غزہ: بھوک سے مرتے لوگ اور محو استراحت عالمی ضمیر
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 23 / جولائی / 2025
اقوام متحدہ سے منسلک اداروں کی اطلاعات کے مطابق غزہ میں غذائی قلت اور دواؤں کی عدم فراہمی کی وجہ سے قحط کی صورت حال سنگین ہوچکی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ایک سو سے زائد لوگ بھوک کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکومت ایسی معلومات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے متعدد فلسطینیوں کو حال ہی میں گرفتار کیا ہے لیکن ان میں تو کوئی لاغر نہیں تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غزہ میں قحط کے آثار کی خبریں جھوٹ ہیں۔
کوئی سچ اس وقت تک جھوٹ بنا رہتا ہے جب تک اسے ثابت کرانے کی طاقت موجود نہ ہو۔ فلسطینیوں کے بارے میں عام طور سے اور غزہ کے شہریوں کے بارے میں بطور خاص یہ بات بلاخوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اسرائیلی مظالم کا اعتراف کرنے اور برسر عام انسانیت کی توہین سے لبریز اقدامات کے باوجود دنیا بھر میں کوئی ایسی مستحکم آواز موجود نہیں ہے جو غزہ کے لوگوں کے لئے ریلیف کا اہتمام کرسکے۔ نیتن یاہو نے غزہ میں فلسطینی لوگوں کی قید کو غزہ میں قحط کی خبروں کو مسترد کرنے کا جو مؤقف اختیار کیا ہے، اس کے بارے میں نرم ترین الفاظ میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی حکومت کے ایک گھناؤنے جرم کو چھپانے کے لیے دوسرے جرم کو ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ کہنا گمراہ کن ہے کہ غزہ میں کسی قسم کی کوئی عسکری مزاحمت موجود ہے ۔ اسرائیلی فوج محض اپنی دہشت قائم کرنے اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے نہتے، بھوکے اور مجبور لوگوں کو گرفتار کرتی ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم ناجائز، غیر قانونی ، غیر انسانی اور عالمی قوانین سے متصادم اس اقدام کو غزہ میں لوگوں کو بھوکا مارنے کے جرم کی پردہ پوشی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
دریں حالات غنیمت جاننا چاہئے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کم از کم لوگوں کے ایک بڑے گروہ کو بھوکا رکھنے کے جرم کو ابھی تک جرم ہی مانتے ہیں اور اس سے انکار کی کوشش نہیں کرتے ۔ تاہم گزشتہ 22 ماہ کے دوران اسرائیل نے جس سنگدلی اور ڈھٹائی سے غزہ کے نہتے لوگوں کو امریکہ سے فراہم ہونے والے بارود سے نشانہ بنایا ہؤا ہے، اور ہر انسانی اصول اور عالمی ضابطے کو پاؤں تلے روندا ہے، اس کی روشنی میں اب یہ کچھ مدت ہی کی بات ہے اسرائیلی وزیراعظم فلسطینیوں کو بھوکا مارنے کو بھی جرم کی بجائے اپنی ضرورت قرار دینا شروع کردیں گے۔ اور اس حرکت پر فخر کریں گے۔ حیرت ہوتی ہے کہ محض چند دہائیوں پہلے نازیوں کے ہاتھوں ہولوکوسٹ جیسے انسانیت سوز مظالم کا شکار ہونے والی قوم، اب اس سے بھی بڑھ کر سنگدلی اور بربریت سے فلسطینیوں کو ہلاک کررہی ہے لیکن دنیا بھر میں کوئی بھی اس کا ہاتھ روکنے کے قابل نہیں ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے ہر صبح کا آغاز اس خبر سے ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے خوراک لینے کے لیے قطار میں لگے کتنے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ عام طور سے یہ تعداد ایک سے پانچ سات درجن تک ہوتی ہے۔ نہ اسرائیلی حکومت کو اس پر کوئی شرمندگی ہے اور نہ ہی دنیا سے کوئی آواز اس ظلم کو روکنے کے بلند ہوتی ہے۔ امریکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شاید واحد طاقت ہے جو اسرائیل کو اس ظلم سے روک سکتا ہے۔ لیکن ٹرمپ کی قیادت میں امریکی ایجنڈے کے بارے میں کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی۔ چند ماہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لوگوں کو دیگر عرب ممالک میں’باعزت‘ زندگی گزارنے کا مشورہ دے کر یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اس خوبصورت علاقے کو تجارتی مرکز اور تفریحی رہائشوں میں تبدیل کردیا جائے۔ چند عرب ممالک کی طرف سے کمزور سے مخالفت ضرور سامنے آئی اور مصری حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا جاتا رہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ بلکہ عرب ممالک کی نگرانی میں امیر عرب ملکوں کی مدد سے ہی غزہ کی تعمیر نو کی جائے۔ البتہ یہ منصوبہ بھی کہیں بیانات اور دعوؤں کے ہجوم میں گم ہوگیا۔ اب فلسطینیوں کے مرنے پر کسی طرف سے مذمت کا کوئی بیان بھی سنائی نہیں دیتا۔
یورپ ،غزہ کی انسانیت سوز صورت حال میں کوئی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں تھا۔ متعدد یورپی ملکوں کے عوام اب بھی تواتر سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج منظم کرتے ہیں اور عالمی ضمیر جنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہورہا ہے کہ عالمی ضمیر نام کی چیز سیاسی و معاشی مفادات کی اسیر ہے۔ انسانیت اور عوامی حاکمیت کے اصولوں کو جمہوریت اور عالمی ورلڈ آرڈر کی بنیاد بتانے والے یورپی ممالک اور ان کی نمائیندہ یورپی یونین کسی قسم کا واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرنے میں ناکام ہے۔ سپین، آئرلینڈ اور ناروے کی حکومتوں نے ضرور مسلسل اسرائیلی اقدامات کو ناجائز اور غلط قرار دیا ہے لیکن ان کی آوازیں یورپ کے بڑے ملکوں، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مفادات اور شرمناک سیاسی طرز عمل کے سامنے کوئی اہمیت حاصل نہیں کرپاتیں۔
غزہ میں قحط اور ہلاکت خیزی کے بارے میں رپورٹ کرتے ہوئے نارویجئن براڈ کاسٹنگ کارپوریشن این آر کے، کے نمائیندے یاما وولاسمل نے آج اسرائیل سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں ہر طرف موت کا سایہ ہے۔ وہاں کے شہریوں کو صرف موت ہی سے گلے ملنا ہے۔ غزہ کے ایک باشندے نے انہیں بتایا کہ وہ یا تو اسرائیلی بمباری میں مرجائیں گے، یا خوراک حاصل کرنے کے لیے لگی ہوئی قطار میں کسی فوجی کی گولی کا نشانہ بن سکتے ہیں یا اگر ان دونوں صورتوں میں ’محفوظ‘ رہیں تو وہ اپنے گھر میں بھوک سے مرجائیں گے۔ غزہ کے شہریوں کے پاس مرنے کے لیے بس یہی تین آپشن ہیں۔
اسرائیل اس دوران اپنے باقی ماندہ یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے جنگ کررہا ہے۔ دنیا نے اب اس حقیقت پر حیران ہونا چھوڑ دیا ہے کہ غزہ کے چپے چپے پر تباہی و بربادی مسلط کرنے والی اسرائیلی فوج آخر کیوں ان یرغمالیوں کو رہا نہیں کرا پائی؟ اسرائیل میں یہ سوال اس لیے نہیں اٹھایا جاسکتا کہ اسرائیل کے ’امن پسند‘ شہریوں کو غزہ میں فلسطینیوں کے مرنے یا مارے جانے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہیں مسلسل یہ سبق یاد کرایا گیا ہے کہ فلسطینی ان کے دشمن ہیں اور حماس اسرائیل کو تباہ کردینا چاہتی ہے۔ اس لیے اب کوئی یہ بھی نہیں پوچھتا کہ حماس نام کی یہ قوت اپنے ہی لوگوں کو بچانے کے لیے کیوں کہیں دکھائی نہیں دیتی؟
