؤا ہے۔ اس دوران  ان الزامات میں گرفتار کیے گئے  لوگوں کی ضمانتیں بھی نہیں ہوسکی تھیں۔ بلکہ اگر کسی عدالت نے کوئی ضمانت منظور کی  بھی تو حکومت نے فوری طور سے اس شخص کو کسی دوسرے الزام میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا۔  یہ صورت حال گرفتار ہونے والے لوگوں اور ان کے اہل خاندان کے لیے انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ تھی۔ اب فیصلوں کا اعلان ہونے کے بعد ٹرائل کورٹ سے معاملہ آگے بڑھ سکے گا اور امید ہے کہ ان معاملات کا حتمی فیصلہ سپریم کورٹ میں ہی ہوگا۔ البتہ ملک کے عدالتی نظام کی صورت حال  میں اپیلوں پر فیصلے ہوتے دہائیاں بیت جاتی ہیں۔ یہ معاملات چونکہ ایک بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈروں و کارکنوں کے خلاف سنگین الزامات پر مبنی ہیں، اس لیے یہ عمومی  عدالتی تاخیر ملک کی سیاسی صورت حال پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔

خاص طور سے اس معاملہ میں عمران خان کی مسلسل حراست اور تحریک انصاف کا ان کی رہائی پر اصرار   ایک  مثالی صورت حال بن چکی ہے۔ حکومت اسے انصاف کے تقاضے کے مطابق اور شفاف عدالتی کارروائی کہتی ہے جبکہ تحریک انصاف خاص طور سے عمران خان کی  قید کو سیاسی تناظر میں دیکھتی ہے اور ہر معاملہ میں یہی مطالبہ سامنے لایا جاتا ہے کہ پارٹی کے بانی کو رہا کیا جائے۔ تاہم اب  سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں سزائیں دینے کا  عمل شروع ہوگیا ہے۔ ا س لیے اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ   کوئی عدالت عمران خان کو بھی   اس روز احتجاج اور توڑ پھوڑ میں شامل ہونے یا اس کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں طویل المدت سزا سنا دے۔  ایسا کوئی فیصلہ سیاسی ماحول کو مزید پراگندا کرے  گا۔  واضح رہے کہ لاہور و سرگودھا کی عدالتوں میں استغاثہ نے ملزمان کو سزائیں دلانے کے لیے جو مقدمہ پیش کیا تھا اس میں یہی مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس احتجاج  کی تیاری  بنی گالہ میں 7 مئی کو کرلی گئی تھی  اور عمران خان اس سے باخبر تھے بلکہ اس میں شامل تھے۔ اس مؤقف کی عدالتی تصدیق کے بعد عمران خان کے خلاف سرکاری مقدمہ مضبوط ہوجائے گا۔

دوسری  طرف دیکھنا ہوگا کہ شاہ محمود قریشی  کو بری کرنے کا کیا مقصد ہے۔ انہیں عام طور سے معتدل مزاج اور متوازن سیاسی لیڈر  کی شہرت حاصل ہے ۔ تجزیہ نگار  ان کی قیادت میں ایک نئی تحریک انصاف کے ظہور کے بارے میں پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں۔  ابھی تک  عدالتی فیصلے میں شاہ محمود قریشی کو بری ہی کیا گیا ہے تاہم دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں انہیں رہا کیا جاتا ہے یا کسی دوسرے الزام میں  بدستور قید رکھا جاتا ہے۔  اگر شاہ محمود قریشی رہا ہوجاتے ہیں اور پرویز الہیٰ کی طرح    خاموشی سے گھر بیٹھنے کی بجائے سیاسی طور سے متحرک ہوتے ہیں تو  ایک نئی سیاسی صورت حال پیدا ہوگی جس میں تحریک انصاف کی موجودہ قیادت جو عام طور سے عمران خان سے وفاداری کے سوال پر ایک دوسرے سے ہی الجھی رہتی ہے، غیر متعلق  ہوسکتی ہے۔  ایسی صورت میں ایک ایسی تحریک انصاف سامنے آئے گی جس کی قیادت ایک ایسے لیڈر کے ہاتھ میں ہوگی جو پارٹی کے لیے دو سال سے زیادہ مدت تک بے گناہ قید میں رہا اور جسے بظاہر عمران خان کا اعتماد بھی حاصل ہے لیکن وہ اسٹبلشمنٹ سے مراسم کی تاریخ بھی رکھتا ہے۔ اس ’رہائی ‘ کو عمران خان کی طرف سے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ راہ ورسم بڑھانے کی خواہش کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ یوں تو یہ کردار علی امین گنڈا پور بھی ادا کررہے تھے اور شاید انہیں بھی عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کا اعتماد حاصل ہے۔ لیکن وہ اپنے طرز تکلم کی وجہ سے اعتماد و مصالحت کا کوئی خاص ماحول پیدا نہیں کرسکے۔ ایسے میں شاہ محمود قریشی کی رہائی  تحریک انصاف اور ملکی سیاسی ماحول کے لیے ایک اچھی خبر ہوسکتی ہے۔ ان کی قیادت میں تحریک انصاف سیاسی مذاکرات کی طرف بڑھ سکے گی۔

عدالتی فیصلوں میں فی الوقت تین  ارکان اسمبلی کو سزا دی گئی ہے۔ ان سزاؤں کے نتیجے میں وہ اسمبلیوں کی رکنیت سے نااہل ہوسکتے ہیں لیکن ابھی  درجنوں دوسرے ارکان اسمبلی پر بھی سانحہ 9 مئی کے الزامات میں مقدمے قائم ہیں۔ خاص طور سے خیبر پختون خوا اسمبلی  کی صورت حال خاصی دلچسپ ہوسکتی ہے۔ اگر کے پی  کے اسمبلی  میں تحریک انصاف کے  دس بیس ارکان  سزائیں پانے کے بعد نااہل ہوجاتے ہیں تو وہاں تحریک انصاف کی حکومت ختم کرنا آسان ہوجائے گا۔ مخصوص سیٹوں میں حصہ  ملنے کے  بعد خیبر پختون خوا اسمبلی میں  اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔ اب تحریک انصاف پر ایک اور وار کرکے اسے وہاں اقتدار سے محروم بھی کیا جاسکتا ہے۔

سانحہ 9 مئی  میں ملوث ہونے پر تحریک انصاف کے لیڈروں کو سزاؤں کے ملکی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر  معاملات کو ہوشمندی  سے  طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس سے بہتری کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں لیکن اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے اگر جارحانہ احتجاج ہی کو حتمی  راستہ قرار دیا تو حکومت بھی تحریک انصاف کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ ایسی کوئی بھی کوشش عوامی نمائیندگی کے اصول کے خلاف ہوگی اور اس سے ملکی مفاد حاصل نہیں ہوگا ۔لیکن  تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کی جنگ میں قومی مفاد محض نعرے کی حیثیت رکھتا ہے۔