حکمران، سیاستدان اور بیوروکریٹس سب برے اور ہم عوام اچھے؟
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 23 / جولائی / 2025
یوں تو کوئی بھی معاشرہ ہو اس میں مجموعی طور پر سب رویے ایک جیسے ہوتے ہیں کیونکہ سب اسی سرزمین پر پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔ تو خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔
لیکن پھر بھی انسانوں میں فرق ہوتا ہے اور بالحاظ عہدہ، رتبہ اور عمر انسانوں میں بہت فرق ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ بلاشبہ کسی بھی ملک کے راہنماؤں اور اداروں کے سربراہان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، انہوں نے راستہ بنانا ہوتا ہے جس پر سب چل پڑتے ہیں۔ راہنما ملکی ترقی کا ویژن دیتے ہیں، حکومت ایسا نظام بناتی ہے جس کے اندر تمام ادارے درست کام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور عوام بھی ہیرا پھیری نہیں کر سکتے۔ جب حکومتیں اور ادارے چلانے والے غلط کام کرتے ہیں، اپنے مفادات کو فوقیت دیتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، بدعنوانی کرتے ہیں، اپنے مینڈیٹ اور اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں تو پھر سب کا اعتبار ٹوٹ جاتا ہے۔۔ اور قوم بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہی کچھ ہمارے ملک کے ساتھ ہوا ہے۔
پاکستان معرض وجود میں آتے ہی یرغمال بنا لیا گیا تھا، ہو سکتا ہے کہ دنیا کی استعماری قوتوں نے پاکستان بنوایا ہی اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہو۔ اسی لیے آج تک اس ملک میں جمہوریت کو پنپنے دیا گیا، نہ کوئی ایسا نظام بننے دیا جس میں سب کو برابر مواقع ملتے۔ اور ملکی وسائل کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا جاتا۔ مگر جو لوگ شروع سے اس ملک پر مسلط ہیں ان کو ملکی ترقی سے اس لیے سروکار نہیں ہے کہ ان کے اپنے حالات بہت اچھے ہیں۔ وہ کسی قانون کے پابند نہیں، ان کے پاس نوکروں کے پورے پورے یونٹس ہیں اور ان کی اپنی اولادیں اور جائیدادیں ترقی یافتہ ممالک میں ہیں۔ وہ خود بھی پاکستان میں اس وقت تک ہی رہتے ہیں جب تک ان کے پاس اختیارات ہوتے ہیں۔ ان کی حکومت ہوتی ہے اور ان کو تنخواہوں، مراعات کے علاوہ ناجائز آمدنی بھی مل رہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد ان کے ٹھکانے یورپ، امریکہ، کینیڈا یا دوبئی میں ہوتے ہیں۔ اسی لیے انہیں اس چیز کی پرواہ نہیں کہ پاکستان ترقی کرے یا نہ کرے۔
مجھے ان لوگوں سے گلہ نہیں ہے کیونکہ وہ ہمارے تھے، نہ ہیں اور نہ ہی ہوں گے۔ بلکہ وہ تو ہمارے وسائل لوٹنے والے ہیں۔ مجھے شکوہ ہے تو اپنے جیسوں کا شکوہ ہے کہ وہ کیوں نہیں سوچتے؟ وہ اپنا حق لینے کے لیے اپنے جیسوں کے ساتھ مل کر کوشش کیوں نہیں کرتے ہیں؟ وہ ہر طرح کا ظلم سہتے ہیں مگر مزاحمت نہیں کرتے۔ جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ فریاد بھی انہی سے کرتے ہیں جو ان پر ظلم کروانے والے ہوتے ہیں (وزیراعظم، چیف آف آرمی اور چیف جسٹس سے اپیلیں)۔
وہ اپنے دائیں بائیں کیوں نہیں دیکھتے، اپنے جیسوں کو آواز کیوں نہیں دیتے؟ وہ آپس میں متحد ہو کر جدوجہد کیوں کر نہیں کرتے؟ جب تک کسی پر ظلم نہیں ہوتا اس کے اندر دوسروں پر ہوتے ظلم کو دیکھ کر تڑپ کیوں کر پیدا نہیں ہوتی ہے؟ وہ اپنے درمیان میں سے اپنے جیسوں کو اپنے نمائندے کیوں منتخب نہیں کرتے؟ ہمارے عام کاروباری لوگ ٹیکس دیتے ہیں، نہ ٹیکس نہ دینے والوں کو کوئی بری نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم ایک انتہائی غیر ذمہ دار قوم کا روپ دھار چکے ہیں۔
ذرا اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر سوچیں کہ کہیں ہم سب کے اجسام بدعنوانی میں تو نہیں لتھڑے ہوئے؟ کیا ہم بھی اپنی بساط کے مطابق دوسروں کے حقوق پر ڈاکے نہیں ڈالتے؟ کیا ہم اپنے اجتماعی مسائل کے حل کا سوچتے ہیں اور اجتماعی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم انہی سیاستدانوں ، حکمرانوں اور اشرافیہ کے آگے پیچھے نہیں بھاگتے جن کے بارے میں ہمارا گمان ہے کہ انہوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کر رکھا ہے، جنہوں نے ہمارے وسائل لوٹ کر ہمیں غربت کی دلدل میں پھنسا رکھا ہے؟ کیا کہیں موقع ملنے پر ہم بھی قانون نہیں توڑتے، کیا ہم ہر جگہ جھوٹ نہیں بولتے؟ کیا ہم اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہر حد سے نہیں گزر جاتے؟
میرے دوستو کیا آپ سوچتے نہیں ہیں؟ اگر سوچتے پھر تو ہمیں اب تک سمجھ آ جانا چاہیے تھی کہ ہمارے رہبر ہی ہمارے ڈاکو ہیں۔ ہم یہ بھی سمجھ چکے ہوتے کہ سارے مسائل حکومت کے پیدا کردہ ہیں، نہ حکومت ان کو حل کر سکتی ہے۔ بلکہ بہت زیادہ مسائل عام عوام کے پیدا کردہ ہیں۔ اور ان کا حل بھی عوام کے پاس ہے۔ ایک تو ہم ووٹ بھی انہی کو دیتے ہیں جن کے بارے ہمارا گمان ہے کہ انہوں نے ہمارے قومی وسائل لوٹ کر پاکستان کو معاشی دلدل میں پھنسا رکھا ہے۔ دوسرا ہم موقع ملنے پر اپنی بساط کے مطابق خود بھی بدعنوانی سے باز نہیں آتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے انتخابات میں ابھی ایک سال باقی ہے کیا ہم نے ابھی سے تیاریاں نہیں کر لیں کہ انہی میں سے کسی کو ووٹ دیں گے جنہوں نے جی بھر کر ہمیں لوٹا ہے اور ہمارا استحصال کیا ہے؟
اپنے گریبانوں میں جھانک کر سوچیں کہ کیا ہمارے حکمران ہی برے ہیں یا ہمارا بھی کوئی قصور ہے؟ جب تک ہم میں سے ہر بندہ اپنے کردار کا جائزہ نہیں لے گا، جب تک ہر بندہ اپنے ووٹ کا استعمال قومی مفاد کے زیر اثر نہیں کرے گا، جب تک ہم اپنی طاقت کو بروئے کار لا کر اپنے ملک کے نظام کو درست کرنے کی جدوجہد کا حصہ نہیں بنیں گے، اس وقت تک حالات بد سے برتر ہوتے رہیں گے۔