یہ سوال بہر طور اہم ہے کہ حماس سے کون لوگ وابستہ ہیں اور دوحا میں اسرائیل و امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں کے علاوہ حماس کی عسکری قوت کہاں ہے اور اسے کہاں سے اسلحہ، خوراک اور چھپنے کی جگہ میسر ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب یا تو اسرائیل کے پاس ہے یا غزہ کے شہری اس کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ لیکن آزاد دنیا کے آزاد میڈیا کو غزہ جانے اور وہاں کے حالات رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مقامی طور سے رپورٹ بھیجنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں صحافیوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ حماس نام کی عسکری قوت یا دہشت گرد گروہ اگر کہیں موجود ہے تو وہ یا اسرائیلی سفاکی کا سامنا کرنے والے فلسطینیوں کے دلوں میں نفرت کے طور پر پایا جاتا ہے یا یہ کسی ایسے گروہ کا نام بن چکا ہے جسے طاقت کی عالمی سیاست میں ایک مہرے کے طور پر زندہ رکھنا ضروری سمجھا جارہا ہے۔ بصورت دیگر کیا وجہ ہے کہ اسرائیل ہی نہیں عرب ممالک بھی غزہ کے المیہ کا حل پیش کرتے ہوئے، حماس کی بجائے غزہ کے انتظام کا کوئی قابل عمل، عوام کی امنگوں کے مطابق اور منصفانہ متبادل پیش نہیں کرپاتے؟ کیا سب پر یہ خوف طاری ہے کہ اگر غزہ کے لوگوں کو انتخاب کا حق دیا گیا تو وہ دوبارہ حماس ہی کو اپنا نمائیندہ نہ چن لیں۔ اور عوام کے مفاد کے یہ کیسے نمائیندے ہیں کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرانے پر آمادہ ہیں۔
اس دوران اسرائیل نے اپنے ’حق دفاع‘ کی جو تصریح دنیا کے سامنے پیش کی ہے، اس میں وہ ہر اس ملک پر حملہ کرنے کا اعلان ہی نہیں بلکہ اقدام کررہا ہے جو فلسطینیوں کے جینے کی حمایت کرتا ہے۔ اپنی حفاظت کے عذر پر اسرائیل، لبنان، یمن اور شام کو نشانہ بنانے کے بعد ایران پر حملہ کرچکا ہے اور دنیا بھر سے داد وصول کرچکا ہے۔ اب دروز کی حفاظت کے نام پر وہ ایک بار پر شام پر حملہ آور ہے لیکن کوئی اسرائیل کی طرف سے عالمی حدود کی خلاف ورزی کی مزاحمت کے قابل نہیں ہے۔ آزادی کا علم بلند کرنے والے مغربی ممالک اپنے وسائل سے طاقت پکڑنے والے اسرائیل کی تمام ناجائز حرکتوں کو فلسطینیوں و عربوں کے ظلم سے مزاحمت کا نام دینے کوشش کرتے ہیں۔ اسرائیل مشرق وسطی کی ایسی بدمعاش ریاست کا نام بن چکا ہے جو کسی بھی وقت کسی بھی ملک کو نشانہ بنا سکتا ہے اور امریکہ کی سربراہی میں دنیا کے طاقت ور ملک یہ اصول تسلیم کرتے ہیں کہ شاید یہ سب کچھ اسرائیل کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر عرب ممالک اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے اربوں ڈالر کی خریداری کررہے ہیں۔ ان کی جدید عسکری صلاحیت صلاحیت میں اضافہ ہورہا ہے لیکن کسی عرب ملک کے پاس اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر اسرائیلی منہ زور طاقت نے کسی دن ان کی طرف رخ کیا تو انہیں کون اسرائیلی عتاب سے بچائے گا؟ ایسے میں ٹرمپ کا ابراہم اکارڈ شاید ایسا واحد ہتھیار ہے جس کے ذریعے اسرائیل کی بالادستی مان کر اپنی حفاظت کی بھیک مانگی جاسکتی ہے۔ متعدد ممالک یہ راستہ چن چکے ہیں۔ اور اب صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ متعدد دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوکر اسرائیل کی ’حاکمیت‘ کو قبول کرلیں گے۔
اس سارے عمل میں فلسطینیوں کی خود مختاری، غزہ میں موت کے سائے اور اسرائیل کی خود سری سے کسی کو کوئی غرض نہیں۔ عالمی ضمیر فی الوقت محو استراحت ہے۔